Wednesday, 6 November 2013

ہم جانے اعتبار کے کِس مرحلے میں تھے


آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے 
کل شب عجیب عکس مِرے آئنے میں تھے 

سارے دھنک کے رنگ تھے اُس کے لباس میں 
خُوشبو کے سارے اَنگ اُسے سوچنے میں تھے 

ہر بات جانتے ہُوئے دِل مانتا نہ تھا 
ہم جانے اعتبار کے کِس مرحلے میں تھے 

وصل و فراق دونوں ہیں اِک جیسے ناگزیر 
کُچھ لطف اُس کے قُرب میں، کُچھ فاصلے میں تھے 

سیلِ زماں کی موج کو ہر وار سہہ گئے 
وہ دن، جو ایک ٹاٹے ہُوئے رابطے میں تھے 

غارت گری کے بعد بھی روشن تھیں بستیاں 
ہارے ہُوئے تھے لوگ مگر حوصلے میں تھے 

ہِر پھر کے آئے نقطئہ آغاز کی طرف 
جتنے سفر تھے اپنے کِسی دائرے میں تھے 

آندھی اُڑاکے لے گئی جس کو ابھی ابھی 
منزل کے سب نشان اُسی راستے میں تھے 

چُھولیں اُسے کہ دُور سے بس دیکھتے رہیں! 
تارے بھی رات میری طرح، مخمصے میں تھے 

جُگنو، ستارے، آنکھ، صبا، تتلیاں، چراغ 
سب اپنے اپنے غم کے کِسی سلسلے میں تھے

جتنے تھے خط تمام کا تھا ایک زاویہ 
پھر بھی عجیب پیچ مِرے مئسلے میں تھے 

امجد کتابِ جاں کو وہ پڑھتا بھی کِس طرح  
لکھنے تھے جتنے لفظ، ابھی حافظے میں تھے

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets