Thursday, 14 February 2013

اک سمت پاس عشق کا تھا اک سمت اپنا مان


سب دیکھتے تھے اور کوئی سوچتا نہ تھا
جیسے یہ کوئی کھیل تھا اک واقعہ نہ تھا

لکھتے بیاض وقت پر ہم کیا تاثرات
سب کچھ تھا درج اور کوئی حاشیہ نہ تھا

'آپس کی ایک بات تھی' دونوں کے درمیاں
اے اہل شہر آپ کا یہ مسئلہ نہ تھا

تیری گلی میں گئے تھے بس تجھ کو دیکھنے
اس کے سوا ہمارا کوئی مدعا نہ تھا

تھے ثبت حکم ہجر پر اس کے بھی دستخط
تقدیر ہی کا لکھا ہوا فیصلہ نہ تھا

اک سمت پاس عشق کا تھا اک سمت اپنا مان
کیسے گریز کرتے کوئی راستہ نہ تھا

امجد یہ اقتدار کا حلقہ عجیب ہے
چاروں طرف تھے عکس کوئی آئینہ نہ تھا
Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets