Showing posts with label ڈاکٹر نجمہ شاہین. Show all posts
Showing posts with label ڈاکٹر نجمہ شاہین. Show all posts

Sunday, 29 November 2015

یہ تنہا لڑکی



!اے شبِ تار 
تجھکو معلوم بھی ہے ؟
تیری تاریکی میں دیئے جلانے والی
یہ تنہا لڑکی
اب تک اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے
کیوں الجھتی ہے ؟
کس کی راہ تکتی ہے ؟

خواب کی خواہش میں ہم تو کھو چکے بینائیاں


Saturday, 28 November 2015

یہ تو میں بھی جانتی تھی کہ بچھڑنا تو لازم تھا



گزری ھوئی باتوں کی کتنی عجیب سی تقسیم ھے 
تم نے وہ کہا تھا 
میں نے یہ کہا تھا 
اُن ھی باتوں کی ھر بار ایک نئی سی تفہیم ھے 
سنو میری جان 
یہ تو میں بھی جانتی تھی کہ بچھڑنا تو لازم تھا 
تقدیر کی اٍس کہانی میں وقت ھی بڑا ظالم تھا 
سچ کہوں تو 
جو ھوا ٹھیک ھی ھوا پر جیسے ھوا وہ ٹھیک نہ تھا 
کہانی کے آخر میں 
ھمارا یوں خالی ھاتھ رہ جانا بس ٹھیک نہ تھا

کبھی جو لوٹ کے تم آؤ گے جاناں



کبھی جو لوٹ کے تم آؤ گے جاناں
تم کو یاد آئیں گے دن وہ سارے
وہ بیتی باتیں وہ لمحے پیارے
جب انجانی ، ان دیکھی گلیوں میں
دو دل مہک رہے تھے
ایک منزل کے بن کے متلاشی
انجان راہوں میں بھٹک رہے تھے
یونہی بے دھیانی کے کسی ایک پل میں
جب بھی جاناں تم کو خیال آئیگا
بھول کے سارے اندیشہ و غم
دل تمہارا بھی مسکرائے گا
اور یونہی چلتے چلتے کبھی
جب ان راہوں سے گزرو گے جاناں
جہاں ایک شجر قصہ سنائے گا تم کو
دو روحوں کا ملنا دکھائے گا تم کو
وصل و فراق کی روداد وہ ساری
ٹھہر ٹھہر کے سسکیوں کے درمیاں بتائیگا تم کو
تو ایسے بے کل ، بے قرار لمحوں میں کہیں
آنکھیں تو تیری بھی بھر آئیں گی
رہ رہ کر بھولا وہ منظر دہرائیں گی
پھر وہ جدائی کا منظر و محشر
رہ رہ کے تم کو بھی یاد آئے گا
مگر موسم ووقت کی لکیروں میں جاناں
رُت وہ محبت کی بدل جائے گی
چاند کی چاندنی بھی ڈھل جائے گی
وہ پھول تارے بھی ہوں گے شاید
وہ لوگ پیارے بھی ہوں گے شاید
نگاہیں تمہاری جنہیں ڈھونڈتی ہوں گی
وہ تمھارے پیارے نہ ہوں گے شاید
ہاں ہم تمہارے نہ ہوں گے شاید

آکاس بیل



کبھی بچے تھے تو سنتے تھے
آکاس بیل تناور درخت کو جکڑ لے
تو اس کی طاقت ، اس کے حسن کو
اپنی بانہیں پھیلا کر ختم کر دیتی ہے
تب پہروں بیٹھ کے سوچا کرتے تھے
آکاس بیل ہوتی ہے کیا
جب عشق ہجر کے دکھ نے
من کے تناور شجر کو گھیرا تو
تب معلوم ہوا
آکاس بیل ہوتی ہے کیا
آکاس بیل کے معنی ہیں کیا

Thursday, 26 November 2015

میں تو سوچ رھی تھی کہ مجھے سب کچھ بھول چکا ھے



میں تو سوچ رھی تھی کہ مجھے سب کچھ بھول چکا ھے 
وہ جو ادھورے خوابوں کی کہانی تھی 
وہ جو میں نے تمہیں سنانی تھی 
جب 
وقت نے اپنی سانسوں سے روح کے بدن پر لکھا تھا 
وقت نارسا کا مہر 
اُن شناسا باتوں کا زہر 
جو کبھی تم نے مجھ میں انڈیلا تھا 
بڑی چاہ سے جسے میں نے سنبھالا تھا 
مدت بعد 
یہ آج مجھے کس مقام پہ لے آئے ھو 
ایسے کہ 
نہ آئے ھی ھو اور نہ گئے ھو تم 
نہ اپنے ھی ھو اور نہ پرائے ھو تم 
میری جان 
ادھورے خوابوں کی کہانیاں ادھوری ھی رھنے دو 
اور اب 
اٍن ادھوری کہانیوں کو بلاعنوان ھی رھنے دو

Wednesday, 25 November 2015

محبت کیوں ہو جاتی ہے



مجھے کوئی نہیں بتاتا
کہ دل جُڑنے کے بعد ٹوٹ کیوں جاتے ہیں
گھنے درختوں سے سنائی دینے والی کوئل کی کُوک،
ہُوک کیسے بن جاتی ہے
جب تنہائی منڈیروں سے آنگن میں اترنے لگتی ہے
تو اپنی ہی باہیں اپنے گلے میں ڈالنے کو جی کیوں چاہتا ہے
مجھے کوئی نہیں بتاتا
پرانے گھروں کے برآمدوں میں اداسی کیوں اونگھتی رہتی ہے
آنگنوں میں بیٹھی رہ جانے والی
لڑکیوں کے سروں میں دھوپ کیسے اتر آتی ہے
اور ان کے نیم تاریک، کمروں میں روشن
آنسوؤں کے دیپ کیوں نہیں بجھتے
مجھے کوئی نہیں بتاتا
کہ بانسری کے چھید چھید سینے سے لہو کیوں ٹپکتا ہے
ایک بار بچھڑ جانے والے دل سے کیوں نہیں جاتے
اور قربتوں کی دھوپ کن گھاٹیوں پر جا اترتی ہے
مجھے کوئی نہیں بتاتا
چڑیاں کیوں چہچہاتی ہیں
ہوا کے دوش پر پھیلتی خوشبو کس کے سندیسے لاتی ہے
مٹھی میں بند کر لینے کے باوجود
جگنو کی روشنی کیوں نہیں چھپتی
محبت کیوں ہو جاتی ہے

کب دل اس کی بات مانے گا ؟



!وہ کہتا
کیا رکھا ہے یادوں کے جھروکوں میں
تلخیاں ہی تلخیاں ہیں ماضی کے دریچوں میں
چلو چھوڑیں نادانیاں عقل سے کام لیں
آؤ ! زمانے کا ساتھ دیں ، خوشی کا ہاتھ تھام لیں
آؤ !
دکھ کے اندھیروں سے پہلے
اپنی سحر سویرا کر لیں
ہے جہاں جہاں روشنی
آنکھیں خیرہ کر لیں
یہ درد دل اور وفاؤں کی باتیں
بہت پرانی باتیں ہیں
کیا رکھا ہے ان باتوں میں
بس یہ درد کی سوغاتیں ہیں
آؤ ہنستے ہنستے بچھڑ جائیں
مری جاں میرا کہنا مان لو
اب زہرِ جدائی پینا ہے
ذہن و دل سے جان لو
وفا کی ڈگر پہ چلتے چلتے تم بھی تھک ہی جاؤ گے
صدیوں پرانی ریت پریت کب تک تم نبھاؤ گی
جب میں ہی نہیں ہوں ساتھ تیرے
پھر کس کو تم بلاؤ گی
کیسی وفا ہے جس کو تم آزماؤ گی
تھک ہار کے مری جاں
تم بھی زمانے کی ہو جاؤ گی
دیتے دیتے یونہی صدائیں
آخرلَوٹ جاؤ گی
اک عمر گزری ، صدیاں بیتیں
مگر آج بھی یہی سوچتی ہوں میں
آخرکب وہ دن آئے گا
اُس کی طرح ، میرا دل بھی
عقل کو اپنائے گا
اس کی باتوں کو مان کر
اُسی کو بھول جائے گا
ہاں اسی کو بھول جائے گا

محبت کا چاند گرہن



ماں کہتی تھی
میری ننھی سی گڑیا
آج باہر نہ نکل
کیا تجھ کو معلوم نہیں
آج سورج گرہن ہے
روایت کہتی ہے
سورج گرہن ہو تو
دیکھنے سے آنکھیں بینائی کھو دیتی ہیں
چہرے مرجھاجاتے ہیں
ان پہ زردی چھا جاتی ہے
مہکتے تن ومن کُملاجاتے ہیں
پھول اوڑھ لیتے ہیں زرد رتوں کا پیرہن
بہاریں خزاں میں ڈھل جاتی ہیں
یہاں تک کہ سمندر کے بھنور
اور زمین کے مدو جزر بھی بدل جاتے ہیں
مری گڑیا
تو باہر نہ نکل
کہ تیری غزالی آنکھوں اور روپہلے چہرے کو
کہیں چاٹ نہ لے یہ سورج گرہن
مگر آج ماں کو بتائے کون
اس کی گڑیا کو
جسے زرد کر نہ سکا سورج گرہن
اسے ڈَس گیا محبت کا چاند گرہن

