Sunday, 9 December 2012

ہے بکھرنے کو یہ محفل ِرنگ و بُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے


ہے بکھرنے کو یہ محفل ِرنگ و بُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

ایک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر ِجاں، اور آباد جب شہر ِجاں ہو گیا
ہیں یہ سرگوشیاں دربدر کوبکو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہوں عمر برباد کر آئے ہیں
تھا سراب اپنا سرمایۂِ جستجو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

دشت میں رقص ِشوق ِبہار اب کہاں، بعدِ پیمائ دیوانہ وار اب کہاں
بس گزرنے کو ہے موسم ِہائے و ہُو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے


Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets