Showing posts with label بشیر بدر. Show all posts
Showing posts with label بشیر بدر. Show all posts

Tuesday, 1 January 2013

ایسا لگتا ہے ، زندگی تم ہو



ایسا لگتا ہے ، زندگی تم ہو
اجنبی کیسے، اجنبی تم ہو

لوگ کہتے ہیں ، اجنبی تم ہو
اجنبی میری زندگی تم ہو

دِل کسی اور کا نہ ہو پایا
آرزو میری آج بھی تم ہو

مجھ کو اپنا شریکِ غم کرلو
یوں اکیلے بہت دُکھی تم ہو

دوستوں سے وَفا کی اُمید یں
کسی زمانے کے آدمی تم ہو

میں زمیں پر گھنا اندھیرا ہوں
آسمانوں کی چاندنی تم ہو

لوگ آتے ہیں، لوگ جاتے ہیں
میری آنکھوں میں آج بھی تم ہو

Friday, 28 December 2012

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گی تو مر جاؤں گا


آگ لہرا کے چلی ہے اِسے آنچل کر دو


تم مجھے رات کا جلتا ہوا جنگل کر دو


چاند سا مصرعہ، اکیلا ہے میرے کاغذ پر



چھت پر آجاؤ، میرا شعر مکمل کر دو


میں تمہیں دل کی سیاست کا ہنر دیتا ہوں



اب اِسے دھوپ بنا دو مجھے پاگل کر دو


اپنے آنگن کی اُداسی سے ذرا بات کرو



نیم کے سوکھے ہوئے پیڑ کو صندل کر دو


تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گی تو مر جاؤں گا



یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو



Tuesday, 18 December 2012

لوگوں نے ہنر اپنا دکھایا بھی بہت ہے


لوگوں نے ہنر اپنا دکھایا بھی بہت ہے
جا جا کے اسے میں نے منایا بھی بہت ہے

کچھ ایسے ہی گزرے ہیں یہ موسم یہ ماہ و سال
رویا ہوں بہت اس کو رلایا بھی بہت ہے

سچ پوچھو تو پیارا بھی بہت لگتا ہے دل کو
وہ شخص کہ دل جس نے دُکھایا بھی بہت ہے

گزرے ہوں فقط ہجر میں دن، یہ بھی نہیں بات
کھویا ہے بہت اس کو تو پایا بھی بہت ہے

اب کرنا پڑا آپ ہی 
افشاء اسے آخر

وہ راز کہ دنیا سے چُھپایا بھی بہت ہے

تپتے ہوئے رستے پہ مسافر کے لئے تو
ساعت کے لئے ابر کا سایہ بھی بہت ہے

کچھ بھید نہیں کھلتا خزانہ بھی بہت ہے
وافر ہیں وسائل بھی رعایا بھی بہت ہے

دھندلا ہی سہی پھر بھی نظر آتا ہے لکھا
اک حرف جو تختی سے مٹایا بھی بہت ہے

ہوتا ہی نہیں آنکھ سے اوجھل کسی لمحے
میں نے تو بشیر اس کو بُھلایا بھی بہت ہے


Thursday, 27 September 2012

مدتوں بعد مری آنکھ میں آنسو آئے


وقت رخصت کہیں تارے کہیں جگنو آئے
ہار پہنانے مجھے پھول سے بازو آئے


بس گئی ھے مرے احساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تری خوشبو آئے


میں نے دن رات خدا سے یہ دعا مانگی تھی
کوئی آہٹ نہ ھومرے در پہ اور تو آئے


اسکی باتیں کہ گل و لالہ پر شبنم برسے
سب کو اپنانے کا اس شوخ کو جادو آئے


ان دنوں آپ کا عالم بھی عجب عالم ھے
شوخ کھایا ھوا جیسے کوئی آھو آئے


اس نے چھو کر مجھے پتھر سے انسان کیا
مدتوں بعد مری آنکھ میں آنسو آئے

Friday, 21 September 2012

عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر




ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے

کبھی تو آسماں سے چاند اُترے جام ہو جائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے

سمندر کے سفر میں اسطرح آواز دے ہم کو
ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے

مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانہ پھر کہاں ہو گا
پرندہ آسماں چُھونے میں جب ناکام ہو جائے

اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

Thursday, 13 September 2012

خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے



خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے

خطا وار سمجھے گی دنیا تجھے
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

مجھے ایسی جنت نہیں‌ چاہیے
جہاں سے مدینہ دکھائی نہ دے

خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets