Thursday, 19 September 2013

بچھڑے جو ایک بار وہ پیارے نہ مل سکے


مشکل جو آ پڑی تو سہارے نہ مل سکے
ہم ڈوبتے ہوؤں کو کنارے نہ مل سکے

تیرے بغیر کچھ بھی سجھائی نہیں دیا
وہ تیرگی تھی چاند ستارے نہ مل سکے

ہم انتظار کرتے ہوئے راکھ ہو گئے
بچھڑے جو ایک بار وہ پیارے نہ مل سکے

نکلے تھے تیری کھوج میں بیتی تمام عمر
ہم کو تو نقشِ پا بھی تمہارے نہ مل سکے

تھا عشق میں عجیب سا دھڑکا لگا ہوا
ملنا تھا تم سے خوف کے مارے نہ مل سکے

کچھ لوگ تھے جو اور ہی دنیا میں کھو گئے
ٹوٹے جو آسمان سے تارے نہ مل سکے

تو بھی وفا پرست تھی میں بھی وفا پرست
لیکن یہ کیا کہ بخت ہمارے نہ مل سکے

جب تو قبول ہے،تیرا سب کچھ قبول ہے


پتھر ہے تیرے ہاتھ میں یا کوئی پھول ہے
جب تو قبول ہے،تیرا سب کچھ قبول ہے

پھر تونے دے دیا ہے نیا فاصلہ مجھے
سر پر ابھی تو پچھلی مسافت کی دھول ہے

تو دل پہ بوجھ لے کے ملاقات کو نہ آ
ملنا ہے اس طرح تو بچھڑنا قبول ہے

تو یار ہے تو اتنی کڑی گفتگو نہ کر
تیرا اصول ہے تو میرا بھی اصول ہے

لفظوں کی آبرو کو گنواؤ نہ یوں عدیم
جو مانتا نہیں ،اسے کہنا فضول ہے

آکے ہنسی لبوں پہ بکھر بھی گئی عدیم
جانے زیاں ہے یہ کہ خوشی کا حصول ہے

عمر بھر محبّت کا کچھ یوں سلسلہ رہا


میں عجیب زمانے کی وفا دیکھتا رہا
عمر بھر اپنے آپ کو تنہا دیکھتا رہا

کہیں نہ کہیں تو بدل ہی جاتے ہیں سلسلے
مگر میں جہاں بھی گیا صحرا دیکھتا رہا

جانے کیوں کتراتے ہیں لوگ مجھ سے ملنے سے
کل شب بھر میں آئینہ دیکھتا رہا

پانی مانگتے مانگتے میرے ہونٹ پتھر ہو گئے
وہ شخص مشکیزہ لئے کھڑا دیکھتا رہا

بے گناہ تھا پھر بھی سر جھکائے ہوئے
ستمگر کے ستم کی انتہا دیکھتا رہا

عمر بھر محبّت کا کچھ یوں سلسلہ رہا
میں اسے اور وہ دنیا دیکھتا رہا

کہوں گا خدا سے یوم ِحساب کو محسن
کہ زمانہ میری بربادی کا تماشا دیکھتا رہا

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets