Friday, 12 September 2014

اَن سُنے لفظ



کسی ریگزار کی دھوپ میں وہ جو قافلے تھے بہار کے 
وہ جو اَن کھلے سے گلاب تھے 
وہ جو خواب تھے میری آنکھ میں 
جو سحاب تھے تیری آنکھ میں 
وہ بکھر گئے، کہیں راستوں میں غبار کے ! 
وہ جو لفظ تھے دمِ واپسیں 
میرے ہونٹ پر 
تیرے ہونٹ پر 
انہیں کوئی بھی نہیں سُن سکا 
وہ جو رنگ تھے سرِ شاخِ جاں 
تیرے نام کے 
میرے نام کے 
انہیں کوئی بھی نہیں چُن سکا۔ 

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets