Monday, 26 October 2015

پروین شاکر کی تمام غزلیں



قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلانے آئے
وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے

میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے
وہ مرے گھر کے دَر و بام سجانے آئے

اُس سے اِک بار تو رُوٹھوں میں اُسی کی مانند
اور مری طرح سے وہ مُجھ کو منانے آئے

اِسی کوچے میں کئی اُس کے شناسا بھی تو ہیں
وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے

اب نہ پُوچھوں گی میں کھوئے ہوئے خوابوں کا پتہ
وہ اگر آئے تو کُچھ بھی نہ بتانے آئے

ضبط کی شہر پناہوں کی، مرے مالک!خیر
غم کا سیلاب اگر مجھ کو بہانے آئے
۔۔۔۔

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
رات بھر جاگی ہوئی جیسے دُلہن کی خوشبو

پیرہن میرا مگر اُس کے بدن کی خوشبو
اُس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو

موجۂ گُل کو ابھی اِذنِ تکلم نہ ملے
پاس آتی ہے کسی نرم سخن کی خوشبو

قامتِ شعر کی زیبائی کا عالم مت پُوچھ
مہربان جب سے ہے اُس سرد بدن کی خوشبو

ذکر شاید کسی خُورشید بدن کا بھی کرے
کُو بہ کُو پھیلی ہُوئی میرے گہن کی خوشبو

عارضِ گُل کو چھُوا تھا کہ دھنک سی بکھری
کِس قدر شوخ ہے ننھی سی کرن کی خوشبو

کِس نے زنجیر کیا ہے رمِ آہو چشماں
نکہتِ جاں ہے انہیں دشت و دمن کی خوشبو

اِس اسیری میں بھی ہر سانس کے ساتھ آتی ہے
صحنِ زنداں میں انہیں دشت وطن کی خوشبو
۔۔۔۔

چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی

شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی

ایسے موسم بھی گزارے ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں ، شامیں اُس کی

دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی
آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی

رنگ جوئندہ وہ، آئے تو سہی!
آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی

فیصلہ موجِ ہَوا نے لکھا!
آندھیاں میری ، بہاریں اُس کی

خُود پہ بھی کھُلتی نہ ہو جس کی نظر
جانتا کون زبانیں اُس کی

نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر
کس طرح کٹتی ہیں راتیں اُس کی

دُور رہ کر بھی سدا رہتی ہیں
مُجھ کو تھامے ہُوئے باہیں اُس کی
۔۔۔۔

ہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہو
کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حِنائی ہو!

کوئی تو ہو جو مرے تن کو روشنی بھیجے
کِسی کا پیار ہَوا میرے نام لائی ہو!

گلابی پاؤں مرے چمپئی بنانے کو
کِسی نے صحن میں مہندی کی باڑھ اُگائی ہو

کبھی تو مرے کمرے میں ایسا منظر بھی
بہار دیکھ کے کھڑکی سے ، مُسکرائی ہو

وہ سوتے جاگتے رہنے کا موسموں فسوں
کہ نیند میں ہوں مگر نیند بھی نہ آئی ہو
۔۔۔۔۔

ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ
اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ

ہَوا! مرے جُوڑے میں پھُول سجاتی جا
دیکھ رہی ہوں اپنے من موہن کی راہ

اُس کی خفگی جاڑے کی نرماتی دھُوپ
پارو سکھی! اس حّدت کو ہنس کھیل کے سہہ

آج تو سچ مچ کے شہزادے آئیں گے
نندیا پیاری! آج نہ کُچھ پریوں کی کہہ

دوپہروں میں جب گہرا سناٹا ہو
شاخوں شاخوں موجِ ہَوا کی صُورت بہہ
۔۔۔۔

بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
 وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو

خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
 اُس کے چہرے پہ لکھا تھا، لوگو

اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
 رات بھر وہ بھی نہ سویا، لوگو

اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
 تھا کِسی وقت میں اپنا ، لوگو

دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
 اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا، لوگو

رات وہ درد مرے دل میں اُٹھا
 صبح تک چین نہ آیا ، لوگو

پیاس صحراؤں کی پھر تیز ہُوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا، لوگو
۔۔۔۔

چارہ گر، ہار گیا ہو جیسے
اب تو مرنا ہی دَوا ہو جیسے

مُجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے بھی مگر
اب کے یہ زخم نیا ہو جیسے

میرے ماتھے پہ ترے پیار کا ہاتھ
رُوح پر دست صبا ہو جیسے

یوں بہت ہنس کے ملا تھا لیکن
دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے

سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے
زیست مفلس کی رِدا ہو جیسے
۔۔۔۔۔

اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں
اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کھُل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

شام بھی ہو گئی، دھُندلا گئیں آنکھیں بھی مری
بھُولنے والے، میں کب تک ترا رَستا دیکھوں

ایک اِک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خُود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

کاش صندل سے مری مانگ اُجالے آ کر
اتنے غیروں میں وہی ہاتھ ، جو اپنا دیکھوں

تو مرا کُچھ نہیں لگتا ہے مگر جانِ حیات!
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں!

بند کر کے مِری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے
بُوجھے جانے کا میں ہر روز تماشہ دیکھوں

سب ضِدیں اُس کی میں پوری کروں ، ہر بات سُنوں
ایک بچے کی طرح سے اُسے ہنستا دیکھوں

مُجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رُت میں مہکتا دیکھوں

پھُول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھِل جائے
پنکھڑی پنکھڑی اُن ہونٹوں کا سایا دیکھوں

میں نے جس لمحے کو پُوجا ہے، اُسے بس اِک بار
اب بن کر تری آنکھوں میں اُترتا دیکھوں

تو مری طرح سے یکتا ہے، مگر میرے حبیب!
میں آتا ہے، کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں
ٹُوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے
تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں
۔۔۔۔
سکوں بھی خواب ہُوا، نیند بھی ہے کم کم پھر
 قریب آنے لگا دُوریوں کا موسم پھر

بنا رہی ہے تری یاد مُجھ کو سلکِ کُہر
 پرو گئی مری پلکوں میں آج شبنم پھر

وہ نرم لہجے میں کُچھ کہہ رہا ہے پھر مُجھ سے
 چھڑا ہے پیار کے کومل سُروں میں مدھم پھر

تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سُنوں
 اُلجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

نہ اُس کی بات میں سمجھوں نہ وہ مری نظریں
 معاملاتِ زباں ہو چلے ہیں مبہم پھر

یہ آنے والا نیا دُکھ بھی اُس کے سر ہی گیا
 چٹخ گیا مری انگشتری کا نیلم پھر

وہ ایک لمحہ کہ جب سارے رنگ ایک ہوئے
 کِسی بہار نے دیکھا نہ ایسا سنگم پھر
بہت عزیز ہیں آنکھیں مری اُسے، لیکن
وہ جاتے جاتے انہیں کر گیا ہے پُر نم پھر
۔۔۔۔۔
پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
دست گُل پھیلا ہُوا ہے مرے آنچل کی طرح

 کہہ رہا ہے کسی موسم کی کہانی اب تک
 جسم برسات میں بھیگے ہُوئے جنگل کی طرح

اُونچی آواز میں اُس نے تو کبھی بات نہ کی
خفگیوں میں بھی وہ لہجہ رہا کومل کی طرح

 مِل کے اُس شخص سے میں لاکھ خموشی سے چلوں
 بول اُٹھتی ہے نظر، پاؤں کی چھاگل کی طرح

پاس جب تک وہ رہے ، درد تھما رہتا ہے
پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح

 اَب کسی طور سے گھر جانے کی صُورت ہی نہیں
 راستے میرے لیے ہو گئے دلدل کی طرح

جسم کے تیرہ و آسیب زدہ مندر میں
دل سرِ شام سُلگ اُٹھتا ہے صندل کی طرح
۔۔۔۔۔

وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا
 براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا

وہ شہر چھوڑ کے جانا تو کب سے چاہتا تھا
 یہ نوکری کا بُلاوا تو اِک بہانہ ہوا

خُدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں
 یہ آنکھیں جن کو کبھی دُکھ کا حوصلہ نہ ہُوا

کنارِ صحن چمن سبز بیل کے نیچے
 وہ روز صبح کا مِلنا تو اَب فسانہ ہُوا

میں سوچتی ہوں کہ مُجھ میں کمی تھی کِس شے کی
 کہ سب کا ہوکے رہا وہ، بس اِک مرا نہ ہُوا

کِسے بُلاتی ہیں آنگن کی چمپئی شامیں
 کہ وہ اَب اپنے نئے گھر میں بھی پرانا ہُوا

دھنک کے رنگ میں ساری تو رنگ لی میں نے
اور  اب یہ دُکھ ، کہ پہن کر کِسے دِکھانا ہُوا

میں اپنے کانوں میں بیلے کے پھُول کیوں پہنوں
زبانِ رنگ سے کِس کو مُجھے بُلانا ہُوا
۔۔۔۔۔

وہ عکسِ موجۂ گل تھا، چمن چمن میں رہا
وہ رنگ رنگ میں اُترا، کرن کرن میں رہا

وہ نام حاصلِ فن ہوکے میرے فن میں رہا
کہ رُوح بن کے مری سوچ کے بدن میں رہا

سکونِ دل کے لیے میں کہاں کہاں نہ گئی
مگر یہ دل، کہ سدا اُس کی انجمن میں رہا

وہ شہر والوں کے آگے کہیں مہذب تھا
وہ ایک شخص جو شہروں سے دُور بَن میں رہا

چراغ بجھتے رہے اور خواب جلتے رہے
عجیب طرز کا موسم مرے وطن میں رہا
۔۔۔۔

تمام رات میرے گھر کا ایک در کھُلا رہا
 میں راہ دیکھتی رہی وہ راستہ بدل گیا

وہ شہر ہے کہ جادوگرنیوں کا کوئی دیس ہے
 وہاں تو جو گیا، کبھی بھی لوٹ کر نہ آ سکا

میں وجہِ ترکِ دوستی کو سُن کر مُسکرائی تو
 وہ چونک اُٹھا۔عجب نظر سے مجھ کو دیکھنے لگا

بچھڑ کے مُجھ سے، خلق کو عزیز ہو گیا ہے تُو
 مجھے تو جو کوئی ملا، تجھی کو پُوچھتا رہا

وہ دلنواز لمحے بھی گئی رُتوں میں آئے۔ جب
 میں خواب دیکھتی رہی، وہ مجھ کو دیکھتا رہا

وہ جس کی ایک پل کی بے رُخی بھی دل کو بار تھی
 اُسے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔مجھ کو بھُول جا

دمک رہا ہے ایک چاند سا جبیں پہ اب تلک
گریز پا محبتوں کا کوئی پل ٹھہر گیا
۔۔۔۔۔

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بھُول پڑے وہ

بھُولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!

کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ

الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی، یوں پھُول جھڑے وہ

ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں
سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ

بچے کی طرح چاند کو چھُونے کی تمنا
دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ

طوفاں ہے تو کیا غم، مجھے آواز تو دیجے
کیا بھُول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
۔۔۔۔۔

یہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیں
 کوئی تو سمجھا دیارِ غیر میں اپنا ہمیں

وہ کہ جن کے ہاتھ میں تقدیرِ فصل گُل رہی
 دے گئے سُوکھے ہُوئے پتوں کا نذرانہ ہمیں

وصل میں تیرے خرابے بھی لگیں گھر کی طرح
 اور تیرے ہجر میں بستی بھی ویرانہ ہمیں

سچ تمھارے سارے کڑوے تھے، مگر اچھے لگے
 پھانس بن کر رہ گیا بس ایک افسانہ ہمیں

اجنبی لوگوں میں ہو تم اور اِتنی دُور ہو
 ایک اُلجھن سی رہا کرتی ہے روزانہ ہمیں
ق
سُنتے ہیں قیمت تمھاری لگ رہی ہے آج کل
سب سے اچھے دام کس کے ہیں ، یہ بتلانا ہمیں

تاکہ اُس خوش بخت تاجر کو مبارکباد دیں
(اور اُس کے بعد دل کو بھی ہے سمجھانا ہمیں)
۔۔۔۔۔

چراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیا
ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا

میں پھُول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہُوئی
وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا

بہت عزیز سہی اُس کو میری دلداری
مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دُکھا بھی گیا

اب اُن دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں
وہ تاک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا

سب آئے میری عیادت کو، وہ بھی آیا
جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا

یہ غربتیں مری آنکھوں میں کسی اُتری ہیں
کہ خواب بھی مرے رُخصت ہیں ، رتجگا بھی گیا
۔۔۔۔۔

لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے
وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے

خوشبو تو سانس لینے کو ٹھہری تھی راہ میں
ہم بدگماں ایسے کہ گھر کو پلٹ گئے

ملنا __ دو بارہ ملنے کو وعدہ __ جُدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے

روئی ہوں آج کھُل کے، بڑی مُدتوں کے بعد
بادل جو آسمان پہ چھائے تھے، چھٹ گئے

کِس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں کل
آئی ہوا تو کِتنے ورق ہی اُلٹ گئے

شہرِ وفا میں دھُوپ کا ساتھی کوئی نہیں
سُورج سروں پہ آیا تو سائے بھی گھٹ گئے

اِتنی جسارتیں تو اُسی کو نصیب تھیں
جھونکے ہَوا کے، کیسے گلے سے لپٹ گئے

دستِ ہَوا نے جیسے درانتی سنبھال لی
اب کے سروں کی فصل سے کھلیان پٹ گئے
۔۔۔۔۔۔

نیند تو خواب ہو گئی شاید
جنس نایاب ہو گئی شاید

اپنے گھر کی طرح وہ لڑکی بھی
نذرِ سیلاب ہو گئی شاید

تجھ کو سوچوں تو روشنی دیکھوں
یاد ، مہتاب ہو گئی شاید

ایک مدت سے آنکھ روئی نہیں
جھیل پایاب ہو گئی شاید

ہجر کے پانیوں میں عشق کی ناؤ
کہیں غرقاب ہو گئی شاید

چند لوگوں کی دسترس میں ہے
زیست کم خواب ہو گئی شاید
۔۔۔۔۔۔

چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں! 
جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں!

اے مجھے جاگتا پاتی ہُوئی رات
وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں!

بھیڑ میں کھویا ہُوا بچہ تھا 
اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں!

مجھ کو تکمیل سمجھنے والا 
اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں!

گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے
دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں!

بند کمرے میں کبھی میری طرح 
شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں!

میری خود داری برتنے والے!
 تیرا پندار بھی ٹوٹا کہ نہیں!

 الوداع ثبت ہُوئی تھی جس پر 
اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں!
۔۔۔۔۔

کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
۔۔۔۔۔

سبز موسم کی خبر لے کے ہَوا آئی ہو
 کام ، پت جھڑ کے اسیروں کی دُعا آئی ہو

لَوٹ آئی ہو وہ شب جس کے گُزر جانے پر
 گھاٹ سے پائلیں بجنے کی صدا آئی ہو

اِسی اُمید میں ہر موجِ ہَوا کو چُوما
 چھُو کے شاید میرے پیاروں کی قبا آئی ہو

گیت جِتنے لِکھے اُن کے لیے اے موج صبا!
 دل یہی چاہا کہ تو اُن کو سُنا آئی ہو

 آہٹیں صرف ہَواؤں کی ہی دستک نہ بنیں
 اب تو دروازوں پہ مانوس صدا آئی ہو

یُوں سرِ عام، کھُلے سر میں کہاں تک بیٹھوں
 کِسی جانب سے تو اَب میری ردا آئی ہو

جب بھی برسات کے دن آئے ، یہی جی چاہا
 دھُوپ کے شہر میں بھی گھِر کے گھٹا آئی ہو

تیرے تحفے تو سب اچھے ہیں مگر موجِ بہار!
اب کے میرے لیے خوشبوئے حِنا آئی ہو
۔۔۔۔۔

دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا
مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا

اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اُس کو
کچھ تو لازم ہُوا وحشت کرنا

جُرم کس کا تھا سزا کِس کو مِلی
کیا گئی بات پہ حُجت کرنا

کون چاہے گا تمھیں میری طرح
اب کِسی سے نہ محبت کرنا

گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے
وقت مِل جائے تو زحمت کرنا
۔۔۔۔

خیال و خواب ہُوا برگ و بار کا موسم
بچھڑ گیا تری صُورت، بہار کا موسم

کئی رُتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم

وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لَوٹ آئے
سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم

پیام آیا ہے پھر ایک سرو قامت کا
مرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم

وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہے
مرے بدن کو مِلا ہے چنار کا موسم

رفاقتوں کے نئے خواب خُوش نما ہیں مگر
گُزر چکا ہے ترے اعتبار کا موسم

ہَوا چلی تو نئی بارشیں بھی ساتھ آئیں
زمیں کے چہرے پہ آیا نکھار کا موسم

وہ میرا نام لیے جائے اور میں اُس کا نام
لہو میں گُونج رہا ہے پکار کا موسم

قدم رکھے مری خُوشبو کہ گھر کو لَوٹ آئے
کوئی بتائے مُجھے کوئے یار کا موسم

وہ روز آ کے مجھے اپنا پیار پہنائے
مرا غرور ہے بیلے کے ہار کا موسم

ترے طریقِ محبت پہ با رہا سوچا
یہ جبر تھا کہ ترے اختیار کا موسم
۔۔۔۔۔

گرد چہرے پر قبائے خاک تن پر سج گئی
رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی

جا چکے موسم کی خوشبو ، صورتِ تحریرِ گل
یاد کے ملبوس کی اک اک شِکن پر سج گئی

میں تو شبنم تھی ہتھیلی پر ترے گُم ہو گئی
وہ ستارہ تھی سو تیرے پیرہن پر سج گئی

کُچھ تو شہرِ درد کا احوال آنکھوں نے کہا
اور کچھ گلیوں کی سفاکی تھکن پر سج گئی
۔۔۔۔

عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں
میں ان سے خود کو ضرب دُوں کہ منُقسم کر لوں

میں آندھیوں کی مزاج آشنا رہی ہوں مگر
خُود اپنے ہاتھ سے کیوں گھر کو منہدم کر لوں

بچھڑنے والوں کے حق میں کوئی دُعا کر کے
شکستِ خواب کی ساعت محتشم کر لوں

بچاؤ شیشوں کے گھر کا تلاش کر ہی لیا
یہی کہ سنگ بدستوں کا مُنصرم کر لوں

میں تھک گئی ہوں اِس اندر کی خانہ جنگی سے
بدن کو ’’سامرا‘‘ آنکھوں کو ’’معتصمِ‘‘ کر لوں

مری گلی میں کوئی شہر یار آتا ہے
ملا ہے حکم کہ لہجے کو محترم کر لوں
۔۔۔۔

سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے 
 دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے

کیوں بات زباں سے کہہ کے کھوئی
دل آج بھی ہاتھ مَل رہا ہے

راتوں کے سفر میں وہم سا تھا 
 یہ میں ہوں کہ چاند چل رہا ہے

ہم بھی ترے بعد جی رہے ہیں
 اور تُو بھی کہیں بہل رہا ہے

سمجھا کے ابھی گئی ہیں سکھیاں
اور دل ہے کہ پھر مچل رہا ہے

ہم ہی بُرے ہو گئے __کہ تیرا 
 معیارِ وفا بدل رہا ہے

پہلی سی وہ روشنی نہیں اب
کیا درد کا چاند ڈھل رہا ہے
۔۔۔۔۔

دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے
 تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے

ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے
 یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے

اب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا
 میں مطمئن ہوں ، مرا دل تری پناہ میں ہے

بکھر چُکا ہے مگر مُسکرا کے ملتا ہے
 وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے

جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے
 وہ اِک مکا ن ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے

یہی وہ دن تھے جب اِک دوسرے کو پایا تھا
 ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی
مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے!
۔۔۔۔۔

آنگنوں میں اُترا ہے بام و در کا سناٹا
 میرے دل پہ چھایا ہے میرے گھر کا سناٹا

رات کی خموشی تو پھر بھی مہرباں نکلی
 کِتنا جان لیوا ہے دوپہر کا سناٹا

صُبح میرے جُوڑے کی ہر کلی سلامت نکلی
 گونجتا تھا خوشبو میں رات بھر کا سناٹا

اپنی دوست کو لے کر تم وہاں گئے ہو گے
 مجھ کو پوچھتا ہو گا رہگزر کا سناٹا

خط کو چُوم کر اُس نے آنکھ سے لگایا تھا 
 کُل جواب تھا گویا لمحہ بھر کا سناٹا

تُو نے اُس کی آنکھوں کو غور سے پڑھا قاصد!
کُچھ تو کہہ رہا ہو گا اُس نظر کا سناٹا

۔۔۔۔۔

آنکھوں سے میری، کون مرے خواب لے گیا
 چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا

اِس شہرِ خوش جمال کو کِس کی لگی ہے آہ
 کِس دل زدہ کا گریہ خونناب لے گیا

کُچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دُور تھا
 کُچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا

واں شہر ڈُوبتے ہیں ، یہاں بحث کہ اُنہیں
 خُم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا

کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
 شاید اُنہیں بہا کے کوئی خواب لے گیا

طوفان اَبر و باد میں سب گیت کھو گئے
 جھونکا ہَوا کا ہاتھ سے مِضراب لے گیا

غیروں کی دشمنی نے نہ مارا، مگر ہمیں
 اپنوں کے التفات کا زہر اب لے گیا
اے آنکھ!اب تو خواب کی دُنیا سے لوٹ آ
’’مژگاں تو کھول!شہر کو سیلاب لے گیا!
۔۔۔۔۔

شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا 
سِوا ہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا 
 ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا

جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا
 اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا

سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے
 جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا

ردا چھٹی مرے سر سے، مگر میں کیا کہتی
 کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا

ملے تو ایسے، رگِ جاں کو جیسے چھُو آئے
 جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا

کوئی سوال جو پُوچھے ، تو کیا کہوں اُس سے 
بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا

میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ، مجھے خبر ہی نہ تھی
 تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا

نہ دے سکا مجھے تعبیر، خواب تو بخشے
میں احترام کروں گی تری بڑائی کا
۔۔۔۔۔

جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر
شِہرِ نا معلوم کی چاہت مگر کرتے رہے

ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو
تیرے جانے کی خبر دیوار و دَر کرتے رہے

وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا، اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر، کرتے رہے

آج آیا ہے ہمیں بھی اُن اُڑانوں کا خیال
جن کو تیرے زعم میں ، بے بال و پر کرتے رہے

۔۔۔۔۔

چراغِ ماہ لیے تجھ کو ڈھونڈتی گھر گھر
 تمام رات میں یاقوت چُن رہی تھی مگر

یہ کیا کہ تری خوشبو کا صرف ذکر سُنوں
 تو عکسِ موجۂ گُل ہے تو جسم و جاں میں اُتر

ذرا یہ حبس کٹے، کھُل کے سانس لے پاؤں
 کوئی ہوا تو رواں ہو، صبا ہو یا صَر صَر

گئے دنوں کے تعاقب میں تتلیوں کی طرح
 ترے خیال کے ہمراہ کر رہی ہوں سفر

ٹھہر گئے ہیں قدم، راستے بھی ختم ہُوئے
 مسافتیں رگ و پے میں اُتر رہی ہیں مگر

میں سوچتی تھی، ترا قرب کچھ سکوں دے گا
 اُداسیاں ہیں کہ کُچھ اور بڑھ گئیں مِل کر

ترا خیال، کہ ہے تارِ عنکبوت تمام
مرا وجود، کہ جیسے کوئی پُرانا کھنڈر

۔۔۔۔۔

نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں
اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں

رنج سہنے کی مرے دل میں تب و تاب کہاں
اور یہ بھی ہے کہ پہلے سے وہ اعصاب کہاں

مَیں بھنور سے تو نکل آئی، اور اب سوچتی ہوں
موجِ ساحل نے کیا ہے مجھے غرقاب کہاں

مَیں نے سونپی تھی تجھے آخری پُونجی اپنی
چھوڑ آیا ہے مری ناؤ تہِ آب کہاں

ہے رواں آگ کا دریا مری شریانوں میں
موت کے بعد بھی ہو پائے گا پایاب کہاں

بند باندھا ہے سَروں کا مرے دہقانوں نے
اب مری فصل کو لے جائے گا سیلاب کہاں
۔۔۔۔۔

 گونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھے
کس کو چشم شب میں ستارا کیا مجھے

زخمِ ہُنر کو سمجھے ہُوئے گُلِ ہنر
کس شہرِ نا سپاس میں پیدا کیا مجھے

جب حرف نا شناس یہاں لفظ فہم میں
کیوں ذوقِ شعر دے کے تماشا کیا مجھے

خوشبو ہے، چاندنی ہے، لبِ جُو ہے اور میں
کس بے پناہ رات میں تنہا کیا مجھے

دی تشنگی خدا نے تو چشمے بھی دے دیے
سینے میں دشت، آنکھوں میں دریا کیا مجھے

مَیں یوں سنبھل گئی کہ تری بے وفائی نے
بے اعتباریوں سے شناسا کیا مجھے

وہ اپنی ایک ذات میں کُل کائنات تھا
دُنیا کے ہر فریب سے مِلوا دیا مجھے

ق
اوروں کے ساتھ میرا تعارف بھی جب ہُوا
ہاتھوں میں ہاتھ لے کر وہ سوچا کیا مجھے

بیتے دنوں کا عکس نہ آئندہ کا خیال
بس خالی خالی آنکھوں سے دیکھا کیا مجھے
۔۔۔۔۔

زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
 ہار کے بعد مسکراؤ کبھی

ترکِ اُلفت کے بعد اُمید وفا 
 ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی!

اب جفا کی صراحتیں بیکار
بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی

شاخ سے موجِ گُل تھمی ہے کہیں! 
 ہاتھ سے رُک سکا بہاؤ کبھی

اندھے ذہنوں سے سوچنے والوں
 حرف میں روشنی ملاؤ کبھی

بارشیں کیا زمیں کے دُکھ بانٹیں
 آنسوؤں سے بُجھا الاؤ کبھی

اپنے اسپین کی خبر رکھنا
کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی!
۔۔۔۔۔

سمندروں کے اُدھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھُلے ، ہَوا آئی

سرک گئے تھے جو آنچل، وہ پھر سنور سے گئے
کھُلے ہُوئے تھے جو سر ، اُن پہ پھر رِدا آئی

اُتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھُو کے مرے شہر میں صبا آئی

اُسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی

کہیں رہے وہ ، مگر خیریت کے ساتھ رہے
اُٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دُعا آئی
۔۔۔۔۔

تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

بچپنے کا ساتھ ہے، پھر ایک سے دونوں کے دُکھ
رات کا اور میرا آنچل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

وہ عجب دنیا کہ سب خنجر بکف پھرتے ہیں ۔۔اور
کانچ کے پیالوں میں صندل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

بارشِ سنگِ ملامت میں بھی وہ ہمراہ ہے
میں بھی بھیگوں ، خود بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

لڑکیوں کے دُکھ عجب ہوتے ہیں ، سُکھ اُس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

بارشیں جاڑے کی اور تنہا بہت میرا کساں
جسم کا اکلوتا کمبل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
۔۔۔۔۔۔

عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیرے
چہرے پہ خاک ، زخم پہ خوشبو بکھیرے

کوئی گزرتی رات کے پچھلے پہر کہے
لمحوں کو قید کیجئے ، گیسو بکھیریے

دھیمے سُروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑیے
ٹھہری ہُوئی ہَواؤں میں جادُو بکھیریے

گہری حقیقتیں بھی اُترتی رہیں گی پھر
خوابوں کی چاندنی تو لبِ جُو بکھریے

دامانِ شب کے نام کوئی روشنی تو ہو
تارے نہیں نصیب تو آنسو بکھیریے

دشتِ غزال سے کوئی خوبی تو مانگیے
شہرِ جمال میں رمِ آہو بکھیریے
۔۔۔۔۔

بجا کہ آنکھوں میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
شکستِ خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں

نہیں نہیں! یہ خبر دشمنوں نے دی ہو گی
وہ آئے! آ کے چلے بھی گئے!ملے بھی نہیں!

یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں
ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں

ابھی سے میرے رفوگر کے ہاتھ تھکنے لگے
ابھی تو چاک مرے زخم کے سِلے بھی نہیں

خفا اگرچہ ہمیشہ ہُوئے مگر اب
وہ برہمی ہے کہ ہم سے انہیں گِلے بھی نہیں

متاعِ قلب و جگر ہیں ، ہمیں کہیں سے ملیں
مگر وہ زخم جو اُس دستِ شبنمیں سے ملیں

نہ شام ہے ، نہ گھنی رات ہے ، نہ پچھلا پہر
عجیب رنگ تری چشمِ سُرمگیں سے ملیں

میں اِس وصال کے لمحے کا نام کیا رکھوں
ترے لباس کی شِکنیں تری جبیں سے ملیں

ستائش مرے احباب کی نوازش ہیں
مگر صلے تو مجھے اپنے نکتہ چیں سے ملیں

تمام عُمر کی نا معتبر رفاقت سے
کہیں بھلا ہو کہ پَل بھر ملیں ، یقیں سے ملیں

یہی رہا ہے مقدر، مرے کسانوں کا
کہ چاند بوئیں اور ان کو گہن زمیں سے ملیں
۔۔۔۔
وہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھُول کا ہے ، پھُول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے ، بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا، گُزر جائے گا

وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہو گی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے ، اُتر جائے گا

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جُرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
 ۔۔۔۔۔

پانیوں پانیوں جب چاند کا ہالہ اُترا
نیند کی جھیل پہ اِک خواب پرانا اُترا

آزمائش میں کہاں عشق بھی پُورا اُترا
حسن کے آگے تو تقدیر کا لکھا اُترا

دھُوپ ڈھلنے لگی، دیوار سے سایا اُترا
سطح ہموار ہُوئی، پیار کا دریا اُترا

یاد سے نام مٹا، ذہن سے چہرہ اُترا
چند لمحوں میں نظر سے تری کیا کیا اُترا

آج کی شب میں پریشاں ہوں تو یوں لگتا ہے
آج مہتاب کا چہرہ بھی ہے اُترا اُترا

میری وحشت رمِ آہو سے کہیں بڑھ کر تھی
جب مری ذات میں تنہائی کا صحرا اُترا

اِک شبِ غم کے اندھیرے پہ نہیں ہے موقوف
تو نے جو زخم لگایا ہے وہ گہرا اُترا
۔۔۔۔۔۔

پُورا دکھ اور آدھا چاند! 
 ہجر کی شب اور ایسا چاند؟

دن میں وحشت بہل گئی تھی
رات ہُوئی اور نکلا چاند

کس مقتل سے گزرا ہو گا
اِتنا سہما سہما چاند

یادوں کی آباد گلی میں
 گھوم رہا ہے تنہا چاند

میری کروٹ پر جاگ اُٹھے 
نیند کا کتنا کچا چاند

میرے مُنہ کو کس حیرت سے
 دیکھ رہا ہے بھولا چاند

اِتنے گھنے بادل کے پیچھے 
 کتنا تنہا ہو گا چاند

آنسو روکے نُور نہائے
دل دریا، تن صحرا چاند

اِتنے روشن چہرے پر بھی 
 سُورج کا ہے سایا چاند

جب پانی میں چہرہ دیکھا
 تو نے کِس کو سوچا چاند

برگد کی ایک شاخ ہٹا کر 
 جانے کس کو جھانکا چاند

بادل کے ریشم جھُولے میں
بھور سمے تک سویا چاند

رات کے شانوں پرسر رکھے
دیکھ رہا ہے سپنا چاند

سُوکھے پتوں کے جھُرمٹ پر 
شبنم تھی یا ننّھا چاند

ہاتھ ہلا کر رخصت ہو گا
اُس کی صُورت ہجر کا چاند

صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
اپنے عشق کا سچا چاند

رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہو گا میرا چاند
۔۔۔۔۔۔

یا رب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے

لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے
دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے

رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے
جو کیفیت بھی جسم کو دے ، انتہائی دے

شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

تخئیل ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ
آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے

دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے
تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے

دُکھ کے سفر میں منزلِ نا یافت کُچھ نہ ہو
زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے

میں عشق کائنات میں زنجیر ہو سکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے

پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں ، رُوح مجھے کربلائی دے
۔۔۔۔۔

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہُوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ، لہُو کو چناب کر دے گا

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا، اور لا جواب کر دے گا

اَنا پرست ہے اِتنا کہ بات سے پہلے
وہ اُٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

سکوتِ شہرِ سخن میں وہ پھُول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی ا پنی
تُمھاری یاد کے نام اِنتساب کر دے گا
۔۔۔۔۔

گئے موسم میں جو کھِلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اُتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے، مرے خوابوں کی طرح

ساعتِ دید کے عارض ہیں گلابی اب تک
اولیں لمحوں کے گُلنار حجابوں کی طرح

وہ سمندر ہے تو پھر رُوح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رِستے ہُوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہُوئی کتابوں کی طرح

کون جانے نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے، ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

ہجر کی سب، مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوشبو ، مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح
۔۔۔۔۔۔

کچے زخموں سے بدن سجنے لگے راتوں کے
سبز تحفے مجھے آنے لگے برساتوں کے

جیسے سب رنگ دھنک کے مجھے چھونے آئے
عکس لہراتے ہیں آنکھوں میں مری، ساتوں کے

بارشیں آئیں اور آنے لگے خوش رنگ عذاب
جیسے صندوقچے کھُلنے لگے سوغاتوں کے

چھُو کے گُزری تھی ذرا جسم کو بارش کی ہَوا
آنچ دینے لگے ملبوس جواں راتوں کے

پہروں کی باتیں وہ ہری بیلوں کے سائے سائے
واقعے خوب ہُوئے ایسی ملاقاتوں کے

قریہ جاں میں کہاں اب وہ سخن کے موسم
سوچ چمکاتی رہے رنگ گئی باتوں کے
۔۔۔۔۔۔

کِن لکیروں کی نظر سے ترا رستہ دیکھوں
نقش معدوم ہُوئے جاتے ہیں ان ہاتھوں کے

تُو مسیحا ہے، بدن تک ہے تری چارہ گری
تیرے امکاں میں کہاں زخم کڑوی باتوں کے

قافلے نکہت و انوار کے بے سمت ہُوئے
جب سے دُولھا نہیں ہونے لگے باراتوں کے

پھر رہے ہیں مرے اطراف میں بے چہرہ وجود
اِن کا کیا نام ہے ، یہ لوگ ہیں کِن ذاتوں کے

آسمانوں میں وہ مصروف بہت ہے ___ یا پھر
بانجھ ہونے لگے الفاظ مناجاتوں کے
۔۔۔۔۔۔

نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا، رات کے ساتھ
کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ

روٹھنے اور منانے کی حدیں ملنے لگیں
چشم پوشی کے سلیقے تھے، شکایات کے ساتھ

تجھ کو کھو کر بھی رہوں ، خلوتِ جاں میں تیری
جیت پائی ہے محبت نے عجب، مات کے ساتھ

نیند لاتا ہُوا، پھر آنکھ کو دُکھ دیتا ہُوا
تجربے دونوں ہیں وابستہ ہات کے ساتھ

کبھی تنہائی سے محروم نہ رکھّا مُجھ کو
دوست ہمدرد ہے، کتنے ، مری ذات کے ساتھ
۔۔۔۔۔

موسم کا عذاب چل رہا ہے
 بارش میں گلاب جل رہا ہے

پھر دیدہ و دل کی خیر یا رب!
 پھر ذہن میں خواب پل رہا ہے

صحرا کے سفر میں کب ہوں
 تنہا  ہمراہ سراب چل رہا ہے

آندھی میں دُعا کو بھی نہ اُٹھا
 یوں دستِ گُلاب شل رہا ہے

کب شہرِ جمال میں ہمیشہ
 وحشت کا عتاب چل رہا ہے

زخموں پہ چھڑک رہا ہے خوشبو
 آنکھوں پہ گلاب مَل رہا ہے

ماتھے پہ ہَوا نے ہاتھ رکھے 
جسموں کو سحاب جھل رہا ہے

موجوں نے وہ دُکھ دیے بدن کو
 اب لمسِ حباب کَھل رہا ہے

قرطاسِ بدن پہ سلوٹیں ہیں
ملبوسِ کتاب ، گل رہا ہے
۔۔۔۔۔

جب ہوا تک یہ کہے ، نیند کو رخصت جانو
 ایسے موسم میں جو خواب آئیں غنیمت جانو

جب تک اُس سادہ قبا کو نہیں چھونے پاتی
 موجۂ رنگ کا پندار سلامت جانو

جس گھروندے میں ہَوا آتے ہُوئے کترائے
 دھوپ آ جائے تو یہ اُس کی مروّت جانو

دشتِ غربت میں جہاں کوئی شناسا بھی نہیں
 اَبر رُک جائے ذرا دیر تو رحمت جانو

منہ پہ چھڑکاؤ ہو ، اندر سے جڑیں کاٹی جائیں
 اُس پہ اصرار ، اسے عین محبّت جانو

ورنہ یوں طنز کا لہجہ بھی کِسے ملتا ہے
اُن کا یہ طرزِ سخن خاص عنایت جانو
۔۔۔

کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے
پھُول آنگن میں کھِلے ہیں نہ چمن میں اب کے

برف کے ہاتھ ہی ، ہاتھ آئیں گے ، اے موجِ ہوا
حِدتیں مجھ میں ، نہ خوشبو کے بدن میں ، اب کے

دھُوپ کے ہاتھ میں جس طرح کھُلے خنجر ہوں
کھُردرے لہجے کی نوکیں ہیں کرن میں اب کے

دل اُسے چاہے جسے عقل نہیں چاہتی ہے
خانہ جنگی ہے عجب ذہن و بدن میں اب کے

جی یہ چاہے، کوئی پھر توڑ کے رکھ دے مجھ کو
لذتیں ایسی کہاں ہوں گی تھکن میں اب کے
۔۔۔

اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کھِل چُکا
جب سوزنِ ہوا میں پرویا ہو تارِ خوں

اے چشمِ انتظار! ترا زخم سِل چُکا
آنکھوں پہ آج چاند نے افشاں چُنی تو کیا

تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مِل چُکا
آئے ہوائے زرد کہ طوفان برف کا

مٹّی کی گود کر کے ہری ، پھُول کھِل چُکا
بارش نے ریشے ریشے میں رَس بھر دیا ہے اور

خوش ہے کہ یوں حسابِ کرم ہائے گِل چُکا
چھُو کر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے

کیا راستے سے لَوٹنا ، جب پاؤں چھِل چُکا
اُس وقت بھی خاموش رہی چشم پوش رات

جب آخری رفیق بھی دُشمن سے مِل چُکا
۔۔۔

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے

تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
مرا تن، مور بن کر ناچتا ہے

مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے

میں اس کی دسترس میں ہوں ، مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے

کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل
بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے

سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا
کہ میرے گھر کا کچّا راستہ ہے
۔۔۔۔

کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی

اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی

وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی
۔۔۔۔

رقص میں رات ہے بدن کی طرح
بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح

چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ
میرے بستر کی ہر شکن کی طرح

چاک ہے دامن قبائے بہار
میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح

زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں
کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح

مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں
تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح

بار ہا تیرا انتظار کیا
اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح
۔۔۔

شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے
رنگ ہی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے

ایک موہوم تمّنا کے سہارے نکلے
چاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے

کوئی موسم ہو مگر شانِ خم و پیچ وہی
رات کی طرح کوئی زُلف سنوارے نکلے

رقص جن کا ہمیں ساحل سے بھگا لایا تھا
وہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے

وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے

عشق دریا ہے، جو تیرے وہ تہی دست رہے
وہ جو ڈوبے تھے، کسی اور کنارے نکلے

دھوپ کی رُت میں کوئی چھاؤں اُگاتا کیسے
شاخ پھوٹی تھی کہ ہمسایوں میں آرے نکلے
۔۔۔۔

تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا
بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا

برہنہ شاخوں کا جنگل گڑا تھا آنکھوں میں
وہ رات تھی کہ کہیں چاند کا گزر ہی نہ تھا

تمھارے شہر کی ہر چھاؤں مہرباں تھی مگر
جہاں پہ دھوپ کھڑی تھی وہاں شجر ہی نہ تھا

سمیٹ لیتی شکستہ گلاب کی خوشبو
ہوا کے ہاتھ میں ایسا کوئی ہنر ہی نہ تھا

میں اتنے سانپوں کو رستے میں دیکھ آئی تھی
کہ ترے شہر میں پہنچی تو کوئی ڈر ہی نہ تھا

کہاں سے آتی کرن زندگی کے زنداں میں
وہ گھر ملا تھا مجھے جس میں کوئی در ہی نہ تھا

بدن میں پھیل گیا شاخ بیل کی مانند
وہ زخم سوکھتا کیا، جس کا چارہ گر ہی نہ تھا

ہوا کے لائے ہوئے بیج پھر ہوا میں گئے
کھلے تھے پھول کچھ ایسے کہ جن میں زر ہی نہ تھا

قدم تو ریت پہ ساحل نے بھی رکھنے دیا
بدن کو جکڑے ہوئے صرف اک بھنور ہی نہ تھا
۔۔۔۔

وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
مہک میں چمپا، روپ میں چنبیلی ہوئی

وہ سرد رات کی برکھا سے یوں نہ پیار کروں
یہ رُت تو ہے میرے بچپن کے ساتھ کھیلی ہوئی

زمیں پہ پاؤں نہیں پڑ رہے تکّبر سے
نگار ِ غم کوئی دلہن نئی نویلی ہوئی

وہ چاند بن کے میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا
میں اس کے ہجر کی راتوں میں کب اکیلی ہوئی

جو حرفِ سادہ کی صورت ہمیشہ لکھی گئی
وہ لڑکی کس طرح تیرے لئے پہیلی ہوئی
۔۔۔۔

تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
قسمت میں میری، صلہ نہیں ہے

بچھڑے تو حال نجانے کیا ہو
جو شخص ابھی ملا نہیں ہے

جینے کی تو آرزو ہی کب تھی
مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے

جو زیست کو معتبر بنا دے
ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے

خوشبو کا حساب ہو چکا ہے
اور پھول ابھی کھلا نہیں ہے

سرشاری رہبری میں دیکھا
پیچھے میرا قافلہ نہیں ہے

اک ٹھیس پہ دل کا پھوٹ بہنا
چھونے میں تو آبلہ نہیں ہے!
۔۔۔۔

اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے

گزر گئے ہیں بہت دن رفاقتِ شب میں
اب عُمر ہو گئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے

مرے سکوت سے جس کو گِلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے

بس ایک ریت کا ذّرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے

تیرے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے

اُسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے، پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے

تجھے عزیز تھا اور میں نے اُسے جیت لیا
مری طرف بھی تو اِک پل ترا خدا دیکھے
۔۔۔۔

یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
سرطان مرا ستارا کب تھا

لازم تھا گزرنا زندگی سے
بِن زہر پیئے گزارا کب تھا

کچھ پل مگر اور دیکھ سکتے
اشکوں کو مگر گوارا کب تھا

ہم خود بھی جُدائی کا سبب تھے
اُس کا ہی قصور سارا کب تھا

اب اور کے ساتھ ہے تو کیا دکھ
پہلے بھی وہ ہمارا کب تھا

اِک نام پہ زخم کھل اٹھے تھے
قاتل کی طرف اشارا کب تھا

آئے ہو تو روشنی ہوئی ہے
اس بام پہ کوئی تارا کب تھا

دیکھا ہوا گھر تھا پر کسی نے
دُلہن کی طرح سنوارا کب تھا
۔۔۔۔

عکس خوشبو ہوں ، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اُٹھتی ہوں یہی سوچ کہ تنہائی میں
میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب میرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ، کوئی آواز، کوئی چاپ نہیں
دِل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
۔۔۔

دنیا کو تو حالات سے امید بڑی تھی
پر چاہنے والوں کو جدائی کی پڑی تھی

کس جان گلستاں سے یہ ملنے کی گھڑی تھی
خوشبو میں نہائی ہوئی اک شام کھڑی تھی

میں اس سے ملی تھی کہ خود اپنے سے ملی تھی
وہ جیسے مری ذات کی گم گشتہ کڑی تھی

یوں دیکھنا اُس کو کہ کوئی اور نہ دیکھے
انعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھی
۔۔۔

پھر چاکِ زندگی کو رفوگر ملا کہاں
جو زخم ایک بار کھُلا پھر سلا کہاں

کل رات ایک گھر میں بڑی روشنی رہی
تارا مرے نصیب کا تھا اور کھلا کہاں

اُتری ہے میری آنکھ میں خوابوں کی موتیا
ٹوٹے گا روشنی کا بھلا سلسلہ کہاں

بن عکس آئینے کا ہنر بھی نہ کھُل سکا
دُکھ کے بغیر قلب و نظر کو جِلا کہاں

ترکِ تعلقات کا کوئی سبب تو تھا
سننے کا میرے دل کو مگر حوصلہ کہاں
۔۔۔

چراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھی
ہوا کی طرح سے نا معتبر رہا وہ بھی

زمین زاد بھی بھُولا جو لفظِ رہداری
فصیلِ شہر سے باہر کھڑا رہا وہ بھی

میں اُس کے سارے رویوں پہ معترض ہوتی
مری طرح سے مگر تھا دُکھا ہوا وہ بھی

گلی کے موڑ پہ دیکھا اُسے تو کیسی خوشی
کسی کے واسطے ہو گا رُکا ہوا وہ بھی

میں اُس کی کھوج میں دیوانہ وار پھرتی رہی
اسی لگن سے کبھی مجھ کو ڈھونڈتا وہ بھی
۔۔۔

کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر
حرف آتا ہے مسیحائی پر

اس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو
پیار آنے لگا رسوائی پر

ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں جاناں
تیری تصویر کی زیبائی پر

رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی
قامتِ عشق کی رعنائی پر

سطح کے دیکھ کے اندازے لگیں
آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر

ذکر آئے گا جہاں بھنوروں کا
بات ہو گی مرے ہرجائی پر

خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں
پھول کی طرزِ پذیرائی پر
۔۔۔

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیرِ بارِ ساغر و بادہ نہیں کیا

کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں
اتنا بھی بود  و  باش  کو سادہ نہیں کیا
۔۔۔

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظلِ الہی دیں گے

جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی لیں گے

ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے

آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہلِ کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے

شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے
۔۔۔

صیّاد تو امکان سفر کاٹ رہا ہے
اندر سے بھی کوئی مرے پر کاٹ رہا ہے

اے چادر منصب، ترا شوقِ گلِ تازہ
شاعر کا ترے دستِ ہُنر کاٹ رہا ہے

جس دن سے شمار اپنا پناہگیروں میں ٹھہرا
اُس دن سے تو لگتا ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے

کس شخص کا دل میں نے دُکھایا تھا، کہ اب تک
وہ میری دعاؤں کا اثر کاٹ رہا ہے

قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے
دستار کے ہوتے ہوۓ سر کاٹ رہا ہے
۔۔۔

اک گیت ہوا کے ہونٹ پر تھا
اور اس کی زبان اجنبی تھی

اس رات جبین ماہ پر بھی
تحریر کوئی قدیم سی تھی

یہ عشق نہیں تھا اس زمیں کا
اس میں کوئی بات سرمدی تھی

جو روشنی تھی مرے جہاں کی
وہ خیرہ آنکھوں کو کر رہی تھی
۔۔۔۔

زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
ہار کے بعد مسکراؤ کبھی

ترکِ اُلفت کے بعد اُمیدِ وفا
ریت پر چل سکی ہے ناؤ کبھی

اب جفا کی صراحتیں بیکار
بات سے بھر سکا ہے گھاؤ کبھی

شاخ سے موجِ گُل تھمی ہے کہیں
ہاتھ سے رک سکا بہاؤ کبھی

اندھے ذہنوں سے سوچنے والو
حرف میں روشنی ملاؤ کبھی

بارشیں کیا زمیں کے دُکھ بانٹیں
آنسوؤں سے بجھا ہے الاؤ کبھی

اپنے اسپین کی خبر رکھنا
کشتیاں تم اگر جلاؤ کبھی
۔۔۔

اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا

کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کے، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گئی
وہ جواب مجھ کو دے نہ سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا

وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو پر کمال تھا
۔۔۔

کچھ دیر کو تجھ سے کٹ گئی تھی
محور سے زمین ہٹ گئی تھی

تجھ کو بھی نہ مل سکی مکمل
میں ‌اتنے دکھوں ‌میں بٹ گئی تھی

شاید کہ ہمیں سنوار دیتی
جو شب آ کر پلٹ گئی تھی

رستہ تھا وہی پہ بِن تمہارے
میں گرد میں کیسی اَٹ گئی تھی

پت جھڑ کی گھڑی تھی اور شجر تھے
اک بیل عجب لپٹ گئی تھی
۔۔۔

دن ٹھہر جائے، مگر رات کٹے
کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے

خوشبوئیں مجھ کو قلم کرتی گئیں
شاخ در شاخ مرے ہات کٹے

موجۂ گُل ہے کہ تلوار کوئی
درمیاں سے ہی مناجات کٹے

حرف کیوں اپنے گنوائیں جا کر
بات سے پہلے جہاں بات کٹے

چاند، آ مل کے منائیں یہ شب
آج کی رات ترے سات کٹے

پُورے انسانوں میں گھس آئے ہیں
سر کٹے، جسم کٹے، ذات کٹے
۔۔۔۔

ہم  نے ہی  لوٹنے کا ارادہ  نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیرِ بارِ ساغر  و  بادہ نہیں کیا

کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اس  نے  بھی التفات  زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں
اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا
۔۔۔۔۔

شوقِ رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
پاؤں سے ہواؤں کے، بیڑیاں نہیں کھلتیں

پیڑ کو دعا دے کر، کٹ گئی بہاروں سے
پھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں

پھول بن کر سیروں میں اور کون شامل تھا
شوخیِ صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

کوئی موجۂ شیریں چوم کر جگائے گی
سورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں

ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی
اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں

شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں
کون سے سفر میں ہیں تتلیاں نہیں کھلتیں

آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہے
چھت پہ کون آتا ہے، سیڑھیاں نہیں کھلتیں

پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
کیا قیامتیں گزریں، بستیاں نہیں کھلتیں
۔۔۔۔۔

دسترس سے اپنی، باہر ہو گئے
 جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے

ہم جو کہلائے طُلوعِ ماہتاب
 ڈوبتے سُورج کا منظر ہو گئے

شہرِ خوباں کا یہی دستور ہے
 مُڑ کے دیکھا اور پتھر ہو گئے

بے وطن کہلائے اپنے دیس میں
 اپنے گھر میں رہ کے بے گھر ہو گئے

سُکھ تری میراث تھے، تجھ کو ملے
 دُکھ ہمارے تھے، مقدر ہو گئے

وہ سر اب اُترا رگ و پے میں کہ ہم
 خود فریبی میں سمندر ہو گئے

تیری خود غرضی سے خود کو سوچ کر
آج ہم تیرے برابر ہو گئے
۔۔۔۔۔

خُوشبو بھی اس کی طرزِ پذیرائی پر گئی
دھیرے سے میرے ہاتھ کو چھُو کر گزر گئی

آندھی کی زد میں آئے ہُوئے پھُولوں کی طرح
میں ٹکڑے ٹکڑے ہوکے فضا میں بکھر گئی

شاخوں نے پھُول پہنے تھے کچھ دیر قبل ہی
کیا ہو گیا، قبائے شجر کیوں اُتر گئی

اُن اُنگلیوں کا لمس تھا اور میری زُلف تھی
گیسو بکھر رہے تھے تو قسمت سنور گئی

اُترے نہ میرے گھر میں وہ مہتاب رنگ لوگ
میری دُعائے نیم شبی بے اثر گئی
۔۔۔۔۔

سناّٹا فضا میں بہہ رہا ہے
دُکھ اپنے ہَوا سے کہہ رہا ہے

برفیلی ہوا میں تن شجر کا
ہونے کا عذاب سہہ رہا ہے

باہر سے نئی سفیدیاں ہیں
اندر سے مکان ڈھ رہا ہے

حل ہو گیا خون میں کُچھ ایسے
رگ رگ میں وہ نام بہہ رہا ہے

جنگل سے ڈرا ہُوا پرندہ
شہروں کے قریب رہ رہا ہے
۔۔۔۔

دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے
وہ ماہتاب ہی اُترا، نہ اُس کے خواب اُترے

کہاں وہ رُت کہ جبینوں پہ آفتاب اُترے
زمانہ بیت گیا ان کی آب و تاب اُترے

میں اُس سے کھُل کے ملوں ، سوچ کا حجاب اُترے
وہ چاہتا ہے مری رُوح کا نقاب اُترے

اُداس شب میں ، کڑی دوپہر کے لمحوں میں
کوئی چراغ ، کوئی صُورتِ گلاب اُترے

کبھی کبھی ترے لہجے کی شبنمی ٹھنڈک
سماعتوں کے دریچوں پہ خواب خواب اُترے

فصیلِ شہرِ تمنا کی زرد بیلوں پر
ترا جمال کبھی صُورت سحاب اُترے

تری ہنسی میں نئے موسموں کی خوشبو تھی
نوید ہو کہ بدن سے پُرانے خواب اُترے

سپردگی کا مجسم سوال بن کے کھِلوں
مثالِ قطرۂ شبنم ترا جواب اُترے

تری طرح ، مری آنکھیں بھی معتبر نہ رہیں
سفر سے قبل ہی رستوں میں وہ سراب اُترے
۔۔۔

ہوا کی دھُن پر بن کی ڈالی ڈالی گائے
کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے

رُت وہ ہے جب کونپل کی خوشبو سُر مانگے
پُروا کے ہمراہ عُمریا بالی گائے

مورنی بن کر پرواسنگ ہیں جب بھی ناچوں
پُروا بھی بن میں ہو کر متوالی گائے

رات گئے میں بندیا کھوجنے جب بھی نکلوں
کنگن کھنکے اور کانوں کی بالی گائے

رنگ منایا جائے ، خوشبو کھیلی جائے
پھُول ہنسیں ، پتّے ناچیں اور مالی گائے

میرے بدن کا رواں رواں رس میں بھیگے
رات نشے میں اور ہوا بھوپالی گائے

سجے ہُوئے ہیں پلکوں پر خوش رنگ دیئے سے
آنکھ ستاروں کی چھاؤں دیوالی گائے

ہَوا کے سنگ چلے رہ رہ کے لے بنسی کی
جیسے دریا پار کوئی بھٹیالی گائے

ساجن کا اصرار کہ ہم تو گیت سُنیں گے
گوری چُپ ہے لیکن مُکھ کی لالی گائے

منہ سے نہ بولے ، نین مگر مُسکاتے جائیں
اُجلی دھوپ نہ بولے ، رینا کالی گائے

دھانی بانکیں جب بھی سہاگن کو پہنائے
شوخ سُروں میں کیا کیا چوڑی والی گائے

محنت کی سُندرتا کھیتوں میں پھیلی ہے
نرم ہَوا کی دھُن پر دھان کی بالی گائے
۔۔۔

خوشبو ہے وہ تو چھُو کے بدن کو گزر نہ جائے
 جب تک مرے وجود کے اندر اُتر نہ جائے

خود پھُول نے بھی ہونٹ کیے اپنے نیم وا
 چوری تمام رنگ کی ، تتلی کے سر نہ جائے

ایسا نہ ہو کہ لمس بدن کی سزا بنے
 جی پھُول کا ، ہَوا کی محبت سے بھر نہ جائے

اس خوف سے وہ ساتھ نبھانے کے حق میں ہے
 کھو کر مجھے، یہ لڑکی کہیں دُکھ سے مر نہ جائے

شدّت کی نفرتوں میں سدا جس نے سانس لی
 شدّت کا پیار پا کے خلا میں بکھر نہ جائے

اُس وقت تک کناروں سے ندّی چڑھی رہے
 جب تک سمندر کے بدن میں اُتر نہ جائے

پلکوں کو اُس کی ، اپنے دوپٹے سے پونچھ دوں
 کل کے سفر کی گردِ سفر نہ جائے

میں کس کے ہاتھ بھیجوں اُسے آج کی دُعا
قاصد، ہوا، ستارہ کوئی اُس کے گھر نہ جائے
۔۔۔۔

رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے 
 وصل کا خواب مکمل ہو جائے

چاند کا چوما ہُوا سرخ گلاب
 تیتری دیکھے تو پاگل ہو جائے

میں اندھیروں کو اُجالوں ایسے 
 تیرگی آنکھ کا کاجل ہو جائے

دوش پر بارشیں لے کے گھومیں
 مَیں ہوا اور وہ بادل ہو جائے

نرم سبزے پہ ذرا جھک کے چلے
شبنمی رات کا آنچل ہو جائے

عُمر بھر تھامے رہے خوشبو کو
 پھُول کا ہاتھ مگر شل ہو جائے

چڑیا پتّوں میں سمٹ کر سوئے
پیٹر یُوں پھیلے کہ جنگل ہو جائے
۔۔۔۔

اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک

ہر بار ہوا نہ ہو گی در پر
ہر بار مگر اُٹھوں کہاں تک

دَم گھٹتا ہے ، گھر میں حبس وہ ہے 
خوشبو کے لیے رُکوں کہاں تک

پھر آگے ہوائیں کھول دیں گی 
زخم اپنے رفو کروں کہاں تک

ساحل پہ سمندروں سے بچ کر
میں نام ترا لکھوں کہاں تک

تنہائی کا ایک ایک لمحہ
 ہنگاموں سے قرض لوں کہاں تک

گر لمس نہیں تو لفظ ہی بھیج 
 میں تجھ سے جُدا رہوں کہاں تک

سُکھ سے بھی تو دوستی کبھی ہو
دُکھ سے ہی گلے ملوں کہاں تک

منسوب ہو ہر کرن کسی سے
اپنے ہی لیے جَلوں کہاں تک

آنچل مرے بھر کے پھٹ رہے ہیں
پھُول اُس کے لیے چُنوں کہاں تک
۔۔۔۔

دشمن ہے اور ساتھ رہے جان کی طرح
 مجھ میں اُتر گیا ہے وہ سرطان کی طرح

جکڑے ہُوئے ہے تن کو مرے ، اس کی آرزو
 پھیلا ہُوا ہے جال سا شریان کی طرح

دیوار و در نے جس کے لیے ہجر کاٹے تھے
 آیا تھا چند روز کو ، مہمان کی طرح

دکھ کی رُتوں میں پیڑ نے تنہا سفر کیا
 پتّوں کو پہلے بھیج کے سامان کی طرح

گہرے خنک اندھیرے میں اُجلے تکلّفات
 گھر کی فضا بھی ہو گئی شیزان کی طرح

 ق
ڈوبا ہُوا ہے حسنِ سخن میں سکوتِ شب
تارِ ربابِ رُوح میں کلیان کی طرح

آہنگ کے جمال میں انجیل کی دُعا
نرمی میں اپنی ، سورۂ رحمان کی طرح
۔۔۔

چھُونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے

پھیلے ہُوئے تھے جاگتی نیندوں کے سِلسلے
آنکھیں کھلیں تو رات کے منظر بدل گئے

کب حدّتِ گلاب پہ حرف آنے پائے گا
تِتلی کے پَر اُڑان کی گرمی سے جل گئے

آگے تو صرف ریت کے دریا دکھائی دیں
کن بستیوں کی سمت مسافر نکل گئے

پھر چاندنی کے دام میں آنے کو تھے گلاب
صد شکر نیند کھونے سے پہلے سنبھل گئے
 ۔۔۔۔

کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر
حرف آتا ہے مسیحائی پر

اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو
 پیار آنے لگا رُسوائی پر

ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں!
 تیری تصویر کی زیبائی پر

رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی
 قامتِ عشق کی رعنائی پر

سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں
 آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر

ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا
بات ہو گی مرے ہرجائی پر

خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں
پھُول کی طرز پذیرائی پر
۔۔۔۔

بارش ہُوئی تو پھُولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سُورج کی شہ پہ تِنکے بھی بے باک ہو گئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رُخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

سُورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں
زُلفِ شبِ فراق کے پیچاک ہو گئے

جب بھی غریبِ شہر سے کُچھ گفتگو ہُوئی
لہجے ہَوائے شام کے نمناک ہو گئے
۔۔۔۔

چہرہ نہ دکھا، صدا سُنا دے
جینے کا ذرا تو حوصلہ دے

دِکھلا کسی طور اپنی صُورت
آنکھوں مزید مت سزا دے

چھُو کر مری سوچ میرے تن میں
 بیلیں ہرے رنگ کی اُگا دے

جاناں! نہ خیالِ دوستی کر
دے زہر جو اَب تو تیز سادے

شدّت ہے مزاج میرے خُوں کا
 نفرت کی بھی دے تو انتہا دے

ٹوٹی ہُوئی شام منتظرِ ہے
جھُک کر مجھے آئینہ دکھا دے

دل پھٹنے لگا ہے ضبطِ غم سے
مالک! کوئی درد آشنا دے

سوئی ہے ابھی تو جا کے شبنم 
 ایسا نہ ہو موجِ گل اُٹھا دے

چکھّوں ممنوعہ ذائقے بھی
دل!سانپ سے دوستی بڑھا دے
۔۔۔

خوشبو کی ترتیب ، ہَوا کے رقص میں ہے
میری نمو ، میرے ہی جیسے شخص میں ہے

وہ میرا تن چھُوئے ، من میں شعر اُگائے
پیڑ کی ہریالی بارش کے لمس میں ہے

سوچ کا رشتہ سانس سے ٹوٹا جاتا ہے
لُو سے زیادہ جبر فضا کے حبس میں ہے

دن میں کیسی لگتی ہو گی ، سوچتی ہوں
ندی کا سارا حُسن تو چاند کے عکس میں ہے

میری اچھائی تو سب کو اچھّی لگی
اُس کے پیار کا مرکز میرے نقص میں ہے

ایسی خالی نسل کے خواب ہی کیا ہوں گے
جس کی نیند کا سَر چشمہ ہی چرس میں ہے!
 ۔۔۔

کیا ڈوبتے ہَوؤں کی صدائیں سمیٹتیں
سیلاب کی سماعتیں ، آندھی کو رہن تھیں

کائی کی طرح لاشیں چٹانوں پہ اُگ گئیں
زر خیزیوں سے اپنی پریشان تھی زمیں

پیڑوں کا ظرف وہ کہ جڑیں تک نکال دیں
پانی کی پیاس ایسی کہ بجھتی نہ تھی کہیں

بچوں کے خواب پی کے بھی حلقوم خشک تھے
دریا کی تشنگی میں بڑی وحشتیں رہیں

بارش کے ہاتھ چُنتے رہے بستیوں سے خواب
نیندیں ہوائے تُند کی موجوں کو بھا گئیں

ملبے سے ہر مکان کے ، نکلے ہوئے تھے ہاتھ
آندھی کو تھامنے کی بڑی کوششیں ہوئیں

تعویذ والے ہاتھ مگر مچھ کے پاس تھے
تہہ سے ، دُعا لکھی ہُوئی پیشانیاں تھیں

موجوں کے ساتھ سانپ بھی پھنکارنے لگے
جنگل کی وحشتیں بھی سمندر سے مل گئیں

بس رقص پانیوں کا تھا وحشت کے راگ پر
دریا کو سب دھنیں تو ہَواؤں نے لکھ کے دیں
۔۔۔۔

سما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوں
ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں

فضا میں تیر رہی ہوں ، صدا کے رنگ میں ہوں
لہو سے پوچھ رہی ہوں ، یہ کس ترنگ میں ہوں

دھنک اُترتی نہیں میرے خون میں جب تک
میں اپنے جسم کی نیلی رگوں سے جنگ میں ہوں

بہار نے مِری آنکھوں پہ پھُول باندھ دیئے!
رہائی پاؤں تو کیسے ، حصارِ رنگ میں ہوں

کھُلی فضا ہے ، کھُلا آسماں بھی سامنے ہے
مگر یہ ڈر نہیں جاتا ، ابھی سرنگ میں ہوں

ہوا گزیدہ بنفشے کے پھول کی مانند
پناہِ رنگ سے بچ کر ، پناہِ سنگ میں ہوں

صدف میں اُتروں تو پھر میں گُہر بھی بن جاؤں
صدف سے پہلے ابھی حلقۂ نہنگ میں ہوں
۔۔۔

رات کے زہر سے رسیلے ہیں
صبح کے ہونٹ کِتنے نیلے ہیں!

ریت پر تیرتے جزیرے میں
پانیوں پر ہَوا کے ٹِیلے ہیں

ریزگی کا عذاب سہنا ہے 
خوف سے سارے پیڑ پیلے ہیں

ہجر، سناّٹا، پچھلے پہر کا چاند
 خود سے ملنے کے کچھ وسیلے ہیں

دستِ خوشبو کرے مسیحائی
 ناخنِ گُل نے زخم چھیلے ہیں

عشق سورج سے وہ بھی فرمائیں
 جو شبِ تار کے رکھیلے ہیں

خوشبوئیں پھر بچھڑ نہ جائیں کہیں
ابھی آنچل ہَوا کے گیلے ہیں

کھڑکی دریا کے رُخ پہ جب سے کھُلی
فرش کمروں کے سیلے سیلے ہیں
۔۔۔۔

زمیں کے حلقے سے نکلا تو چاند پچھتایا
کشش بچھانے لگا ہے ہر اگلا سیارہ

میں پانیوں کی مسافر ، وہ آسمانوں کا
کہاں سے ربط بڑھائیں کہ درمیاں ہے خلا

بچھڑتے وقت دلوں کو اگرچہ دُکھ تو ہُوا
کھُلی فضا میں مگر سانس لینا اچھا ہو گا

جو صرف رُوح تھا ، فرقت میں بھی ، وصال میں بھی
اُسے بدن کے اثر سے رہا تو ہونا تھا

گئے دنوں جو تھا ذہن و جسم کی لذّت
وہی وصال طبیعت کا جبر بننے لگا

چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو
ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا

برس سکے تو برس جائے اس گھڑی ، ورنہ
بکھیر ڈالے گی بادل کے سارے خواب ، ہوا
۔۔۔

میں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہُوئی
ذرا سی دھُوپ نکل آئی اور ماند ہُوئی

حدودِ رقص سے آگے نکل گئی تھی کبھی
سو مورنی کی طرح عمر بھر کو راند ہوئی

مہِ تمام! ابھی چھت پہ کون آیا تھا
کہ جس کے آگے تری روشنی بھی ماند ہوئی

ٹکے کا چارہ نہ گیّا کو زندگی میں دیا
جو مر گئی ہے تو سونے کے مول ناند ہوئی

نہ پُوچھ ، کیوں اُسے جنگل کی رات اچھی لگی
وہ لڑکی تھی جو کہ کبھی تیرے گھر کا چاند ہوئی
۔۔۔۔

اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے
برسات میں بھی یاد نہ جب اُن کو ہم آئے

مٹّی کی مہک سانس کی خوشبو میں اُتر کر
بھیگے ہوئے سبزے کی ترائی میں بُلائے

دریا کی طرح موج میں آئی ہُوئی برکھا
زردائی ہُوئی رُت کو ہرا رنگ پلائے

بوندوں کی چھما چھم سے بدن کانپ رہا ہے
اور مست ہوا رقص کی لَے تیز کیے جائے

شاخیں ہیں تو وہ رقص میں ، پتّے ہیں تو رم میں
پانی کا نشہ ہے کہ درختوں کو چڑھا جائے

ہر لہر کے پاؤں سے لپٹنے لگے گھنگھرو
بارش کی ہنسی تال پہ پا زیب جو چھنکائے

انگور کی بیلوں پہ اُتر آئے ستارے
رکتی ہوئی بارش نے بھی کیا رنگ دکھائے
۔۔۔

اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے

میں اُس کے خیال سے گُریزاں
وہ میری صدا جھٹک رہا ہے

تحریر اُسی کی ہے ، مگر دل
خط پڑھتے ہُوئے اٹک رہا ہے

ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں
اور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے

صدیوں سے سفر میں ہے سمندر
ساحِل پہ تھکن پٹک رہا ہے
اک چاند صلیبِ شاخِ گُل پر
بالی کی طرح لٹک رہا ہے
۔۔۔
دن ٹھہر جائے ، مگر رات کٹے
کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے

خوشبوئیں مجھ کو قلم کرتی گئیں
شاخ در شاخ مرے ہات کٹے

موجۂ گُل ہے کہ تلوار کوئی
درمیاں سے ہی مناجات کٹے

حرف کیوں اپنے گنوائیں جا کر
بات سے پہلے جہاں بات کٹے

چاند! آ مِل کے منائیں یہ شب
آج کی رات ترے سات کٹے

پُورے انسانوں میں گھُس آئے ہیں
سر کٹے ، جسم کٹے ، ذات کٹے
۔۔۔

سرگوشی بہار سے خوشبو کے در کھلے
کس اسم کے جمال سے بابِ ہُنر کھُلے

جب رنگ پا بہ گِل ہوں ، ہوائیں بھی قید ہوں
کیا اُس فضا میں پرچمِ زخمِ جگر کھُلے

خیمے سے دُور ، شام ڈھلے ، اجنبی جگہ
نکلی ہوں کس کی کھوج میں ، بے وقت ، سر کھُلے

شاید کہ چاند بھُول پڑے راستہ کبھی
رکھتے ہیں اِس اُمید پہ کچھ لوگ گھر کھُلے

وہ مُجھ سے دُور خوش ہے؟ خفا ہے؟ اُداس ہے؟
کس حال میں ہے؟ کُچھ تو مرا نامہ بر کھُلے

ہر رنگ میں وہ شخص نظر کو بھلا لگے
حد یہ__کہ رُوٹھ جانا بھی اُس شوخ پر کھُلے

کھُل جائے کن ہواؤں سے رسمِ بدن رہی
خلوت میں پھُول سے کبھی تتلی اگر کھُلے

راتیں تو قافلوں کی معیت میں کاٹ لیں
جب روشنی بٹی تو کئی راہبر کھُلے
 ۔۔۔

ہوا سے جنگ میں ہوں ، بے اماں ہوں
شکستہ کشتیوں پر بادباں ہوں

میں سُورج کی طرح ہوں دھوپ اوڑھے
اور اپنے آپ پر خود سائباں ہوں

مجھے بارش کی چاہت نے ڈبویا
میں پختہ شہر کا کچّا مکاں ہوں

خُود اپنی چال اُلٹی چلنا چاہوں
میں اپنے واسطے خود آسماں ہوں

دُعائیں دے رہی ہوں دشمنوں کو
اور اِک ہمدرد پر نا مہرباں ہوں

پرندوں کو دُعا سِکھلا رہی ہوں
میں بستی چھوڑ ، جنگل کی اذاں ہوں

ابھی تصویر میری کیا بنے گی
ابھی تو کینوس پر اِک نشاں ہوں
۔۔۔

مرجھانے لگی ہیں پھر خراشیں
آؤ کوئی زخم گر تلاشیں

ملبوس برہنہ کھیتوں کے
پیراہنِ اَبر سے تراشیں

بادل ہیں کہ نیلی طشتری میں
رقصاں ہیں سفید یوں کی قاشیں

پیڑوں کی قبا ہی تھی قیامت
اور اُس پہ بہار کی تراشیں!

تاروں کی تو چال اور ہی تھی
جیتا کیے ہم اگر چہ تاشیں

اہرام ہے یا کہ شہر میرا
انسان ہیں یا حنوط لاشیں

سڑکوں پہ رواں ، یہ آدمی ہیں
یا نیند میں چل رہی ہیں لاشیں
 ۔۔۔۔

کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
سفر ، میرا تعاقب کر رہا ہے

رہی ہوں بے اماں موسم کی زد پر
ہتھیلی پر ہَوا کی ، سر رہا ہے

میں اِک نو زائیدہ چڑیا ہوں لیکن
پُرانا باز ، مُجھ سے ڈر رہا ہے

پذیرائی کو میری شہرِ گل میں
صبا کے ہاتھ میں پتّھر رہا ہے

ہَوائیں چھُو کے رستہ بھُول جائیں
مرے تن میں کوئی منتر رہا ہے

میں اپنے آپ کو ڈسنے لگی ہوں
مجھے اب زہر اچھا کر رہا ہے

کھلونے پا لیے ہیں میں نے لیکن
مرے اندر کا بچہ مر رہا ہے
۔۔۔

نہ قرضِ ناخنِ گُل ، نام کو لُوں
ہَوا ہوں ، اپنی گرہیں آپ کھولوں

تری خوشبو بچھڑ جانے سے پہلے
میں اپنے آپ میں تجھ کو سمو لوں

کھُلی آنکھوں سے سپنے قرض لے کر
تری تنہائیوں میں رنگ گھولوں

ملے گی آنسوؤں سے تن کو ٹھنڈک

بڑی لُو ہے ، ذرا آنچل بھگو لوں
وہ اب میری ضرورت بن گیا ہے

کہاں ممکن رہا ، اُس سے نہ بولوں
میں چڑیا کی طرح ، دن بھر تھکی ہوں

ہُوئی ہے شام تو کُچھ دیر سو لوں
چلوں مقتل سے اپنے شام ، لیکن

میں پہلے اپنے پیاروں کو تو رولوں
مرا نوحہ کناں کوئی نہیں ہے

سو اپنے سوگ میں خُود بال کھولوں
 ۔۔۔

عُمر بھر کے لیے اب تو سوئی کی سوئی ہی معصوم شہزادیاں رہ گئیں
نیند چنتے ہُوئے ہاتھ ہی تھک گئے وہ بھی جب آنکھ کی سوئیاں رہ گئیں

لوگ گلیوں سے ہو کر گُزرتے رہے ، کوئی ٹھٹکا ، نہ ٹھہرا ، نہ واپس ہوا
اَدھ کھُلی کھڑکیوں سے لگی ، شام سے راہ تکتی ہُوئی لڑکیاں رہ گئیں

پاؤں چھُو کر پُجاری الگ ہو گئے ، نیم تاریک مندر کی تنہائی میں
آگ بنتی ہُوئی تن کی نو خیز خوشبو سمیٹے ہُوئے دیویاں رہ گئیں

وہ ہَوا تھی کہ کچّے مکانوں کی چھت اُڑ گئی ، اور مکیں لاپتہ ہو گئے
اب تو موسم کے ہاتھوں خزاں میں اُجڑنے کو بس خواب کی بستیاں رہ گئیں

آخرِ کار لو وہ بھی رخصت ہُوا، ساری سکھیاں بھی اب اپنے گھرکی ہوئیں
زندگی بھر کو فن کار سے گفتگو کے لیے صرف تنہائیاں رہ گئیں

شہرِ گُل ہَواؤں نے چاروں طرف ، اس قدر ریشمیں جال پھیلا دیے
تھر تھراتے پروں میں شکستہ اُڑانیں سمیٹے ہُوئے تتلیاں رہ گئیں

اجنبی شہر کی اوّلیں شام ڈھلنے لگی ، پُرسہ دینے جو آئے__گئے
جلتے خیموں کی بجھتی ہُوئی راکھ پر بال کھولے ہُوئے بیبیاں رہ گئیں
۔۔۔

جانے پھر اگلی صدا کِس کی تھی
نیند نے آنکھ پہ دستک دی تھی

موج در موج ستارے نکلے
جھیل میں چاند کرن اُتری تھی

پریاں آئی تھیں کہانی کہنے
چاندنی رات نے لوری دی تھی

بات خوشبو کی طرح پھیل گئی
پیرہن میرا ، شِکن تیری تھی

آنکھ کو یاد ہے وہ پَل اب بھی
نیند جب پہلے پہلے ٹوٹی تھی

عشق تو خیر تھا اندھا لڑکا
حسن کو کون سی مجبوری تھی

کیوں وہ بے سمت ہُوا جب میں نے
اُس کے بازو پہ دُعا باندھی تھی
۔۔۔

دُکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا! آہستہ
اے خدا اب کے چلے زرد ہوا ، آہستہ

خواب جل جائیں ، مری چشمِ تمنّا بُجھ جائے
بس ہتھیلی سے اُڑے رنگ حِنا آہستہ

زخم ہی کھولنے آئی ہے تو عجلت کیسی
چھُو مرے جسم کو ، اے بادِ صبا! آہستہ!

ٹوٹنے اور بکھرنے کا کوئی موسم ہو
پھُول کی ایک دُعا ۔۔۔۔ موجِ ہوا! آہستہ

جانتی ہوں کہ بچھڑنا تری مجبوری ہے
مری جان! ملے مجھ کو سزا آہستہ

میری چاہت میں بھی اب سوچ کا رنگ آنے لگا
اور ترا پیار بھی شدّت میں ہوا آہستہ

نیند پر جال سے پڑنے لگے آوازوں کے
اور پھر ہونے لگی تیری صدا آہستہ

رات جب پھُول کے رُخسار پہ دھیرے سے جھُکی
’’چاند نے جھک کے کہا ، اور ذرا آہستہ!‘‘
۔۔۔

ڈھونڈا کیے ہاتھ جگنوؤں کے
میلے سے بچھڑ کے آنسوؤں کے

اِک رات کھِلا تھا اُس کا وعدہ
آنگن میں ہجوم خوشبوؤں کے

شہروں سے ہَوا جو ہوکے آئی
رم چھننے لگے ہیں آہوؤں کے

کس بات پہ کائنات تج دیں
کھلتے نہیں بھید سادھوؤں کے

تنہا مری ذات دشتِ شب میں
اطراف میں خیمے بدوؤں کے!

یہ بول ہوا کے لب پہ ہیں یا
منتر ہیں قدیم جادوؤں کے!
۔۔۔

منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں
حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں

یہ تُو ہے کہ میرا واہمہ ہے!
بند آنکھوں سے تجھ کو تک رہی ہوں

جیسے کہ کبھی نہ تھا تعارف
یوں ملتے ہوئے جھجک رہی ہوں

پہچان! میں تیری روشنی ہوں
اور تیری پلک پلک رہی ہوں

کیا چَین ملا ہے ……… سر جو اُس کے
شانوں پہ رکھے سِسک رہی ہوں

پتّھر پہ کھلی ، پہ چشمِ گُل میں
کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہوں

جگنو کہیں تھک کے گرِ چُکا ہے
جنگل میں کہاں بھٹک رہی ہوں

گڑیا مری سوچ کی چھنی کیا
بچّی کی طرح بِلک رہی ہوں

اِک عمر ہُوئی ہے خُود سے لڑتے
اندر سے تمام تھک رہی ہوں

رس پھر سے جڑوں میں جا رہا ہے
میں شاخ پہ کب سے پک رہی ہوں

تخلیقِ جمالِ فن کا لمحہ!
کلیوں کی طرح چٹک رہی ہوں
 ۔۔۔

اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
کس مان پہ تجھ کو آزماؤں

زخم اب کے تو سامنے سے کھاؤں
دشمن سے نہ دوستی بڑھاؤں

تتلی کی طرح جو اُڑ چکا ہے
وہ لمحہ کہاں سے کھوج لاؤں

گروی ہیں سماعتیں بھی اب تو
کیا تیری صدا کو منہ دکھاؤں

اے میرے لیے نہ دُکھنے والے!
کیسے ترے دُکھ سمیٹ لاؤں

یوں تیری شناخت مجھ میں اُترے
پہچان تک اپنی بھُول جاؤں

تیرے ہی بھلے کو چاہتی ہوں
میں تجھ کو کبھی نہ یاد آؤں

قامت سے بڑی صلیب پاکر
دُکھ کو کیوں کر گلے لگاؤں

دیوار سے بیل بڑھ گئی ہے
پھر کیوں نہ ہَوا میں پھیل جاؤں
۔۔۔

اب کیسی پردہ داری ، خبر عام ہو چکی
ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی

اب آسماں سے چادرِ شب آئے بھی تو کیا
بے چاری زمین پہ الزام ہو چکی

اُجڑے ہُوئے دیار پہ پھر کیوں نگاہ ہے
اس کشت پر تو بارشِ اکرام ہو چکی

سُورج بھی اُس کو ڈھونڈ کے واپس چلا گیا
اب ہم بھی گھر کو لوٹ چلیں ، شام ہو چکی

شملے سنبھالتے ہی رہے مصلحت پسند
ہونا تھا جس کو پیار میں بدنام ہو چکی

کوہِ ندا سے بھی سخن اُترے اگر تو کیا
نا سامعوں میں حرمتِ الہام ہو چکی
۔۔۔

من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے

ایسا نہ ہو ، چاند بھید پا لے
پیراہنِ گُل شِکن سمیٹے

سوتی رہی آنکھ دن چڑھے تک
دُلہن کی طرح تھکن سمیٹے

گُزرا ہے چمن سے کون ایسا
بیٹھی ہے ہوا بدن سمیٹے

شاخوں نے کلی کو بد دُعا دی
بارش ترا بھولپن سمیٹے

آنکھوں کے طویل رتجگوں پر
چاند آیا بھی تو گہن سمیٹے

احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے

اندر سے شکست وہ بھی نکلا
لیکن وہی بانکپن سمیٹے

شام آئے تو ہم بھی گھر کو لوٹیں
چڑیوں کی طرح تھکن سمیٹے

خود جنگ سے دست کش تھے ہم لوگ
جذبات میں ایک رن سمیٹے

آنکھوں کے چراغ ہم بجھا دیں
سُورج بھی مگر کرن سمیٹے

بس پیار سے مِل رہے ہیں کچھ لوگ
چمکیلے بدن میں پھن سمیٹے

پھر ہونے لگی ہوں ریزہ ریزہ
آئے ….. مجھے میرا فن سمیٹے

غیروں کے لیے بکھر گئی ہوں
اب مجھ کو مِرا وطن سمیٹے
۔۔۔

پھُول آئے ، نہ برگِ تر ہی ٹھہرے
دُکھ پیڑ کے بے ثمر ہی ٹھہرے

ہیں تیز بہت ہَوا کے ناخن،
خوشبو سے کہو کہ گھر ہی ٹھہرے

کوئی تو بنے خزاں کا ساتھی
پتّہ نہ سہی ، شجر ہی ٹھہرے

اس شہرِ سخن فروشگاں میں
ہم جیسے تو بے ہُنر ہی ٹھہرے

اَن چکھّی اڑان کی بھی قیمت
آخر مرے بال و پر ہی ٹھہرے

روغن سے چمک اُٹھے تو مجھ سے
اچھّے مرے بام و در ہی ٹھہرے

کچھ دیر کو آنکھ رنگ چھُو لے
تتلی پہ اگر نظر ہی ٹھہرے

وہ شہر میں ہے ، یہی بہت ہے
کس نے کہا ، میرے گھر ہی ٹھہرے

چاند اُس کے نگر میں کیا رُکا ہے
تارے بھی تمام اُدھر ہی ٹھہرے

ہم خود ہی تھے سوختہ مقدر
ہاں! آپ ستارہ گر ہی ٹھہرے

میرے لیے منتظر ہو وہ بھی
چاہے سرِ رہگزر ہی ٹھہرے

پا زیب سے پیار تھا ، سو میرے
پاؤں میں سدا بھنور ہی ٹھہرے
۔۔۔

پانی پر بھی زادِ سفر میں پیاس تو لیتے ہیں
چاہنے والے ایک دفعہ بن باس تو لیتے ہیں

ایک ہی شہر میں رہ کر جن کو اذنِ دید نہ ہو
یہی بہت ہے ، ایک ہوا میں سانس تو لیتے ہیں

رستہ کِتنا دیکھا ہُوا ہو ، پھر بھی شاہ سوار
ایڑ لگا کر اپنے ہاتھ میں راس تو لیتے ہیں

پھر آنگن دیواروں کی اُونچائی میں گُم ہوں گے
پہلے پہلے گھر اپنوں کے پاس تو لیتے ہیں

یہی غنیمت ہے کہ بچّے خالی ہاتھ نہیں ہیں
اپنے پُرکھوں سے دُکھ کی میراث تو لیتے ہیں
۔۔۔

جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی

یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے
جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی

وہ میرے پاؤں کو چھُونے جھُکا تھا جس لمحے
جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی

شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں
مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی

کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر
تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی

پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم
جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی

بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا
اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی

ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا
تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی

کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا
نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی
۔۔۔

میرے چھوٹے سے گھر کو یہ کس کی نظر، اے خُدا! لگ گئی
کیسی کیسی دُعاؤں کے ہوتے ہُوئے بد دُعا لگ گئی

ایک بازو بریدہ شکستہ بدن قوم کے باب میں
زندگی کا یقیں کس کو تھا ، بس یہ کہیے ، دوا لگ گئی

جھُوٹ کے شہر میں آئینہ کیا لگا ، سنگ اُٹھائے ہُوئے
آئینہ ساز کی کھوج میں جیسے خلقِ خُدا لگ گئی

جنگلوں کے سفر میں تو آسیب سے بچ گئی تھی ، مگر
شہر والوں میں آتے ہی پیچھے یہ کیسی بلا لگ گئی

نیم تاریک تنہائی میں سُرخ پھُولوں کا بن کھِل اُٹھا
ہجر کی زرد دیوار پر تیری تصویر کیا لگ گئی

وہ جو پہلے گئے تھے ، ہمیں اُن کی فرقت ہی کچھ کم نہ تھی
جان! کیا تجھ کو بھی شہرِ نا مہرباں کی ہوا لگ گئی

دو قدم چل کے ہی چھاؤں کی آرزو سر اُٹھانے لگی
میرے دل کو بھی شاید ترے حوصلوں کی ادا لگ گئی

میز سے جانے والوں کی تصویر کب ہٹ سکی تھی مگر
درد بھی جب تھما ، آنکھ بھی جب ذرا لگ گئی
۔۔۔

وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا

اسے تو دوست ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ بھی تھے
خطا نہ ہوتا کسی طور ، تیر ایسا تھا

پیام دینے کا موسم نہ ہم نوا پاکر
پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا

کسی بھی شاخ کے پیچھے پناہ لیتی میں
مجھے وہ توڑ ہی لیتا، شریر ایسا تھا
ہنسی کے رنگ بہت مہربان تھے لیکن
اُداسیوں سے ہی نبھتی ، خمیر ایسا تھا
ترا کمال کہ پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں
غزالِ شوق کہاں کا اسیر ایسا تھا!
۔۔۔

تتلیوں کی بے چینی آ بسی ہے پاؤں میں
ایک پَل کو چھاؤں میں ، اور پھر ہَواؤں میں

جن کے کھیت اور آنگن ایک ساتھ اُجڑتے ہیں
کیسے حوصلے ہوں گے اُن غریب ماؤں میں

صورتِ رفو کرتے ، سر نہ یوں کھُلا رکھتے
جوڑ کب نہیں ہوتے ماؤں کی رداؤں میں

آنسوؤں میں کٹ کٹ کر کتنے خواب گرتے ہیں
اِک جوان کی میّت آ رہی ہے گاؤں میں

اب تو ٹوٹی کشتی بھی آگ سے بچاتے ہیں
ہاں کبھی تھا نام اپنا بخت آزماؤں میں

ابر کی طرح ہے وہ یوں نہ چھُو سکوں لیکن
ہاتھ جب بھی پھیلائے آ گیا دعاؤں میں

جگنوؤں کی شمعیں بھی راستے میں روشن ہیں
سانپ ہی نہیں ہوتے ذات کی گپھاؤں میں

صرف اِس تکبُّر میں اُس نے مجھ کو جیتا تھا
ذکر ہو نہ اس کا بھی کل کو نا رساؤں میں

کوچ کی تمنّا میں پاؤں تھک گئے لیکن
سمت طے نہیں ہوتی پیارے رہنماؤں میں

اپنی غم گُساری کو مشتہر نہیں کرتے
اِتنا ظرف ہوتا ہے درد آشناؤں میں

اب تو ہجر کے دُکھ میں ساری عُمر جلنا ہے
پہلے کیا پناہیں تھیں مہرباں چتاؤں میں

ساز و رخت بھجوا دیں حدِّ شہر سے باہر
پھر سُرنگ ڈالیں گے ہم محل سراؤں میں
۔۔۔

شوقِ رقص سے جب تک اُنگلیاں نہیں کھُلتیں
پاؤں سے ہواؤں کے ، بیڑیاں نہیں کھُلتیں

پیڑ کو دُعا دے کر کٹ گئی بہاروں سے
پھُول اِتنے بڑھ آئے ، کھڑکیاں نہیں کھلتیں

پھُول بن کی سیروں میں اور کون شامل تھا
شوخی صبا سے تو بالیاں نہیں کھُلتیں

حُسن کو سمجھنے کو عُمر چاہیے ، جاناں!
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھُلتیں

کوئی موجۂ شیریں چُوم کر جگائے گی!
سُورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھُلتیں

ماں سے کیا کہیں گی دُکھ ہجر کا ، کہ خود پر بھی
اِتنی چھوٹی عُمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں

شاخ شاخ سرگرداں ، کس کی جستجو میں ہیں
کون سے سفر میں ہیں ، تتلیاں نہیں کھُلتیں

آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ اُبھرتی ہے
چھپ پہ کون آتا ہے ، سیڑھیاں نہیں کھُلتیں

پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
کیا قیامتیں گزریں ، بستیاں نہیں کھُلتیں
۔۔۔

مٹّی کی گواہی خوں سے بڑھ کر
آئی ہے عجب گھڑی وفا پر

کس خاک کی کوکھ سے جنم لیں
آئے ہیں جو اپنے بیج کھو کر

کانٹا بھی یہاں کا برگِ تر ہے
باہر کی کلی ببول ، تھوہر

قلموں سے لگے ہُوئے شجر ہم
پل بھر میں ہوں کِس طرح ثمر ور

کچھ پیڑ زمین چاہتے ہیں
بیلیں تو نہیں اُگیں ہوا پر

اس نسل کا ذہن کٹ رہا ہے
اگلوں نے کٹائے تھے فقط سر

پتّھر بھی بہت حسیں ہیں لیکن
مٹّی سے ہی بن سکیں گے کچھ گھر

ہر عشق گواہ ڈھونڈتا ہے
جیسے کہ نہیں یقیں خود پر

بس اُن کے لیے نہیں جزیرہ
پَیر آئے جو کھولتے سمندر
۔۔۔

حلقۂ رنگ سے باہر نکلوں
خود کو خوشبو میں سمو کر دیکھوں

اُس کو بینائی کے اندر دیکھوں
عمر بھر دیکھوں کہ پل بھر دیکھوں

کس کی نیندوں کے چُرا لائی رنگ
موجۂ زُلف کو چھُو کر دیکھوں

زرد برگد کے اکیلے پن میں
اپنی تنہائی کے منظر دیکھوں

موت کا ذائقہ لکھنے کے لیے
چند لمحوں کو ذرا مَر دیکھوں
۔۔۔

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کِس سے بولیے
میں جانتی تھی، پال رہی ہوں سنپولیے!

بس یہ ہُوا کہ اُس نے تکلّف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے

پلکوں پہ کچی نیندوں کا رَس پھیلتا ہو جب
ایسے میں آنکھ دھُوپ کے رُخ کیسے کھولیے

تیری برہنہ پائی کے دُکھ بانٹتے ہُوئے
ہم نے خُود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے

میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی
سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے!

’’خوشبو کہیں نہ جائے‘‘ یہ اصرار ہے بہت
اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زُلف کھولیے

تصویر جب نئی ہے ، نیا کینوس بھی ہے
پھر طشتری میں رنگ پُرانے نہ گھولیے
۔۔۔

یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے، نہ گئے
کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے

اب وہ نیندوں کا اُجڑتا تو نہیں دیکھیں گے
وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے

رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا
رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چرائے نہ گئے

بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی
عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے

پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر
ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے

تیز بارش ہو، گھنا پیڑ ہو، اِک لڑکی ہو
ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے

روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال
چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے
۔۔۔

گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو
کوئی وجود محبّت کا استعارہ ہو

میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں
جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو

کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں ، کہیں مل لیں
یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو

یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
کہیں ہوا کا ہی اُس نے نہ رُوپ دھارا ہو

اُفق تو کیا ہے، درِ کہکشاں بھی چھُو آئیں
مُسافروں کو اگر چاند کا اشارہ ہو

میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے
میں چاہے نظم کا ٹکڑا، وہ نثر پارہ ہوا

۔۔۔۔

نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
آنکھ کا نیند سے دل چھُوٹ رہا ہو جیسے

رنگ پھیلا تھا لہُو میں نہ ستارہ چمکا
اب کے ہر لمس ترا جھُوٹ رہا ہو جیسے

پھر شفق ہُوئی کوچہ جاناں کی زمیں
آبلہ پاؤں کا پھر پھُوٹ رہا ہو جیسے

روشنی پائی نہیں ، رات بھی باقی ہے ابھی
چاند سے رابطہ مگر ٹوٹ رہا ہو جیسے!

سُرخ بیلیں تو ستونوں میں چڑھی ہیں لیکن
کوئی آنگن کا سکوں ، لُوٹ رہا ہو جیسے
۔۔۔

دستِ شب پر دکھائی کیا دیں گی
سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی

گھر کی دیواریں میرے جانے پر
اپنی تنہائیوں کو سوچیں گی

اُنگلیوں کو تراش دوں ، پھر بھی
عادتاً اُس کا نام لکھیں گی

رنگ و بُو سے کہیں پناہ نہیں
خواہشیں بھی کہاں اماں دیں گی

ایک خوشبو سے بچ بھی جاؤں اگر
دُوسری نکہتیں جکڑ لیں گی

خواب میں تتلیاں پکڑنے کو 
نیندیں بچوں کی طرح دوڑیں گی

کھڑکیوں پر دبیز پردے ہوں
بارشیں پھر بھی دستکیں دیں گی
۔۔۔

ذرے سرکش ہُوئے ، کہنے میں ہوائیں بھی نہیں
آسمانوں پہ کہیں تنگ نہ ہو جائے زمیں

آ کے دیوار پہ بیٹھی تھیں کہ پھر اُڑ نہ سکیں
تتلیاں بانجھ مناظر میں نظر بند ہُوئیں

پیڑ کی سانسوں میں چڑیا کا بدن کھنچتا گیا
نبض رُکتی گئی ، شاخوں کی رگیں کھلتی گئیں

ٹوٹ کر اپنی اُڑانوں سے ، پرندے آئے
سانپ کی آنکھیں درختوں پہ بھی اب اُگنے لگیں

شاخ در شاخ اُلجھتی ہیں رگیں پَیڑوں کی
سانپ سے دوستی ، جنگل میں نہ بھٹکائے کہیں

گود لے لی ہے چٹانوں نے سمندر سے نمی
جھوٹے پھُولوں کے درختوں پہ بھی خوشبوئیں ٹکیں
۔۔۔

کیسے کیسے تھے جزیرے خواب میں
بہہ گئے سب نیند کے سیلاب میں

لڑکیاں بیٹھی تھیں پاؤں ڈال کر
روشنی سی ہو گئی تالاب میں

جکڑے جانے کی تمنّا تیز تھی
آ گئے پھر حلقۂ گرداب میں

ڈوبتے سُورج کی نارنجی لیکن
تیرتی ہے دیدۂ خونناب میں

وہ تو میرے سامنے بیٹھا تھا___پھر
کس کا چہرہ نقش تھا مہتاب میں!
۔۔۔

نظر کی تیزی میں ہلکی ہنسی کی آمیزش
را سی دھوپ میں کچھ چاندنی کی آمیزش

یہی تو وجہِ شکستِ وفا ہُوئی میری
خلوصِ عشق میں سادہ دلی کی آمیزش

مرے لیے ترے الطاف کی وہ اُجلی رُت
عذابِ مرگ میں تھی زندگی کی آمیزش

وہ چاند بن کے مرے جسم میں پگھلتا رہا
لہُو میں ہوئی گئی روشنی کی آمیزش

یہ کو ن بن میں بھٹکتا تھا جس کے نام پہ ہے
ہوائے دشت میں آشفتگی کی آمیزش

زمیں کے چہرے پہ بارش کے پہلے پیار کے بعد
خوشی کے ساتھ تھی حیرانگی کی آمیزش

سمندروں کی طرح میری آنکھ ساکت ہے
مگر سکوت میں کس بے کلی کی آمیزش
۔۔۔

وہ جس سے رہا آج تک آواز کا رشتہ
بھیجے مری سوچوں کو اب الفاظ کا رشتہ

تِتلی سے مرا پیار کُچھ ایسے بھی بڑھا ہے
دونوں میں رہا لذّتِ پرواز کا رشتہ

سب لڑکیاں اِک دوسرے کو جان رہی ہیں
یوں عام ہُوا مسلکِ شہناز کا رشتہ

راتوں کی ہَوا اور مرے تن کی مہک میں
مشترکہ ہُوا اک درِ کم باز کا رشتہ

تتلی کے لبوں اور گُلابوں کے بدن میں
رہتا ہے سدا چھوٹے سے اِک راز کا رشتہ

ملنے سے گریزاں ہیں ، نہ ملنے پہ خفا بھی
دم توڑتی چاہت ہے کِس انداز کا رشتہ
۔۔۔

چاند میری طرح پگھلتا رہا 
نیند میں ساری رات چلتا رہا

جانے کس دُکھ سے دل گرفتہ تھا
مُنہ پہ بادل کی راکھ ملتا رہا

میں تو پاؤں کے کانٹے چُنتی رہی
اور وہ راستہ بدلتا رہا

رات گلیوں میں جب بھٹکتی تھی 
کوئی تو تھا جو ساتھ چلتا رہا

موسمی بیل تھی مَیں ، سُوکھ گئی
وہ تناور درخت، پَھلتا رہا

سَرد رُت میں ، مُسافروں کے لیے 
پیڑ ، بن کر الاؤ ، جلتا رہا

ق
دل ، مرے تن کا پھُول سا بچّہ
پتّھروں کے نگر میں پلتا رہا

نیند ہی نیند میں کھلونے لیے
خواب ہی خواب میں بہلتا رہا

Post a Comment
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets