Tuesday, 24 September 2013

گزر گئی جو تیرے ساتھ ' یادگار ھے وہ


عجیب کرب میں گزری ' جہاں گزری
اگرچہ چاھنے والوں کے ' درمیاں گزری

تمام عمر جلاتے رھے ' چراغ ِامید
تمام عمر اُمیدوں کے ' درمیاں گزری

گزر گئی جو تیرے ساتھ ' یادگار ھے وہ
تیرے بغیر جو گزری ' بلائے جاں گزری

مجھے سکون میّسر نہیں تو ' کیا غم ھے
... گُلوں کی عمر تو کانٹوں کے ' درمیاں گزری

عجیب چیز ھے ' یہ گردش ِزمانہ بھی
کبھی زمیں پہ ' کبھی مثل ِآسماں گزری

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets