Showing posts with label دعائیہ شاعری. Show all posts
Showing posts with label دعائیہ شاعری. Show all posts

Friday, 12 October 2012

کسی ظلمت سے آشنا نہ کرے



زندگی بھر یہ آسماں تجھ کو
کسی آفت میں‌مُبتلا نہ کرے

یہ بہاریں‌ جہاں جہاں جائیں
کوئی تجھ کو ان سے جدا نہ کرے

تیری زندگی کی روشنی کو خُدا
کسی ظلمت سے آشنا نہ کرے

زندگی کے افق پر اس طرح سے چمکو تم


زندگی کے افق پر
اس طرح سے چمکو تم
کہ تمھاری روشنی تا ابد
دنیا کے لیے مشعلِ راہ بن جائے
تمہارا ہر قدم زمانے کے لیے
ایک اچھی مثال بن جائے
اور
میری ہنسی تمھارے لیے
مسکراہٹِ لازوال بن جائے
اس طرح سے چمکو تم
اس طرح سے چمکو تم

کبھی نہ لفظِِ زوال لکھنا



دُعا کی صورت میں اُسکی خاطر
جو میرے ہونٹوں سے لفظ نکلے
جو میری آنکھوں سے اشک نکلے
اُنہی کے بدلے میں اے خدایا !!
تو جب بھی اُس کا نصیب لکھنا
عروج لکھنا ، کمال لکھنا
کبھی نہ لفظِِ زوال لکھنا

تیری چاہت ، تیرا پیار پاؤں


خدا کرے کہ جب بھی دعا مانگوں
ایک لمحہ کے لیے بھی 
تیرا نام میرے ہونٹوں سے نہ پھسلنے پائے
اور جب بھی ہاتھ اٹھاؤں 
تیرا چہرہ نگاہوں میں ٹھہر جائے
خدا کرے کہ 
ہر دعا کے بعد
تیری چاہت ، تیرا پیار پاؤں
خدا کرے کہ میں بھی تجھے
تیری دعاؤں میں یاد آؤ ں

ہر رنج و غم سے خدا رکھے تجھے سلامت



تجھ کو تیرا نصیب بھائے خدا کرے
دنیا کی ہر خوشی تو پائے خدا کرے

دنیا کی سب راحتیں ھوں ترے قدموں میں
تو ہر دم ،ہر پل ،مسکرائے خدا کرے

پھولوں کے نشمن میں ھو آشیانہ ترا
ہر کوئی ترے ناز اٹھائے خدا کرے

کریں سب آرزو رفاقت کی تری
ترے ہی ہر کوئی گن گائے خدا کرے

بنے تو فرشتہ ہر انساں کے لیے
مسیحا ہرکسی 
کا تو بن جائے خدا کرے

ہو مثل آفتاب زندگی تری گلاب
عمر میری بھی تجھے لگ جائے خدا کرے

ہر رنج و غم سے خدا رکھے تجھے سلامت
تو ہر خوشی ہر مراد پائے خدا کرے

تجھے وہ جہاں ملے جدھر ، کسی غم کا کوئی گذر نہ ہو



جو خوشی تمھارے قریب ہو ، وہ سدا تمھارے نصیب ہو
تجھے وہ خلوص ملے کہ جو، تیری زندگی پہ محیط ہو

جو معیار تجھ کو پسند ہو ، جو تمھارے دل کی امنگ ہو
تیری زندگی جو طلب کرے، تیرے ہمسفر کا وہ رنگ ہو

جو خیال دل میں اسیر ہو ، ہر دعا میں ایسی تاثیر ہو
تیرے ہاتھ اٹھتے ہی یک بیک، تیرے آگے اسکی تعبیر ہو

تجھے وہ جہاں ملے جدھر ، کسی غم کا کوئی گذر نہ ہو
جہاں روشنی ہو خلوص کی ، اور نفرتوں کی خبر نہ ہو

دعائے آخرِ شب


تیرگی میں یا خدا! رنگ سحر بھی دے مجھے
قریہ شب سے کبھی اذن سفر بھی دے مجھے

آج بھی اترے ہیں ہونٹوں پر دعاؤں کے ہجوم
دل کی تختی پر حروف معتبر بھی دے مجھے

دے مجھے توفیق رکھوں حوصلہ ہر حال میں
آندھیوں کے سامنے دیوار و در بھی دے مجھے

سائباں تیرے کرم کا روز و شب پر ہے محیط
اس بھری دنیا میں اک چھوٹا سا گھر بھی دے مجھے

پھول سے بچوں کو دے شاداب موسم کی نوید
خشک سالی میں بہت برگ و ثمر بھی دے مجھے

زندگی رب مسلسل ہے اگر میرے خدا
آنسوؤں کو ضبط کرنے کا ہنر بھی دے مجھے

روشنی شہر دانائی سے بھر کاسہ مرا
رزم گہ میں ہوں تمیز خیرو شر بھی دے مجھے

رونے والی آنکھ میرے جسم کو کرکے عطا
آخر شب تابش قلب ونظر بھی دے مجھے

آرزو، زندہ قفس میں بھی رہی پرواز کی
اب کھلی آب و ہوا میں بال و پر بھی دے مجھے

لکھ مری قسمت میں بھی آسودہ لمحوں کا گداز
خطہ جبر مسلسل سے مفر بھی دے مجھے

میرے آنگن پر تنے ہیں دھوپ کے خیمے ہزار
سایہ نقش کف خیرالبشر بھی دے مجھے

ہموطن میرے عمل کی روشنی کے ہوں سفیر
عزم بے پایاں کے وہ شمس وقمر بھی دے مجھے

نعت کی ابجد سے بھی واقف نہیں کلک ریاض
مدحت سرکار (ص) کے لعل وگہر بھی دے مجھے


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets