Showing posts with label اداس ہونے کے دن نہیں (نوشی گیلانی). Show all posts
Showing posts with label اداس ہونے کے دن نہیں (نوشی گیلانی). Show all posts

Thursday, 4 October 2012

آخری خواہش



مِرے ساتھی
مِری یہ رُوح میرے جسم سے پرواز کر جائے
تو لوٹ آنا
مِری نے خواب راتوں کے عذابوں پر
سسکتے شہر میں تُم بھی
ذرا سی دیر کو رُکنا
مِرے بے نُور ہونٹوں کی دُعاؤں پر
تُم اپنی سرد پیشانی کا پتھر رکھ کے رو دینا
بس اِتنی بات کہہ دینا
"مجھے تُم سے محّبت ہے"

آخری شام ہے اُداسی کی



ہجر سہنے کی غم شناسی کی
آخری شام ہے اُداسی کی

تیری باتوں کو معتبر جانا
ہم نے لغزش نہیں ذرا سی کی

یوں ہُوا میں تھکی تھکی کب تھی
کیفیت آج ہے اُداسی کی

میری تاریخ کے بدن تجھ کو
اب ضرورت ہے بے لباسی کی

ایک شعر



تُمھاری یاد کی دُنیا میں دن سے رات کروں
کسی کی بات چلے میں تُمھاری بات کروں

اُس کی یاد کے منظر میں اب رات گئے تک



اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا
بالآخر ہر دُکھ کو سہنا پڑ جائے گا

وقت کی گردش میں آئے تو جان لیا ہے
جھُوٹی بات کو سچّی کہنا پڑ جائے گا

اُس کی یاد کے منظر میں اب رات گئے تک
آنسو بن کر آنکھ سے بہنا پڑ جائے گا

جس لہجے کی خُوشبو ہر پَل ساتھ رہی ہو
اَسے بھی اب بیگانہ کہنا پڑ جائے گا

یہ برف موسم جو شہرِ جاں میں کُچھ اور لمحے ٹھہر گیا تو



یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا
غرور لہجے میں آ گیا تو کلام ممکن نہیں رہے گا

یہ برف موسم جو شہرِ جاں میں کُچھ اور لمحے ٹھہر گیا تو
لہو کا دل کی کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا

تم اپنی سانسوں سے میری سانسیں الگ تو کرنے لگے ہو لیکن
جو کام آساں سمجھ رہے ہو وہ کام ممکن نہیں رہے گا

وفا کا کاغذ تو بھیگ جائے گا بد گُمانی کی بارشوں میں
خطوں کی باتیں تو خواب ہوں گی پیام ممکن نہیں رہے گا

میں جانتی ہوں مجھے یقیں ہے اگر کبھی تُو مجھے بھُلا دے
تو تیری آنکھوں میں روشنی کا قیام ممکن نہیں رہے گا

یہ ہم محبّت میں لا تعلّق سے ہو رہے ہیں تو دیکھ لینا
دُعائیں تو خیر کون دے گا سلام ممکن نہیں رہے گا

خامشی سے ہاری میں



خامشی سے ہاری میں
جان تجھ پہ واری میں

تِیرگی کے موسم میں
روشنی … پُکاری میں

عِشق میں بکھرنے تک
حوصلہ نہ ہاری میں

ڈھونڈنے وفا نِکلی
قِسمتوں کی ماری میں

اُس طرف زمانہ تھا
اِس طرف تھی ساری میں

زندگی کی بے سمتی
دیکھ تجھ سے باری میں

آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے



آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے
کی جائے تو پھر اس کی شکایت نہیں کی جائے

اس معرکۂ عشق میں اے اہلِ محبت
آساں ہے عداوت پہ عداوت نہیں کہ جائے

یہ دل کہ اُسی زُود فراموشی پہ مائل
اور ذہن بضد اس سے محبت نہیں کی جائے

ہم اہلِ سخن ہیں تو روایت کے مطابق
مصلوب کیا جائے رعایت نہیں کی جائے

یہ لوگ تماشا ہیں تو پھر ان سے جنوں میں
کوئی بھی بیاں دل کی حکایت نہیں کی جائے

مِرے رتجگوں کے حساب میں کوئی ایک نیند کی رات دے



مُجھے موت دے کہ حیات دے
مِرے بے ہُنر مِرا سات دے

مِری پیاس صدیوں کی پیاس ہے
مِرے کربلا کو فرات دے

مِرے رتجگوں کے حساب میں
کوئی ایک نیند کی رات دے

کوئی ایسا اسمِ عظیم ہو
مُجھے تیرے دُکھ سے نجات دے

یہ جو تِیرگی ہے غُرور میں
کوئی روشنی اِسے مات دے

مِری شاعری کے نصیب میں
کوئی ایک حرفِ ثبات دے

ایک شعر



جس طرح ماں کی دُعا ہوتی ہے
شاعری ردِ بلا ہوتی ہے

شامِ تنہائی میں



اب بھی شاعر رہوں

کِس کی خاطر رہوں

کون ہے جو مرے لفظ و معنی کی آنکھوں سے بہتے ہُوئے

آنسوؤں میں چھُپے درد چُنتا پھرے

خواب بُنتا پھرے

کون ہے جو مِرے خُون ہوتے ہُوئے دل کی آواز پر

اپنی آواز کے ہونٹ رکھتا پھرے

کون آنکھیں مِری دیکھ کر یہ کہے

"کیا ہُوا جانِ جاں

کب سے سوئی نہیں

اس سے پہلے تو تم اِتنا روئی نہیں

اَب بھلا کِس لیے خُوبصورت سی آنکھیں پریشان ہیں

اپنی حالت پہ خُود اتنی حیران ہیں "

کون بے چین ہو

کون بے تاب ہو

موسمِ ہجر ک شامِ تنہائی میں

آبلہ پائی میں

کون ہو ہم سفر ، گرد ہے رہگزر

کوئی رستہ نہیں کوئی راہی نہیں

در پہ دستک کی کوئی گواہی نہیں

دل کے ویران و برباد صفحات پر

جس قدر لفظ لکھے تھے بے کار ہیں

ایک لمبی جُدائی کے آثار ہیں

سوچتی ہوں کہ اَب

ان خیالوں سے خوابوں سے باہر رہوں

کیوں میں شاعر رہوں

کِس کی خاطر رہوں

انحراف



بہت تاخیر سے لیکن

کھُلا یہ بھید خُود پر بھی

کہ میں اب تک

مّحبت جان کر جس

جذبۂ دیرینہ کو اپنے لہُو سے سینچتی آئی

وہ جس کی ساعتِ صد مہرباں ہی زندگی کی شرط ٹھہری تھی

فقط اک شائبہ ہی تھا مّحبت کا

یُو نہی عادت تھی ہر رستے پہ اُس کے ساتھ چلنے کی

وگر نہ ترک خواہش پر

یہ دل تھوڑا سا تو دُکھتا

ذرا سی آنکھ نَم ہوتی

تُو نے دیکھا نہیں پلٹ کے ہمیں



چُپ نہ رہتے بیان ہو جاتے
تجھ سے گر بد گُمان ہو جاتے
ضبطِ غم نے بچا لیا ورنہ
ہم کوئی داستان ہو جاتے
تُو نے دیکھا نہیں پلٹ کے ہمیں
ورنہ ہم مہربان ہو جاتے
تیرے قصّے میں ہم بھلا خُود سے
کس لیے بد گُمان ہو جاتے
تیرے دل کی زمین ہی نہ مِلی
ورنہ ہم آسمان ہو جاتے

نئے سفر کے نئے عذاب اور نئے گُلاب



ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے
صبح کی رنگت دھانی بھی ہو سکتی ہے

جب کشتی ڈالی تھی کس نے سوچا تھا
دریا میں طُغیانی بھی ہو سکتی ہے

نئے سفر کے نئے عذاب اور نئے گُلاب
صُورت حال پرانی بھی ہو سکتی ہے

ہر پَل جو دِل کو دہلائےرکھتی ہے
کُچھ بھی نہیں حیرانی بھی ہو سکتی ہے

سفر ارادہ کر تو لیا پر رستوں میں
رات کوئی طوفانی بھی ہو سکتی ہے

اُس کو میرے نام سے نسبت ہے لیکن
بات یہ آنی جانی بھی ہو سکتی ہے

دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہُوا


دل تھا کہ خُوش خیال تجھے دیکھ کر ہُوا
یہ شہر بے مثال تجھے دیکھ کر ہُوا

اپنے خلاف شہر کے اندھے ہجوم میں
دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہُوا

طُولِ شبِ فراق تری خیر ہو کہ دل
آمادۂ وصال تجھے دیکھ کر ہُوا

یہ ہم ہی جانتے ہیں جُدائی کے موڑ پر
اِس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہُوا

آئی نہ تھی کبھی مِرے لفظوں میں روشنی
اور مُجھ سے یہ کمال تجھے دیکھ کر ہُوا

بچھڑے تو جیسے ذہن معطّل سا ہو گیا
شہرِ سخن بحال تجھے دیکھ کر ہُوا

پھر لوگ آ گئے مِرا ماضی کُریدنے
پھر مُجھ سے اَک سوال تجھے دیکھ کر ہُوا



تجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جا سکتی



تجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جا سکتی

خُود کو اِتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی

جانتے ہیں کہ یقین ٹُوٹ رہا ہے دل پر

پھر بھی اب ترک یہ وحشت نہیں کی جا سکتی

حبس کا شہر ہے اور اِس میں کسی بھی صُورت

سانس لینے کی سہولت نہیں دی جا سکتی

روشنی کیلئے دروازہ کھُلا رکھنا ہے

شب سے اب کوئی اجازت نہیں لی جا سکتی

عشق نے ہجر کا آزار تودے رکھا ہے

اِس سے بڑھ کو تو رعایت نہیں دی جا سکتی

ستارۂ شب ہجراں مِری تلاش میں ہے


یہی نہیں کوئی طوفاں مِری تلاش میں ہے
کہ موسمِ غمِ جاناں مری تلاش میں ہے

وصال رُت ہے مگر دِل کو ایسا لگتا ہے
ستارۂ شب ہجراں مِری تلاش میں ہے

میں فیصلے کی گھڑی سے گزر چکی ہُوں مگر
کسی کا دیدۂ حیراں مِری تلاش میں ہے

یہ بے یقین سی آسودگی بتاتی ہے
کہ ایک قریۂ ویراں مِری تلاش میں ہے


میں تیرِ گی میں محبّت کی اِک کہانی ہوں
کوئی چراغ سا عنوان مری تلاش میں ہے

یہ کیسا خواب تھا دھڑکا سا لگ گیا دِل کو
کہ ایک شخص پریشاں مِری تلاش میں ہے



کُچھ حرف دُعاؤں کے کُچھ پھُول وفاؤں کے



کُچھ بھی تو نہیں ویسا

جیسا تجھے سوچا تھا

جتنا تجھے چاہا تھا

سوچا تھا تیرے لب پر

کُچھ حرف دُعاؤں کے

کُچھ پھُول وفاؤں کے

مہکیں گی مِری خاطر

کُچھ بھی تو نہیں ویسا

جیسا تجھے سوچا تھا

محسوس یہ ہوتا ہے

دُکھ جھیلے تھے جو اَب تک

بے نام مسافت میں

لکھنے کی محبّت میں

پڑھنے کی ضرورت میں

بے سُور ریاضت تھی

بے فیض عبادت تھی

جو خواب بھی دیکھے تھے

ان جاگتی آنکھوں نے

سب خام خیالی تھی

پھر بھی تجھے پانے کی

دل کسی گوشے میں

خواہش تو بچا لی تھی

لیکن تجھے پاکر بھی

اور خود کو گنوا کر بھی

اس حبس کے موسم کی کھڑی سے ہوا آئی

نہ پھول سے خُوشبو کی کوئی بھی صدا آئی

اب نیند ہے آنکھوں میں

ناں دل میں وہ پہلی سی تازہ سخن آرائی

ناں لفظ مِرے نکلے

ناں حرف و معافی کی دانش مِرے کام آئی

نادیدہ رفاقت میں

جتنی بھی اذیت تھی

سب میرے ہی نام آئی

کچھ بھی تو نہیں ویسا جیسا تجھے سوچا تھا

جتنا تجھے چاہا تھا

یہ دل پھر تیری خواہش کر رہا ہے



بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں

میں اب تجھ سے مُکرنا چاہتی ہوں

میں اپنی عُمر کے سارے اثاثے

نئے ڈھب سے برتنا چاہتی ہوں

یہ دل پھر تیری خواہش کر رہا ہے

مگر میں دُکھ سے بچنا چاہتی ہوں

کوئی حرفِ وفا ناں حرفِ سادہ

میں خاموشی کو سُننا چاہتی ہوں

میں بچپن کے کِسی لمحے میں رُک کر

کوئی جُگنو پکڑنا چاہتی ہوں

ورثہ



بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں

ضبطِ کے زرد آنچل میں اپنے

سارے درد چُھپا لیتی ہیں

روتے روتے ہنس پڑتی ہیں

ہنستے ہنستے دل ہی دل ہی رو لیتی ہیں

خوشی کی خواہش کرتے کرتے

خواب اور خاک میں اَٹ جاتی ہیں

سو حصّوں میں بٹ جاتی ہیں

گھر کے دروازے پر بیٹھی

اُمیدوں کے ریشم بنتے ….ساری عُمر گنوا دیتی ہیں

میں جو گئے دنوں میں

ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی

اب خود بھی تو

عُمر کی گرتی دیواروں سے ٹیک لگائے

فصل خوشی کی بوتی ہوں

اور خوش فہمی کا ٹ رہی ہوں

جانے کیسی رسم ہے یہ بھی

ماں کیوں بیٹی کو ورثے میں

اپنا مقدّر دے دیتی ہے


ایک شعر



مَیں بد دُعا تو نہیں دے رہی ہُوں اُس کو مگر

دُعا یہی ہے اُسے مُجھ سا اب کوئی نہ مِلے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets