Showing posts with label آنکھیں شاعری. Show all posts
Showing posts with label آنکھیں شاعری. Show all posts

Monday, 18 March 2013

اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے


آنکھوں سے میرے اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی

اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی


مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھےدےدیں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی


آئے کوئی آ کر یہ تیرے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی


معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے تیرے قصے
یہ بات تیری ہم سے اچھالی نہیں جاتی


ہمراہ تیرے پھول کھلاتی تھی جو دل میں
اب شام کوئی درد سے خالی نہں جاتی


ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی


منزلِ عشق میں ایسا بھی مقام آیا ہے


جب بھی آتی ہیں خیالوں میں تمہاری آنکھیں
بھیگ جاتی ہیں کسی غم سے ہماری آنکھیں

ڈھل گئی شام، اندھیرے نے طنابیں گاڑیں
سو گئیں تھک کے تیرے ہجر کی ماری آنکھیں

تم میرے پاس نہیں پھر بھی تمہارا چہرہ
سوچتی رہتی ہیں یہ درد کی ماری آنکھیں

سلسلہ ٹوٹ بھی سکتا تھا بصارت کا کبھی
تھام لیتی نہ اگر آنکھ، تمہاری آنکھیں

منزلِ عشق میں ایسا بھی مقام آیا ہے
لے گئے آنکھوں کے بدلے وہ ہماری آنکھیں


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets