Showing posts with label احمد ندیم قاسمی. Show all posts
Showing posts with label احمد ندیم قاسمی. Show all posts

Friday, 17 April 2015

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا


کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے

صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا

اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح

سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا

تیرا پیماں وفا راہ کی دیوار بنا

ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا، مرجاؤں گا

چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں

زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا

اب تو خورشید کو ڈوبے ہوئے صدیاں گزریں

اب اسے ڈھونڈنے میں تابہ سحر جاؤں گا

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم

بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کرجاؤں گا

Friday, 12 September 2014

تضاد



کتنے کوسوں پہ جا بسی ہے تو
میں تجھے سوچ بھی نہیں سکتا
اتنا بے بس ہوں، تیری سوچ کو میں
ذہن سے نوچ بھی نہیں سکتا
مجھ سے تو دور بھی ہے، پاس بھی ہے
اور مجھے ، یہ تضاد راس بھی ہے

Saturday, 10 August 2013

کبھی جھانکا تری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے


تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے
کبھی جھانکا تری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے

لمس کے دم سے بصارت بھی، بصیرت بھی ملی
چُھو کے دیکھا تو جو پتھر تھے نرے ریشم تھے

تیری یادیں کبھی ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیں
میرے گھر کے یہی ہیرے تھے، یہی نیلم تھے

برف گرماتی رہی، دھوپ اماں دیتی رہی
دل کی نگری میں جو موسم تھے، ترے موسم تھے

مری پونجی مرے اپنے ہی لہو کی تھی کشید
زندگی بھر کی کمائی میرے اپنے غم تھے

آنسوؤں نے عجب انداز میں سیراب کیا
کہیں بھیگے ہوئے آنچل، کہیں باطن نم تھے

جن کے دامن کی ہوا میرے چراغوں پہ چلی
وہ کوئی اور کہاں تھے وہ مرے ہمدم تھے

میں نے پایا تھا بس اتنا ہی صداقت کا سُراغ
دُور تک پھیلتے خاکے تھے، مگر مبہم تھے

میں نے گرنے نہ دیا مر کے بھی معیارِ وقار
ڈوبتے وقت مرے ہاتھ مرے پرچم تھے

میں سرِ عرش بھی پہنچا تو سرِ فرش رہا
کائناتوں کے سب امکاں مرے اندر ضم تھے

عمر بھر خاک میں جو اشک ہوئے جذب ندیم
برگِ گل پر کبھی ٹپکے تو وہی شبنم تھے

Sunday, 7 April 2013

مجھ کو یہ مشورہ مرے درد آشنا کا تھا


انداز ہو بہو تیری آوازِ پا کا تھا
دیکھا نکل کےگھرسے توجھونکا ہوا کا تھا

اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر
عادی فنا کا تھا تو پجاری بقاء کا تھا

اس رشتہء لطیف کے اسرار کیا کھلیں
تو سامنے تھا اور تصور خدا کا تھا


ٹوٹا تو کتنے آئینہ خانوں پہ زد پڑی
اٹکا ہوا گلے میں جو پتھر صدا کا تھا

چھپ چھپ کے روؤں اور سرِ انجمن ہنسوں
مجھ کو یہ مشورہ مرے درد آشنا کا تھا

دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی
یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا

اس حسنِ اتفاق پہ لٹ کر بھی شاد ہوں
تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا


حیران ہوں کہ دار سے کیسے بچا “ندیم“
وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا


Monday, 26 November 2012

ترکِ محبت کو ایک عُمر ہوئی























شعوُر میں، کبھی احساس میں بساؤں اُسے
مگر مَیں چار طرف بے حجاب پاؤں اُسے

اگرچہ فرطِ حیا سے نظر نہ آؤں اُسے
وہ رُوٹھ جائے تو سو طرح سے مناؤں اُسے

طویل ہجر کا یہ جبر ہے، کہ سوچتا ہوں
جو دل میں بستا ہے، اب ہاتھ بھی لگاؤں اُسے

اُسے بلا کے مِلا عُمر بھر کا سناّٹا
مگر یہ شوق، کہ اِک بار پھر بلاؤں اُسے

اندھیری رات میں جب راستہ نہیں مِلتا
مَیں سوچتا ہوں، کہاں جا کے ڈھوُنڈ لاؤں اُسے

ابھی تک اس کا تصوّر تو میرے بس میں ہے
وہ دوست ہے، تو خدا کِس لیے بناؤں اُسے

ندیم ترکِ محبت کو ایک عُمر ہوئی
مَیں اب بھی سوچ رہا ہوں، کہ بُھول جاؤں اُسے


Wednesday, 29 August 2012

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے



خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets