Sunday, 29 January 2012

اسکی وہ الوداعی نشانی غضب کی تھی



اس کے لبوں پہ رات کہانی غضب کی تھی
جذبات بہہ رہے تھے روانی غضب کی تھی

راجہ بھی لاجواب تھا صحراء عشق کا
لیکن دیار حسن کی رانی غضب کی تھی

دیکھی ہیں شہر بھر میں بڑی کافر جوانیاں
لیکن جو اس پہ آئ جوانی غضب کی تھی

اس کا بدن تھا میر کا مصرع بنا ہوا
ہم میں بھی جستجوئے معانی غضب کی تھی

ہونٹوں پہ دھر گئی تھی قیامت کی تشنگی 
اسکی وہ الوداعی نشانی غضب کی تھی

ہم لوگ تو ازل سے ہیں وارفتہء سکوت
پھر چپ جو تھی بھی اس کی زبانی غضب کی تھی

عطا تراب


Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets