Tuesday, 11 December 2012

اس بے نام سے رشتے کو نبھاؤ کسی دن











اس بے نام سے رشتے کو نبھا جاؤ کسی دن
جو مل جائے کبھی فرصت تو پاس آ جاؤ کسی دن

ملتا ہے سبھی کچھ سبھی کو یہ سنا ہے
مجھ کو تو فقط تم ہی مل جاؤ کسی دن

برسوں سے یہ دل میرا خالی پڑا ہے
تم اپنے نام کی تختی ہی لگا جاؤ کسی دن

برسوں کی محبّت کو کس طرح بُھلاتے ہیں
مجھ کو بھی ہنر ایسا سکھا جاؤ کسی دن

مقدّر میں جو لکھا ہے نہ مٹے گا
فرصت ملے تو دل کو یہ سمجھاؤ کسی دن


Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets