Wednesday, 26 June 2013

مری محبت کا پہلا اور آخری اثاثہ


تمھیں تو شاید خبر نہیں ہے
مِرے بدن میں تمھارے چھونے سے
سنسناہٹ سی جاگتی تھی
وہ جم گئی ہے
تمھاری آواز میری رگ رگ میں
تھم گئی ہے
تمھیں تو شاید خبر نہیں ہے
مگر تمھاری حسین پوروں
کی دسترس میں جو ہونٹ تھے

اُن گلابی ہونٹوں کی سلوٹیں
خشک ہوگئی ہیں
تمھیں تو شاید خبر نہیں ہے
کہ چاند راتوں میں
لائبریری کی سیڑھیوں کے اُداس گوشے میں
تم نے مجھ کو بہت مقدس قرار دے کر
کہا تھا
’’تم میری زندگی ہو ‘‘
تمھیں تو شاید خبر نہیں ہے
وہ لفظ اب بھی وہیں کہیں ہیں
تمھیں تو شاید خبر نہیں ہے
کہ آخری روز جاتے جاتے
مری اجازت سے میرے ماتھے پہ
ایک بوسہ سجا گئے تھے
مری محبت کا پہلا اور آخری اثاثہ

اُداس کیمپس کی نہرپر بے پناہ تقدس
لیے وہ بوسہ وہیں پڑا ہے
تم اپنے گھر کو چلے گئے ہو
مَیں اور کی دسترس میں ہوں اب
مرے تمھارے خیال، سوچیں، مزاج تک تو بدل گئے ہیں
مگر کبھی تم اُدھر سے گزرو
تو آج بھی تم کو دھیرے دھیرے
وہ بوسہ روتا سنائی دے گا
مری محبت کا پہلا اور آخری اثاثہ
مگر تمھیں تو خبر نہیں ہے
مگر تمھیں تو خبر نہیں ہے…

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets