Wednesday, 6 February 2013

تم محبت بھی موسم کی طرح نبھاتے ہو


تم محبت بھی موسم کی طرح نبھاتے ہو
کبھی برستے ہو کبھی اک بوند کو ترستے ہو

پل میں کہتے ہو زمانے میں فقط تیرے ہیں
پل میں اِظہار محبت سے مکر جاتے ہو

بھری محفل میں دشمنوں کی طرح ملتے ہو
اور دعاؤں میں میرا نام لئے جاتے ہو

دیارِ غیر میں مجھ کو تلاش کرتے ہو
ملوں تو پاس سے چپ چاپ گزر جاتے ہو

لاکھ موسم کی طرح رنگ بدلتے رہو
آج بھی ٹوٹ 
کے شدت سے ہمیں چاہتے ہو


Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets