😊 I love poetry and specially Urdu poetry. I am here to share my favourite poetry with you. I hope you like it and please don't forget to show your love by liking, commenting and following the blog. 😊
Showing posts with label امجد اسلام امجد. Show all posts
Showing posts with label امجد اسلام امجد. Show all posts
Wednesday, 5 August 2015
Thursday, 14 May 2015
Friday, 8 May 2015
Friday, 17 April 2015
Friday, 12 September 2014
اَن سُنے لفظ
کسی ریگزار کی دھوپ میں وہ جو قافلے تھے بہار کے
وہ جو اَن کھلے سے گلاب تھے
وہ جو خواب تھے میری آنکھ میں
جو سحاب تھے تیری آنکھ میں
وہ بکھر گئے، کہیں راستوں میں غبار کے !
وہ جو لفظ تھے دمِ واپسیں
میرے ہونٹ پر
تیرے ہونٹ پر
انہیں کوئی بھی نہیں سُن سکا
وہ جو رنگ تھے سرِ شاخِ جاں
تیرے نام کے
میرے نام کے
انہیں کوئی بھی نہیں چُن سکا۔
Wednesday, 13 November 2013
Tuesday, 12 November 2013
Monday, 11 November 2013
وہ دَمکتی ہوئی لَو کہانی ہوئی، وہ چمکدار شعلہ، فسانہ ہُوا
وہ دَمکتی ہوئی لَو کہانی ہوئی، وہ چمکدار شعلہ، فسانہ ہُوا
وہ جو اُلجھا تھا وحشی ہَوا سے کبھی، اُس دِیے کو بُجھے تو زمانہ ہُوا
ایک خُوشبو سی پھیلی ہے چاروں طرف اُسکے امکان کی اُسکے اعلان کی
رابطہ پھر بھی اُس حُسنِ بے نام سے، جس کا جتنا ہوا، غائبانہ ہُوا
باغ میں پُھول اُس روز جو بھی کِھلا اُسکے بالوں میں سجنے کو بے چین تھا
جو ستارہ بھی اُس رات روشن ہُوا، اُسکی آنکھوں کی جانب روانہ ہُوا
کہکشاں سے پَرے، آسماں سے پَرے، رہگزارِ زمان و مکاں سے پرے
مجھ کو ہر حال میں ڈھونڈنا تھا اُسے، یہ زمین کا سفر تو بہانہ ہُوا
اب تو اُسکے دِنوں میں بہت دُور تک، آسماں ہیں نئے اور نئی دُھوپ ہے
اب کہاں یاد ہو گی اُسے رات وہ جس کو گزرے ہوئے اِک زمانہ ہُوا
موسمِ وصل میں خُوب ساماں ہوئے، ہم جو فصلِ بہاراں کے مہماں ہوئے
گھاس قالین کی طرح بِچھتی گئی، سر پہ ابرِ رواں، شامیانہ ہُوا
اب تو امجد جُدائی کے اُس موڑ تک درد کی دُھند ہے اور کچھ بھی نہیں
جانِ من! اب وہ دن لَوٹنے کے نہیں، چھوڑئیے اب وہ قصّہ پرانا ہُوا
Saturday, 9 November 2013
Thursday, 7 November 2013
ہم جانے اعتبار کے کِس مرحلے میں تھے
آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے
کل شب عجیب عکس مِرے آئنے میں تھے
سارے دھنک کے رنگ تھے اُس کے لباس میں
خُوشبو کے سارے اَنگ اُسے سوچنے میں تھے
ہر بات جانتے ہُوئے دِل مانتا نہ تھا
ہم جانے اعتبار کے کِس مرحلے میں تھے
وصل و فراق دونوں ہیں اِک جیسے ناگزیر
کُچھ لطف اُس کے قُرب میں، کُچھ فاصلے میں تھے
سیلِ زماں کی موج کو ہر وار سہہ گئے
وہ دن، جو ایک ٹاٹے ہُوئے رابطے میں تھے
غارت گری کے بعد بھی روشن تھیں بستیاں
ہارے ہُوئے تھے لوگ مگر حوصلے میں تھے
ہِر پھر کے آئے نقطئہ آغاز کی طرف
جتنے سفر تھے اپنے کِسی دائرے میں تھے
آندھی اُڑاکے لے گئی جس کو ابھی ابھی
منزل کے سب نشان اُسی راستے میں تھے
چُھولیں اُسے کہ دُور سے بس دیکھتے رہیں!
تارے بھی رات میری طرح، مخمصے میں تھے
جُگنو، ستارے، آنکھ، صبا، تتلیاں، چراغ
سب اپنے اپنے غم کے کِسی سلسلے میں تھے
جتنے تھے خط تمام کا تھا ایک زاویہ
پھر بھی عجیب پیچ مِرے مئسلے میں تھے
امجد کتابِ جاں کو وہ پڑھتا بھی کِس طرح
لکھنے تھے جتنے لفظ، ابھی حافظے میں تھے
Saturday, 2 November 2013
Saturday, 28 September 2013
وہ عجیب پھول سے لفظ تھے تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
جو اتر کر زینہ شام سے تیری چشم خوش میں سما گئے
وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ مرے بام و در کو سجا گئے
یہ عجیب کھل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ
وہ جو لفظ مرے گماں میں تھے وو تیری زبان پر آ گے
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی داستان جسے تم ہنسی میں اڑا گے
وہ چراغ جاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی
تیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گۓ
وہ تھا چاند چشم وصال کا کہ روپ تیرے جمال کا
میری روح سے میری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گۓ
یہ جو بندگان نیاز ہے یہ تمام ہیں وہ لشکری
جنھیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گۓ
تیری بےرخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہوا ہوا
تیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گۓ
تیرے وسوسوں کے فشار میں تیرا شرر رنگ اجڑ گیا
میرے خواہشوں کے غبار میں میرے ماہ و سال وفا گۓ
وہ عجیب پھول سے لفظ تھے تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
میرے دشت خواب میں دور تک کوئی باغ جیسے لگا گۓ
میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے
تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گۓ
Saturday, 3 August 2013
خشک ہونٹوں پر لرزتی اِک دُعا رہ جائے گی
بستیوں میں اِک صدائے بے صدا رہ جائے گی
بام و دَر پہ نقش تحریرِ ہوا رہ جائے گی
آنسوؤں کا رِزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں
خشک ہونٹوں پر لرزتی اِک دُعا رہ جائے گی
رُو برو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے
ہم نہیں ہوں گے تو دُنیا گردِ پا رہ جائے گی
خواب کے نشّے میں جھکتی جائے گی چشمِ قمر
رات کی آنکھوں میں پھیلی اِلتجا رہ جائے گی
بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب
دیکھ لینا، یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی
Tuesday, 7 May 2013
آنکھوں میں لے کے جلتے ہوئے موسموں کی راکھ
حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے
بیٹھے ہیں دل میں ایک ارادہ کیے ُہوئے
اس دشت بے وفائی میں جائیں کہاں کہ ہم
ہیں اپنے آپ سے کوئی وعدہ کیے ُہوئے
دیکھو تو کتنے چین سے اک درجہ مطمئن
بیٹھے ہیں ارض پاک کو آدھا کیے ہوئے
پاؤں سے خواب باندھ کے شام وصال کے
اک دشت انتظار کو جادہ کیے ہوئے
آنکھوں میں لے کے جلتے ہوئے موسموں کی راکھ
درد سفر کو تن کا لبادہ کیے ہوئے
دیکھو تو کون لوگ ہیں!آئے کہاں سے ہیں !
اور اب ہیں کس سفر کا لبادہ کیے ہوئے
اس سادہ رُوکے بزم میں آتے ہی بجھ گئے
جتنے تھے اہتمام کا زیادہ کیے ہوئے
اُٹھے ہیں اُس کی بزم سے امجد ہزار بار
ہم ترک آرزو کا ارادہ کیے ہوئے
Sunday, 24 March 2013
محبت ایسا نغمہ ہے
محبت ایسا نغمہ ہے
ذرا بھی جھول ہے لَے میں
تو سُر قائم نہیں ہو تا
محبت ایسا شعلہ ہے
ہوا جیسی بھی چلتی ہو
کبھی مدھم نہیں ہوتا
محبت ایسا رشتہ ہے
کہ جس میں بندھنے والوں کے
دلوں میں غم نہیں ہوتا
محبت ایسا پودا ہے
جو تب بھی سبز رہتا ہے
کہ جب موسم نہیں ہوتا
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا
Friday, 15 March 2013
یاد
اس موسم ميں جتنے پھول کھليں گے
ان ميں تيري ياد کي خوشبو ہر سو روشن ہوگي
پتہ پتہ بھولے بسرے رنگوں کي تصوير بناتا گزرے گا
اک ياد جگاتا گزرے گا
اس موسم ميں جتنے تارے آسمان پہ ظاہر ہوں گے
ان ميں تيري ياد کا پيکر منظر عرياں ہوگا
تيري جھل مل ياد کا چہرا روپ دکھاتا گزرے گا
اس موسم ميں
دل دنيا ميں جو بھي آہٹ ہوگي
اس ميں تيري ياد کا سايا گيت کي صورت ڈھل جائے گا
شبنم سے آواز ملا کر کلياں اس کو دوہرائيں گي
تيري ياد کي سن گن لينے چاند ميرے گھر اترے گا
آنکھيں پھول بچھائيں گي
اپني ياد کي خوشبو کو دان کرو اور اپنے دل ميں آنے دو
يا ميري جھولي کو بھر دو يا مجھ کو مرجانے دو
Thursday, 28 February 2013
دعا جو بے ٹھکانہ تھي اسے تاثير مل جائے
کوئي زنجير
آہن کي چاندي کي روايت کي
محبت توڑ سکتي ہے
يہ ايسي ڈھال ہے جس پر
زمانے کي کسي تلوار کا لوہا نہيں چلتا
يہ ايسا شہر ہے جس
ميں کسي آمر کسي سلطان کا سکہ نہيں چلتا
اگر چشم تماشا ميں ذرا سي بھي ملاوٹ ہو
يہ آئينہ نہيں چلتا
يہ ايسي آگ ہے جس ميں
بدن شعلون ميں جلتے ہيں تو روہيں مسکراتي ہيں
يہ وہ سيلاب ہے جس کو
دلوں کي بستياں آواز دے کر خود بلاتي ہيں
يہ جب چاہے کسي بھي خواب کو تعبير مل جائے
جو منظر بجھ چکے ہيں انکو بھي تنوير مل جائے
دعا جو بے ٹھکانہ تھي اسے تاثير مل جائے
کسي رستے ميں رستہ پوچھتي تقدير مل جائے
محبت روک سکتي ہے سمے کے تيز دھارے کو
کسي جلتے شرارے کو، فنا کے استعارے کو
محبت روک سکتي ہے کسي گرتے ستارے کو
يہ چکنا چور آئينے کے ريزے جوڑ سکتي ہے
جدھر چاھے يہ باگيں موسموں کي موڑسکتي ہے
کوئي زنجير ہو اس کو محبت توڑ سکتي ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)
!-end>!-currency>