Tuesday, 24 November 2015

اک شخص میری عمر کے عنوان لے گیا



اک شخص میری عمر کے عنوان لے گیا
میرے یقین کا ہر اک سامان لے گیا

کچھ خواب تھے، کہ پھول تھے، تعبیر تھی یہاں
جاتے ہوئے وہ اپنے سب پیمان لے گیا

یادوں کے پھول جس میں سجاتی رہی تھی میں
ہاتھوں سے میرے کون یہ گلدان لے گیا

تنکوں کا آشیاں جو بنایا تھا شوق سے
وہ بھی اڑا کے ساتھ میں طوفان لے گیا

وعدہ بھی ساتھ لے گیا جاتے ہوئے وہ آج
ملنے کا آخری تھا جو امکان لے گیا

Monday, 23 November 2015

ملاقات آخری




مجھ کو رہے گی یاد ملاقات آخری
ہونٹوں پہ رہ گئی تھی کوئی بات آخری 
آنکھوں کے دشت میں تھے نگینے سجے ہوئے 
چاہت کی جس طرح سے ہو سوغات آخری 
ٹھہرا ہوا سا د ن تھا اور 
گہری اداس شام 
دل کے نگر میں چھائی تھی 
جذبوں کی وہ نمی 
بھولوں گی کس طرح سے میں
لمحات آخری 
وہ ملاقات آخری 
رک رک کے مڑ کے دیکھتا تھا بے نوا کوئی 
اور دوڑتی تھی سائے کے پیچھے میں بے خطر
اک شام سے تھا رات کا تنہا کٹھن سفر
مرجھا گیا چمن میں ہر اک پھول ہر شجر
آہوں کا سسکیوں کا سمندر تھا موجزن
اس کا خیال روح کے اندر تھا موجزن
ہو گی نہ اب کبھی بھی وہ برسات آخری
مجھ کو رہے گی یاد ملاقات آخری
کیسا وہ آشنا تھا اور کیسا تھا اجنبی
اپنے لئے یہ دکھ بھی بہت ہی عجیب تھا
گو فاصلے بہت تھے مگر وہ قریب تھا
شکوہ مرے لبوں پہ تو آیا نہ تھا کبھی 
وہ کہہ رہا تھا ہجر ہی اپنا نصیب ہے 
بھولوں گی کس طرح سے میں کلمات آخری 
وہ ملاقات آخری 
پھر اس کے بعد روح میں پھیلا وہ انتشار 
جیسے پکارتے ہوں وہ جذبے سے بے قرار 
دشتِ طلب میں جیسے کوئی روئے زار زار 
پھولوں کو چھوڑ کر لئے کانٹوں کے ہم نے ہار 
دن رات کا سفر بھی کٹے ایک آس پر
ممکن ہے نام لے وہ مرا پھر سے بار بار
دل بے قرار ہو کوئی دھڑکن بھی لے پکار 
لیکن میں جانتی ہو ں ہر اک موج رنگ میں 

اس دن چھلک رہے تھے وہ جذبات آخری 
اب توبس اک امید ہے اک آس ہے مجھے 
ممکن ہے اس طرح سے بھی ا ک روز ہو کبھی 
خوابوں کے اس نگر میں یونہی لوٹ آئے و ہ 
دل پر دیں دستکیں اگر جذبے وہی کبھی 
چھا جائے پھر سے شام کبھی سرد سی وہی 
دل کی خلش تو اب نہ مٹے گی تمام عمر
آنے پہ اس کے ہوں گی رسومات آخری
میرے کٹیں گے ایسے اب لمحات آخری
بھولوں گی اس طرح سے ملاقات آخری

Friday, 20 November 2015

تخت نشین تھی عشق کی پھر بھی، دل کی بازی ہاری سائیں



تخت نشین تھی عشق کی پھر بھی، دل کی بازی ہاری سائیں
تیرا مذہب دنیا داری، میں الفت کی ماری سائیں

مثلِ خوشبو مہکی تھی مَیں، اس کے وصل کی چھاؤں میں کل
سر پر تپتی دھوپ کھڑی اب ، ساتھ میں ہجر کی باری سائیں

ہر اک موڑ پہ دل نے تجھ کو کیسے اپنا مان لیا ہے
مجھ کو مار گئی ہے تیری، جھوٹی یہ دلداری سائیں

گھِر کر آیا درد کا ساون ، جل تھل جل تھل من کا آنگن
دکھ کے آنسو کب رک پائیں، ان کی برکھا جاری سائیں

لازم ہے اب دل بھی اجڑے، ساجن سے ساجن بھی بچھڑے
ہر جانب اک شور کا میلہ ، اور دولت کے پجاری سائیں

تیرے ہر اک زخم کو اپنی روح کا اس نے زیور جانا
کیسے سج کر پھرتی ہے، اب تیری راج دلاری سائیں

درد وچھوڑا تُو کیا جانے، من مندر کو تُو کب مانے
دل کی دھڑکن کب پہچانے، تُو جذبوں سے عاری سائیں

کل سوچا تھا شعر میں تجھ سے سارے شکوے کر ڈالوں گی
آج غز ل کہنے بیٹھی تو کیوں اتنی دشواری سائیں

اپنے من کو آگ لگائی ، اور پھر اس کی راکھ اُڑائی
یوں ہی جلتے بجھتے شاہیں ساری عمر گزاری سائیں

کسی بچھڑے ہوئے کا کوئی پتہ درکار ہے تجھ کو؟

taqdeer

کبھی تقدیر گر میری
مجھے رستے میں مل جائے
کبھی بھولے سے ہی گَر وہ
مری بستی میں آجائے
مرے گھر کا پتہ پوچھے
کبھی مجھ سے کہے آکر
کہ میں تقدیر ہوں تیری
بتا کیا چاہئے تجھ کو؟
خوشی درکار ہے تجھ کو؟
ہنسی درکار ہے تجھ کو؟
وفا درکار ہے تجھ کو ؟
کسی بچھڑے ہوئے کا کوئی پتہ درکار ہے تجھ کو؟
بتا تقدیر کی ماری کہ کیا درکار ہے تجھ کو ؟
کبھی تقدیر گر پوچھے تو میں کچھ بھی نہ مانگوں گی
میں اے جانِ جہاں تقدیر سے تیرا نہ پوچھوں گی
نہ تیرا پیار اور چاہت
نہ جذبوں کی کوئی حدت
نہ ہونٹوں کی کوئی لرزش
نہ ہاتھوں کی کوئی جنبش
نہ خوشبو دار سا موسم
نہ زخموں کے لئے مرہم
نہ کوئی امید مانگوں گی
نہ اس سے عید مانگوں گی
نہ میں تیری محبت کی کوئی تجدید مانگوں گی
نہ اُس بھولے ہوئے وعدے کی اب تائید مانگوں گی
بس اے جانِ جہاں تقدیر سے میں اتنا پوچھوں گی
رفاقت اور محبت کا
ریاضت اور عبادت کا
یہی انجام ہوتا ہے ؟
مسلسل ایک سجدے کا یہی انعام ہوتا ہے ؟
کسی کے نام پر کوئی اس طرح بے نام ہوتا ہے؟
مثالِ شام ہوتا ہے؟

Thursday, 19 November 2015

دل دیس تمہارا مسکن تھا

dil

دل دیس تمہارا مسکن تھا
اس میں تو تمہارا جیون تھا
اس میں تو تمہاری دھڑکن تھی
دل ہی تو تمہارا گلشن تھا
اس میں تو تمہاری خوشیاں تھیں
اک دل کا دل سے بندھن تھا
اے جان بتاؤ پھر تم نے
دل دیس کو کیوں پامال کیا ؟
کیوں اس کو یوں بے حال کیا ؟
اس دل کو اجاڑا کیوں تم نے؟
اس طرح بگاڑا کیوں تم نے؟
دل دیس میں تم ہی رہتے تھے
دل دیس میں تم ہی بستے تھے
اس کے دیوار و در کو بس
تم تنہا دیکھا کرتے تھے
اس کی اونچی سی مسند پر
بس تم ہی بیٹھا کرتے تھے
دل مندر میں تو تمہاری ہی
ہرہر پل پوجا ہوتی تھی
دل دیس تمہارا مسکن تھا
اس دیس کی بنجر مٹی میں
تم نے ہی پھول اگانے تھے
اس کے ویران سے آنگن میں
خوشیوں کے گیت بھی گانے تھے
اس کی اندھی راتوں میں تمہیں
امید کے دیپ جلانے تھے
کچھ رنگ فضا میں پھیلا کر
ان سے کچھ رنگ بنانے تھے
لیکن میں حیراں ہوں جاناں
دل دیس تمہارا مسکن تھا
دل دیس تمہارا جیون تھا
اس دیس کو تم کیوں چھوڑ گئے؟
دل دیس کی راہوں سے آخر
رُخ اپنا کیونکر موڑ گئے؟
سب دیپ بجھا کر چلے گئے
سب خواب جلا کر چلے گئے
دل دیس جو روشن روشن تھا
یہ آج تلک بس ویراں ہے
اک آنکھ یہاں موجود ہے پر
یہ آنکھ ابھی تک حیراں ہے
دل دیس کی اونچی سی مسند
اے جان ابھی تک خالی ہے
اور مندر میں موجود وہی
اک پوجا کرنے والی ہے
اس کا دامن بھی خالی ہے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets