Friday, 29 March 2013

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی


ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی 
کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی 

دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے 
نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی 

نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں 
ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی 

کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں 
کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

Khil utha chaand kaffan men bhi teray chehray ka



khil utha chaand kaffan men bhi teray chehray ka

chain ki neend tera roop sajati jaaye

کھل اٹھا چاند کفن میں بھی ترے چہرے کا
چین کی نیند ترا روپ سجاتی جائے

مبتلا ہے عذاب میں تتلی


مبتلا ہے عذاب میں تتلی
تھی بہاراں کے خواب میں تتلی

دل کوئی فرطِ غم سے ٹوٹ گیا
مر گئی اک کتاب میں تتلی

آخر اک روز اپنی جان سے گئی
آئینے کے سراب میں تتلی

رات کو اک عجب منظر تھا
ہالہ ماہتاب میں تتلی

دیکھئے آج کس سے ملنا ہو
میں نے دیکھی ہے خواب میں تتلی

آہ، پیوستِ نوکِ خار ہوئی
اپنے عہد شباب میں تتلی

زخم میرے بدن پر ایسے سجے
جیسے شاخِ گلاب میں تتلی

جانے رہتی ہے کس کے غم میں نسیم
ہر گھڑی اضطراب میں تتلی

مگر اس بات کو بیتے زمانہ ہوگیا لوگو


بڑا عرصہ ہوا اک دن
بتایا تھا مجھے اُس نے
بنانا کچھ نہیں آتا
اگر میں کچھ بناتی ہوں
تو بس چائے بناتی ہوں
میں چائے کی دیوانی ہوں
بہت اچھی بناتی ہوں
پیو گے نا ۔۔۔۔۔؟
تو میں اس بات پر یوں مسکراتاہی رہا تھا کہ
بنانا کچھ نہیں آتا! ۔
بس اک چائے بناتی ہو۔۔؟
مجھے چائے سے اُلجھن ہے
نہیں پیتا
نہیں پیتا

مگر اس بات کو بیتے زمانہ ہوگیا لوگو۔۔۔!
نہیں معلوم مجھ کو کہ
وہ کیسی ہے ؟
کہاں پر ہے ؟

مگر اب میں چائے پیتا ہوں۔۔۔
بہت کثرت سے پیتا ہوں۔۔۔


ھم نہ کہتے تھے اسے کھویا تو مر جاؤ گے


ایک جھونکے کی طرح دل میں اترتے کیوں ہو 
گر بچھڑنا تھا تو یادوں میں چمکتے کیوں ہو

ہو سکے تو مجھے خوشبو سے معطر کر دو
پھول بن کے میرے بالوں میں اٹکتےکیوں ہو

تم جو کہتے 
 ہو کوئی بات کبھی غزلوں میں
اپنے الفاظ میں کہنے سے جھجکتے کیوں 

ھم نہ کہتے تھے اسے کھویا تو مر جاؤ گے
اب چراغوں کی طرح شب کو سسکتےکیوں 
ہو

جس کو جانے دیا روکا بھی نہیں الفت میں
اس کے سائے سے سر شام لپٹتے کیوں ھو

میرے دل سے کب کسی ھمدرد نے پوچھا
تم شب ہجر کے لمحوں میں بکھرتے کیوں 
ہو

جس نے خود سے کبھی اقرار محبت نہ کیا
اس کی خاطر بھری دنیا سے الجھتے کیوں 
ہو

میں وقت کے فرعون کی تحقیر کروں گا


سورج کا بدن کاٹ کے زنجیر کروں گا
اس طرح سے میں وقت کو تسخیر کروں گا

میں ظلم کے ایوان میں اعلان بغاوت
میں وقت کے فرعون کی تحقیر کروں گا

اے بادِ وفا آ تو سہی میری گلی میں
میں اپنے لہو سے تری توقیر کروں گا

جس کو نہ کوئی خوف ہو اس سنگ صفت کا
اب شیش محل ایسا میں تعمیر کروں گا

ہر ایک غزل درد کی سوغات سے بھر کر
میں پیرویِء میر تقی میر کروں گا


Baat Baat per Muskurana Unki Aadat thi


Nazron sey Nazrein mili to Bura Maan gaye
Hum ney Aankhon sey Ishara kiya to Bura Maan gaye
 
 
Baat Baat per Muskurana Unki Aadat thi,
Zara sa Hum ney jo Hansaya to Bura Maan gaye
 
 
Hamein Aazmaney ki Baat kartey thay Aksar,
Jab Hum ney Aazmaya to Bura Maan gaye
 
 
Pyaar men Be-Wafai na karna Wo Kehtey thay,
Isi Baat ko Hum ney Dohraya to Bura Maan gaye

دہلیز پہ بکھرا ہوا جیسے سامان پڑا ہے


کیوں شہر ِغم ِہجر بیابان پڑا ہے
دل عمر سے سینے میں پریشان پڑا ہے

اک راستہ ہے آنکھوں میں بہت دیر سے خالی
اک شہر ہے سینے میں جو سنسان پڑا ہے

بیماری ِدل وقت زیادہ نہیں دیتی

دیکھ تیرا دیوانہ گھڑیوں کا مہمان پڑا ہے

صحرا کی طرح دھوپ اگاتی ہے محبّت
دل اتنا پیاسا ہے کہ لبِ جان پڑا ہے

اجڑا ہے کوئی تندی حالات کے ہاتھوں
دہلیز پہ بکھرا ہوا جیسے سامان پڑا ہے


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets