Thursday, 26 September 2013

ایک یاد باقی ہے


جھیل کی اداسی میں 
بے دلی کی دلدل پر 
بے خبر سے منظر ہیں 
درد کے سمندر میں 
ایک یاد باقی ہے 
آنکھ میں خزاں رت ہے 
گرد اڑاتی رہتی ہے 
پھر بھی ایک کونے میں 
اک گلاب باقی ہے 
ایک یاد باقی ہے 
Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets