Friday, 20 September 2013

کس سے پوچھوں کہ کہاں ہے میرا رونے والا


پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس نہ لے کہیں خاک بسر سناٹا

دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

کس سے پوچھوں کہ کہاں ہے میرا رونے والا
اس طرف میں ہوں، میرے گھر سے ادھر سناٹا

تو صداؤں کے بھنور سے مجھے آواز تو دے
تجھ کو دے گا میرے ہونے کی خبر سناٹا

اس کو ہنگامہ منزل کی خبر کیا دو گے
جس نے پایا ہو سر رہگزر سناٹا

حاصل کنج قفس، وہم بکف تنہائی
رونق شام سفر ، تا بہ سحر سناٹا

قسمت شاعر سیماب صفت، دشت کی موت
قیمت ریزہ الماس ہنر سناٹآ

جان محسن میری تقدیر میں کب لکھا ہے
ڈوبتا چاہند، ترا قرب، گجر، سناٹآ

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets