Monday, 10 December 2012

ابھی موسم نہیں بدلا


ابھی شادابیوں نے صبح کا آنگن نہیں دیکھا
ابھی دیوارودر سے خوف کے سائے نہیں سمٹے
ابھی حیلہ فروشی مکتبِ خواہش میں ٹھہری ہے
ابھی بھولی نہیں وہ داستاں جو ہم پہ گزری ہے
ابھی موسم نہیں بدلا
زباں بندی کے صحرا سے نکل تو آئے ہو لیکن
سخن کے شعلئہِ تائید کو ارزاں نہیں کرتے
نئے موسم کو حرفِ شوق کا عنوان نہیں کرتے
وہ موسم
جس میں تازہ کونپلیں ڈر کے نکلتی ہیں
ہر اک گھر اور ہر دہلیز پر پہرہ خزاں کا تھا
دعا کے بادباں پہ نام بھی نامِ گماں کا تھا
وہ موسم جس میں عفریتِ ہزیمت راج کرتا تھا
وہ کیا آسیب تھا جو اپنی گلیوں سے گزرتا تھا
کہ اب دیوار و در سے خوف کے سائے سمیٹے جائیں
کہ اب شادابیاں ٹھہریں
کہ اب موسم بدل جائے


Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets