Showing posts with label اعتبار ساجد. Show all posts
Showing posts with label اعتبار ساجد. Show all posts

Saturday, 17 October 2015

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا



کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
یہ اور بات ہے اب وہ ہمارا نہیں رہا

کچھ دن تمھارے لوٹ کے آنے کی آس تھی
اب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا

رستے مہ و نجوم کے تبدیل ہو گئے
ان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا

سمجھے تھے دوسروں سے بہت مختلف تجھے
کیا مان لیں کہ تو بھی ہمارا نہیں رہا

ہاتھوں پہ بجھ گئی ہے مقدر کی کہکشاں
یا راکھ ہو گیا وہ ستارہ نہیں رہا

Friday, 17 April 2015

Wednesday, 7 August 2013

ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا


ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا 
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا 

دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو 
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا 

چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے 
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا 

تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو 
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا 

مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے 
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا 

دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے 
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا 

نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے 
کھلے نہ آنکھ میری عمر بھی دعا کرنا 

کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا 
دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو 

مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا 
چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے 

کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا 
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو 

نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا 
مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے 

مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا 
دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے 

ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا 
نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے 

کھلے نہ آنکھ میری عمر بھر دعا کرنا

افسانے جدائی کے سنائے گا بہت وہ


معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ 
بچھڑے گا تو پھر یاد بھی آئے گا بہت وہ 

اب جس کی رفاقت میں بہت خندہ بہ لب ہیں 
اس بار ملے گا تو رلائے گا بہت وہ 

چھوڑ آئے گا تعبیر کے صحرا میں اکیلا 
ہر چند ہمیں خواب دکھائے گا بہت وہ 

وہ موج ہوا بھی ہے ذرا سوچ کے ملنا 
امید کی شمعیں تو جلائے گا بہت وہ 

ہونٹوں سے نہ بولے گا پر آنکھوں کی زبانی 
افسانے جدائی کے سنائے گا بہت وہ

اب کسی اور کے ہاتھوں میں ترا ہاتھ سہی


پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے 
ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے 

سب خرد مند بنے پھرتے ہیں ہر محفل میں 
اس ترے شہر میں اک صاحبِ وحشت ہم تھے 

اب کسی اور کے ہاتھوں میں ترا ہاتھ سہی 
یہ الگ بات کبھی اہلِ رفاقت ہم تھے 

رتجگوں میں تری یاد آئی تو احساس ہوا 
تیری راتوں کا سکوں نیند کی راحت ہم تھے 

اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو 
وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے

تو کھو گیا تو اپنا پتہ بھی نہیں رہا


تھی جس سے روشنی ، وہ دیا بھی نہیں رہا 
اب دل کو اعتبارِ ہوا بھی نہیں رہا 

تو بجھ گیا تو ہم بھی فروزاں نہ رہ سکے 
تو کھو گیا تو اپنا پتہ بھی نہیں رہا 

کچھ ہم بھی ترے بعد زمانے سے کٹ گئے 
کچھ ربط و ضبط خدا سے بھی نہیں رہا 

گویا ہمارے حق میں ستم در ستم ہوا 
حرفِ دعا بھی ، دستِ دعا بھی نہیں رہا 

کیا شاعری کریں کہ ترے بعد شہر میں 
لطف کلام ، کیفِ نوا بھی نہیں رہا

Tuesday, 30 July 2013

اس کے کچھ حرفِ دل آزار بہت یاد آئے


رات کچھ یارِ طرحدار بہت یاد آئے
وہ گلی کوچے، وہ بازار بہت یاد آئے

جن کے ہونے کی تسلی سے خوشی ہوتی تھی
درد چمکا تو وہ غمخوار بہت یاد آئے

شامِ فرقت میں چمکتی ہوئی صبحوں کی طرح
اپنے گھر کے درودیوار بہت یاد آئے

سامنے دیکھ کے پرچھائیاں انسانوں کی
کسی افسانے کے کردار بہت یاد آئے

جن کے سایوں میں ہمیں نیند بہت آتی تھی
دھوپ میں ہم کو وہ اشجار بہت یاد آئے

سبھی اچھے تھے ترے شہر کے اربابِ کرم
ہاں، مگر ان میں سے دو چار بہت یاد آئے

اب جو بھیجا مجھے خط اس نے بڑے پیار کے ساتھ
اس کے کچھ حرفِ دل آزار بہت یاد آئے

Wednesday, 8 May 2013

بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ



بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
کس نگری میں آنکلے ہیں ساجد ہم دیوانے لوگ

ایک ہمی ناواقف ٹھہرے روپ نگر کی گلیوں سے 
بھیس بدل کر ملنے والے سب جانے پہچانے لوگ

دن کو رات کہیں سو برحق صبح کو شام کہیں سو خوب
آپ کی بات کا کہنا ہی کیا آپ ہوئے فرزانے لوگ

شکوہ کیا اور کیسی شکایت آخر کچھ بنیاد تو ہو
تم پر میرا حق ہی کیا ہے، تم ٹھہرے بیگانے لوگ

شہر کہاں خالی رہتا ہے یہ دریا ہر دم بہتا ہے
اور بہت سے مل جائیں گے ہم ایسے دیوانے لوگ

Monday, 6 May 2013

اب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہے



اب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہے
دشمن ہی ملے ، راہ میں تنہائی بہت ہے 

ہم کون سے غالب تھے کہ شہرت ہمیں ملتی 
دنیا ، تری اتنی بھی پذیرائی بہت ہے 

زخموں کی نمائش کا سلیقہ نہیں ہم کو 
وہ ہیں کہ انہیں شوقِ مسیحائی بہت ہے 

لوگوں سے تعارف نہ کوئی جان نہ پہچان 
دل ہے کہ اسی بزم کا شیدائی بہت ہے 

گلیوں میں مگر کوئی دریچہ نہیں کھلتا 
آپس میں یہاں شورِ شناسائی بہت ہے 

شامیں ہیں بہت سوختہ ، برسات میں ساجد
کہنے کو بھرا شہر ہے ، تنہائی بہت ہے 

Sunday, 14 April 2013

مجھے کس کی آگ جُھلسا گئی؟ میرے دل کو کس کا مَلال تھا؟


مجھے ایسا لطف عطا کیا، جو ہجر تھا نہ وصال تھا

مرے موسموں کے مزاج داں، تجھے میرا کتنا خیال تھا



کسی اور چہرے کو دیکھ کر، تری شکل ذہن میں آگئی


تیرا نام لے کے ملا اسے، میرے حافظے کا یہ حال تھا



کبھی موسموں کے سراب میں، کبھی بام و در کے عذاب میں


وہاں عمر ہم نے گزار دی، جہاں سانس لینا مُحال تھا



کبھی تُو نے غور نہیں کیا، کہ یہ لوگ کیسے اُجڑ گئے؟


کوئی میر جیسا گرفتہ دل، تیرے سامنے کی مثال تھا



تیرے بعد کوئی نہیں ملا، جو یہ حال دیکھ کے پوچھتا


مجھے کس کی آگ جُھلسا گئی؟ میرے دل کو کس کا مَلال تھا؟



کہیں خون ِدل سے لکھا تو تھا، تیرے سال ِہجر کا سانحہ


وہ ادھوری ڈائری کھو گئی، وہ نجانے کون سا سال تھا؟


Friday, 22 March 2013

ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جانا


ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جانا
کیا اپنی طبیعت ہے ، ہر شخص کا ہو جانا

اک شہر بسا لینا بچھڑے ہوئے لوگوں کا
پھر شب کے جزیرے میں دل تھام کے سو جانا

موضوعِ سخن کچھ ہو ، تا دیر اسے تکنا
ہر لفظ پہ رک جانا ، ہر بات پہ کھو جانا

آنا تو بکھر جانا سانسوں میں مہک بن کر
جانا تو کلیجے میں کانٹے سے چبھو جانا

جاتے ہوئے چپ رہنا ان بولتی آنکھوں کا
خاموش تکلم سے پلکوں کو بھگو جانا

لفظوں میں اتر آنا ان پھول سے ہونٹوں کا
اک لمس کی خوشبو کا پوروں میں سمو جانا

ہر شام عزائم کے کچھ محل بنا لینا
ہر صبح ارادوں کی دہلیز پہ سو جانا


Monday, 4 February 2013

وہی ہے رنگِ جنوں ، ترکِ ربط و ضبط پہ بھی


یہی نہیں کہ فقط ہم ہی اضطراب میں ہیں
ہمارے بھولنے والے بھی اس عذاب میں ہیں

اسی خیال سے ہر شام جلد نیند آئی
کہ مجھ سے بچھڑے ہوئے لوگ شہرِ خواب میں ہیں

وہی ہے رنگِ جنوں ، ترکِ ربط و ضبط پہ بھی
تری ہی دھن میں ہیں اب تک اسی سراب میں ہیں

عزیز کیوں نہ ہو ماضی کا ہر ورق ہم کو
کہ چند سوکھے ہوئے پھول اس کتاب میں ہیں

شناوروں کی رسائی کے منتظر ساجد
ہم اپنے عہد کے اک شہرِ زیر آب میں ہیں 


Wednesday, 2 January 2013

ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا



ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا

دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا

چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا

تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا

مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا

دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا

نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے
کھلے نہ آنکھ میری عمربھردعا کرنا

اک جو ملال ہجر تھا صبح طلب سے شام تک



کوئی تو تھا پسِ ہوا، آخرِ شب کے دشت میں
ہم سے ہم کلام تھا آخر شب کے دشت میں

جیسے کسی کی یاد نے سینے پہ ہاتھ رکھ دیا
جیسے کوئی دیا جلا آخر شب کے دشت میں

ایک ہجوم دلبراں ، ایک جلوس رفتگاں
بچھڑا تو ہم سے آملا آخر شب کے دشت میں

اک جو ملال ہجر تھا صبح طلب سے شام تک
ہم نے کہیں گنوا دیا آخر شب کے دشت میں

ایسا لگا کہ اوس میں بھیگے ہوئے درخت سے
موج ہوا نے کچھ کہا آخر شب کے دشت میں

زینہ دل پہ چاپ سی جانے تھی کس خیال کی
درد تلک کوئی نہ تھا آخر شب کے دشت میں

ملتان کے عشق میں



بچھڑ کر بھی ترے چہرے پہ اطمینان کیسا ہے
میں ساجد سوچتا رہتا ہوں تو انسان کیسا ہے

پرندوں سے ہوئیں خالی منڈیریں ، پھول سے شاخیں
یہ کیا رت ہے ، یہ شہر دلبراں ویران کیسا ہے

کھلے ہیں تختیوں پر اجنبی ناموں کے گل بوٹے
یہ موسم آشنا گلیوں میں میری جان کیسا ہے

نہیں آتی کسی امید کے قدموں کی آہٹ بھی
کہاں ہیں لوگ اس گھر کے ، یہ دل سنسان کیسا ہے

رگ و پے میں سرِ شب کیسی شمعیں جھلملاتی ہیں
اجالے کا سفر شریان در شریان کیسا ہے

میں بابِ شہر سے نکلا تھا ساجد موسم گل میں
نجانے ان بہاروں میں مرا ملتان کیسا ہے

Tuesday, 1 January 2013

مرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا ، مری دھڑکنوں کو قرار دو



تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں،مرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں، مجھے کوئی شام ادھار دو

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال وخد
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو، مرے سارے زنگ اتار دو

کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے نہ کوئی واسطہ
میں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو، میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو

مری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عذاب نے
مرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا ، مری دھڑکنوں کو قرار دو

تمہیں صبح کیسی لگی، مری خواہشوں کے دیار میں
جو بھلی لگی تو یہیں رہو، اسے چاہتوں سے نکھار دو

وہاں گھر میں کون ہے منتظر کہ ہو فکر دیر سویر کی
بڑی مختصر سی یہ رات ہے اسی چاندنی میں گذاردو

کوئی بات کرنی ہے چاند سے، کسی شاخسار کی اوٹ میں
مجھے راستے میں یہیں کہیں کسی کنج گل میں اتار دو

Wednesday, 19 December 2012

تجھے کھو کے سوچتا ھوں


کبھی تونے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ھے تو کیوں ھے
تجھے پا کے بھی مرادل جو اداس ھے تو کیوں ھے

مجھے کیوں عزیز تر ھے یہ دھواں دھواں سا موسم
یہ ھوائے شام ہجراں مجھے راس ھے تو کیوں ھے

تجھے کھو کے سوچتا ھوں مرے دامن طلب میں
کوئی خواب ھے تو کیوں ھے کوئی آس ھے تو کیوں ھے

میں اجڑ کے بھی ھوں تیرا تو بچھڑ کے بھی ھے میرا
یہ یقین ھے تو کیوں ھے یہ قیاس ھے تو کیوں ھے

مرے تن برہنہ دشمن اسی غم میں گھل رھے ھیں
کہ مرے بدن پہ سالم یہ لباس ھے تو کیوں ھے

کبھی پوچھ اس کے دل سے کہ یہ خوش مزاج شاعر
بہت اپنی شاعری میں جو اداس ھے تو کیوں ھے

ترا کس نے دل بجھایا مرے اعتبار ساجد
یہ چراغ ہجر اب تک ترے پاس ھے تو کیوں ھے
 


Sunday, 16 December 2012

اب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہے


اب شوقِ سفر، خواہشِ یکجائی بہت ہے
دشمن ہی ملے ، راہ میں تنہائی بہت ہے

ہم کون سے غالب تھے کہ شہرت ہمیں ملتی 
دنیا ، تری اتنی بھی پذیرائی بہت ہے

زخموں کی نمائش کا سلیقہ نہیں ہم کو 
وہ ہیں کہ انہیں شوقِ مسیحائی بہت ہے

لوگوں سے تعارف نہ کوئی جان نہ پہچان 
دل ہے کہ اسی بزم کا شیدائی بہت ہے

گلیوں میں مگر کوئی دریچہ نہیں کھلتا 
آپس میں یہاں شورِ شناسائی بہت ہے

شامیں ہیں بہت سوختہ ، برسات میں ساجد
کہنے کو بھرا شہر ہے ، تنہائی بہت ہے


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets