Friday, 30 May 2014

Hum Dasht-e-junoon k sodaai




Hum Dasht-e-junoon k sodaai
hum Gard-e-safar hum Naqash-e-qadam

Hum soz-e-Talab hum Taraz-e-Fughaan
hum Ranj-e-chaman hum Fasal-e-Khizaa'n

Hum Heyrat-o-hasrat hum Yaas-o-Alam
Hum dasht-e-junoon k sodaai

yeh dasht-e-junoon yeh pagal pan
yeh peecha karti ruswaai

yeh Ranj-o-Alam yeh Huzn-0-malal
yeh naala-e-shab yeh souz-e-kamal

Dil men kahin bey'naam chubhan
or Had-e-nazar tak Tanhai

Hum Dasht-e-junoon k sodaai

yeh Rooh-0-badan ka rishta tha
kaii saal huey woh toot gaya

Ab dil ki Dharkan Ruk jaaye
Ab saaans ki dori Tootey bhi

HUm dasht-e-junoon k sodaai ...... !!

تری چاہت کا کچا رنگ



تری چاہت کا کچا رنگ
دھنک رنگوں میں اُترا تھا
مرے بے داغ آنچل پر
خوشی کے پر لگا کر میں
چلی تھی آسماں چھونے
مگر موسم کی سختی میں
کسی بادِ مخالف نے
مرے پر ہی نوچ ڈالے

تری چاہت کا کچا رنگ
مری آنکھوں میں اُترا تھا
ستاروں سی چمک لے کر
گلابی رنگ کے سپنے
دکھا کے چار دن مجھ کو
ٓاُڑا کر لے گیا نیندیں

تری چاہت کا کچا رنگ
مرے چہرے پہ اُترا تھا
گلوں کی شوخیاں لے کر
جبیں تھی چاند سی روشن
تبسم تھا لبوں پہ بھی
بہت اترا رہی تھی میں
یونہی شرما رہی تھی میں
کوئی رہزن کوئی دُشمن
چُرا کر لے گیا خوشیاں
مجھے بس دے گیا ہے وہ
خزاں کا زرد پیلا رنگ
مرے چہرے سے اُترا ہے

تری چاہت کا کچا رنگ
مرے دل پر بھی اُترا تھا
سنہری تھے ترے وعدے
ترے خوش کن ارادے تھے
ترا لہجہ تری باتیں
ترے ہی غم تری خوشیاں
مجھے بس یاد تھا تو ہی
میں خود کو بھول بیٹھی تھی
مگر تو نے غضب کیسا
مرے اس دل پہ ڈھایا ہے
مجھے دل سے بھلایا ہے
غموں کے سرمئی سائے
مرے دل پہ یوںچھائے ہیں
مرے دل سے بھی اُترا ہے
تری چاہت کا کچا رنگ.......!!

ﺳﻨﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ














ﺳﻨﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ
ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ
ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺭﻧﮓ ﺑﮭﯽ ﻟﮑﮭﻮ
ﺟﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺟﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺯﺑﺎﮞ ﺗﮏ ﺁ ﺗﻮ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺩﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﮐﻮ ﺗﺼﻮﯾﺮ
ﮐﺮ ﺩﻭ ﻧﺎﮞ!
ﻣﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﮎ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﻈﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ
ﮐﺮ ﺩﻭ ﻧﺎﮞ!
ﺟﺴﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﻭﮞ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ
ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ

Thursday, 29 May 2014

ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﺭﻓﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ



ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ
ﮐﯽ ﺷﻔﻖ ﺍﺏ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ
ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ
ﯾﺎﺭ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﭘﺮ
ﺳﺮﺥ ﺭﯾﺸﻢ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ
ﺭﻧﮓ ﻭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﮯ ﻣﮩﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﻡ ﺳﮯ
ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ، ﻭﺻﻞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻣﺮﮮ ﺟﯿﺴﺎ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﺭﻓﻮ
ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ

کیلنڈر




آج یونہی شام کو ‘ اچانک
خیال آیا جانے کونسی تاریخ ہے
کیلنڈر کے پاس ‘ جاکر قدم‘ تھم سے گئے
اور ذہن ‘ چونک گیا
"یہ تو کچھ آشنا سی تاریخ ہے
میں نے ستون کو تھام کر سوچا
یہ تو وہی‘ جو مدتوں
دل پر جمی رہی اور۔۔
"اس حسیں شام کی مہک
جب تمہاری ‘
باتوں کا سحر ‘ تمہارے سراپے کا نکھار
میرے رگ و پے میں اتر کر‘
مرے دل کو ‘اک درد۔۔۔۔سا دے گیا
مگر اب۔۔۔۔(میں نے سوچا)
اب تو زمانہ بیت گیا۔۔۔کچھ یاد کئے
مگریونہی ‘ کبھی کبھی۔۔
کیلنڈر کے پاس جاکر۔۔۔
آنکھیں برسوں پہلے کے منظر
کو دہراتی ہیں۔۔۔

میرے تخیل میں کوئی آکر



نہ آنکھیں دیکھ پائی ہیں
نہ کانوں میں
مدھر آواز نے جادو جگایا ہے

مگر
احساس کی ہر پور میں
میرے تخیل میں
کوئی آکر دبے پاؤں
اجالے بانٹ جاتا ہے

یہ کیا کم ہے
کوئی تو ہے
جو میرے ساتھ ہے
اس ساتھ کا احساس
کتنا روح پرور ہے

کوئی تو ہے
جسے میرے تخیل میں
چلے آنے کی عادت ہے

Wednesday, 28 May 2014

Aur ab Is baat ko guzrey zamaney ho gaye kitney



Bohat arsa hua ik din...
Bataya tha mujhey us ney...
Banana kuch nahin aata...
Agar main kuch banati hoon...
To bas chaaye banati hoon...
Peo gey na...
Aur main is baat par muskrata hi raha tha keh ...
Banana kuch nahin aata...
Banati hoon to bas chaaye...
Mujhey chaaye sey uljhan hai...
Nahin peeta nahin peeta...
Aur ab Is baat ko guzrey zamaney ho gaye kitney...
Nahin maloom mujh ko keh...
Wo kaisi hai kahan pey hai...
Magar ab chaaye...
Barri kasrat sey peeta hoon...
Barri hasrat sey peeta hoon........!!!!

وہ شخص .... مر گیا کل شب











جس کی آنکھ میں ، نمی سی تھی , جسکا چہرہ ، ملول رہتا تھا
وہی ، جو ... بے توجہی کے سبب ہمیشہ ____ "بے اصول رہتا تھا"

وہ اک شخص ...... جانتی ہو تم ....؟

"وہ" ..... جسے نیند بہت پیاری تھی ....
"وہ" ..... جو ایک خواب کے اثر میں تھا ....
"وہ" .... جو لا علم رہا منزل سے ....
"وہی" .... جو عمر بھر سفر میں تھا ....
وہ اک شخص ...... جانتی ہو تم ....؟

جس نے خوشبو کی تمنا کی تھی ، اور ... روندھے گلاب
پائے تھے
جس نے ، اپنی ہی نیکیوں کے سبب ، رفتہ رفتہ .... عذاب
پائے  تھے
"وہ اک شخص" ...... جانتی ہو تم ....؟

وہ جس کا دین ، بس محبت تھا ، وہ جس کا ایمان .... وفائیں تھیں
وہ ... جس کی سوچ بھی پریشان تھی ، وہ جس کے لب پر فقط دعائیں تھیں
وہی ، الجھی ہوئی .... "بے چین سی باتوں والا"
محبتوں سے .... ڈر گیا کل شب
ہجر کے دکھ کو سہتے سہتے ، وہ شخص
مر گیا _____ کل شب

آؤ .... اب لاش اٹھاؤ اس کی ، وہ جو "تیرے اثر میں رہتا تھا"
آؤ .... اب سوگ مناؤ اس کا ، وہ جو ... سورج کو قمر کہتا تھا

محبتوں سے ، ڈر گیا کل شب ......
وہ شخص .... مر گیا کل شب

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets