Pages

▼

Friday, 30 March 2012

میرے ھمسفر میرے ہم نوا مجھے بھول کر تجھے کیا ملا






میرے ھمسفر میرے ہم نوا مجھے بھول کر تجھے کیا ملا
میری عمر بھر کی وفاوں کا تو نے دیا یہ کیا صلہ
‏
میرے درد دل کو کر ید مت مری حسرتوں کو ہوا نہ دے
تیری شوخیوں سے نہ چل پڑے کہیں پھر پرانا سلسلہ
‏
تیری محفلیں تیری مجلسیں ہر دم سجی رہیں یونہی
تیری آنکھ نم نہ ہو کھبی نہ تجھ پہ آے کوئی ابتلا
‏
یہ مقدروں کے کھیل ہیں کوئی اجڑ گیا کوئی سنور گیا
اس حادثے کو بھول جا تجھ سے نہیں کوئی گلہ

No comments:

Post a Comment