Tuesday, 16 July 2013

یہ نہ تھی ہماری قسمت

ہم آج بھری بزم میں جھوٹے ہوئے محسن

آنکھ بے وجہ نم ہو جائے

ھم تو گھر سے بچپن اوڑھ کے نکلے تھے


گرميوں ميں جب سب گھر والے سو جاتےتھے
دھوپ کي اُنگلي تھام کے ہم چل پڑتے تھے
ہميں پرندے کتنے پيار سے تکتے تھے
ھم جب ان کے سامنے پاني رکھتے تھے
موت ہميں اپني اّ غوش ميں چھپاتي تھي
قبرستان ميں جا کر کھيلا کرتے تھے
رستے ميں اِک ان پڑھ دريا پڑتا تھا
جس سے گزر کر پڑھنے جايا کرتے تھے
جيسے سورج اّ کر پياس بجھائے گا
صبح سويرے ايسے پاني بھرتے تھے
اُڑنا ھم کو اتنا اچھا لگتا تھا
چڑياں پکڑ کر اُن کو چوما کرتے تھے
تتلياں ہم پر بيٹھا کرتيں تھيں
ھم پھولوں سے اتنے ملتے جلتے تھے
ملي تھي يہ جواني ھم کو رستے ميں
ھم تو گھر سے بچپن اوڑھ کے نکلے تھے


بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے
تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے
وہ خوشياں بھي جانے کيسي خوشياں تھيں
تتلي کے پر نُوچ کے اُچھلا کرتے تھے
مار کے پاؤں ہم بارش کے پاني ميں
اپني ناؤ آپ ڈبويا کرتے تھے
چھوٹے تھے تو مِکرو فريب بھي چھوٹے تھے
دانہ ڈال کے چڑيا پکڑا کرتے تھے
اب تو اِک آنسو بھي رُسوا کر جائے
بچپن ميں جي بھر کے رُويا کرتے تھے
خُوشبو کے اُڑتے ہي کيوں مرجھايا پھول
کتنے بھولے پن سے پوچھا کرتے تھے
کھيل کود کے دن بھر اپني ٹولي ميں
رات کو ماں کي گُود ميں سويا کرتے تھے

کتنی پیاسی ھیں یہ بنجر آنکھیں


منجمد خون میں ھلچل کر دے
مجھ کو چھو اور مکمل کر دے

کتنی پیاسی ھیں یہ بنجر آنکھیں
ابر زادے، انہیں جل تھل کر دے

میں نے وہ درد چھپا رکھا ھے
جو تیرے حسن کو پاگل کر دے

سارے انسان ھی وحشی ھیں تو پھر
اس بھرے شہر کو جنگل کر دے

اے جھلستے ھوئے جسموں کے خدا
جلتی دوپہر پہ بادل کر دے

خوشبو آئی ھے تو لوٹے نہ کبھی
اب ہوا کو بھی کوئی شل کر دے

یا مجھے وصل عطا کر مالک
یا میرا ہجر مکمل کر دے

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا

Monday, 15 July 2013

آخری لمحہ تیری دلداری کا

کونپلیں ریت سے پُھوٹیں گی سر ِ دشت ِ وفا


کونپلیں ریت سے پُھوٹیں گی سر ِ دشت ِ وفا
آبیاری کے لِیے خُون ِ جِگر تو لاؤ

کِسی گُھونگھٹ سے نکل آئے گا رُخسار کا چاند
جو اُسے دیکھ سکے ایسی نظر تو لاؤ

شہر کے کُوچہ و بازار میں سنّاٹا ہے
آج کیا سانِحہ گُزرا ہے خبر تو لاؤ

ایک لمحے کے لِیے اُس نے کِیا ہے اقرار
ایک لمحے کے لِیے عُمر ِ خضر تو لاؤ

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets