Wednesday, 14 August 2013

ھم شہر محبت کے فقیروں کی طرح تھے


شاہوں کی طرح تھے نہ امیروں کی طرح تھے
ھم شہر محبت کے فقیروں کی طرح تھے

دریاؤں میں ھوتے تھے جزیروں کی طرح ھم
صحراؤں میں پانی کے ذخیروں کی طرح تھے

افسوس کہ سمجھا نہ ھمیں اھل نظر نے
ھم وقت کی زنبیل میں ھیروں کی طرح تھے

حیرت ھے کہ وہ لوگ بھی اب چھوڑ چلے ھیں
جو میری ھتھیلی پہ لکیروں کی طرح تھے

سوچی نہ بری سوچ کبھی ان کے لۓ بھی
پیوست میرے دل میں جو تیروں کی طرح تھے

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets