😊 I love poetry and specially Urdu poetry. I am here to share my favourite poetry with you. I hope you like it and please don't forget to show your love by liking, commenting and following the blog. 😊
Showing posts with label فیض احمد فیض. Show all posts
Showing posts with label فیض احمد فیض. Show all posts
Thursday, 14 May 2015
Friday, 8 May 2015
Monday, 27 April 2015
Friday, 17 April 2015
Sunday, 8 June 2014
Wednesday, 4 September 2013
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
دوستو ، اُس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر
گلستاں کی بات رنگیں ہے، نہ میخانے کا نام
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اُس بزم میں جانے کا نام
(ق)
دلبری ٹھہرا زبانِ خلق کھلوانے کا نام
اب نہیں لیتے پری رُو زلف بکھرانے کا نام
اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرارِ محبوبی نہیں
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
محتسب کی خیر، اونچا ہے اسی کے فیض سے
رند کا ، ساقی کا، مے کا، خُم کا ،پیمانے کانام
ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبانِ چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
فیض اُن کو ہے تقاضائے وفا ہم سے جنہیں
آشنا کے نام سے پیارا ہے بیگانے کا نام
Monday, 26 August 2013
ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎک ﮔﺮﯾﺒﺎں ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﭘﯿﺪ اب ﮐﮯ
ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎک ﮔﺮﯾﺒﺎں ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﭘﯿﺪ اب ﮐﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺿﺒﻂ ﮐﯽ ﺗﺎﮐﯿﺪ اب ﮐﮯ
ﻟﻄﻒ ﮐﺮ، اے نگہ ﯾﺎر ، کہ ﻏﻢ واﻟﻮں ﻧﮯ
ﺣﺴﺮتِ دل ﮐﯽ اُﭨﮭﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟﺗﻤﮩﯿﺪ اب ﮐﮯ
ﭼﺎﻧﺪ دﯾﮑﮭﺎ ﺗﺮی آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ، نہ ﮨﻮﻧﭩﻮں پہ
ﺷﻔﻖ
ﻣﻠﺘﯽ ﺟﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺷﺐِ ﻏﻢ ﺳﮯ ﺗﺮی دﯾﺪ اب ﮐﮯ
دل دﮐﮭﺎ ﮨﮯ نہ وﮦ ﭘﮩﻼ ﺳﺎ، نہ ﺟﺎں ﺗﮍﭘﯽ ﮨﮯ
ﮨﻢ ﮨﯽ ﻏﺎﻓﻞ ﺗﮭﮯ کہ آﺋﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﯿﺪ اب ﮐﮯ
ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺠﮫ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮا ﺗﯿﺰ
ﭼﻠﯽ
ﻻ ﮐﮯ رﮐﮭﻮ ﺳﺮِ ﻣﺤﻔﻞ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮرﺷﯿﺪ اب ﮐﮯ
Wednesday, 29 May 2013
Monday, 27 May 2013
Sunday, 31 March 2013
سحر جو شب سے عظیم تر ہے
اَلَم نصیبوں، جگر فگاروں
کی صبح افلاک پر نہیں ہے
جہاںپہ ہم تم کھڑے ہیںدونوں
سحر کا روشن افق یہیںہے
یہیںپہ غم کے شرار کھِل کر
شفق کا گلزار بن گئے ہیں
یہیںپہ قاتل دکھوں کے تیشے
قطار اندر قطار کرنوں
کے آتشیں ہار بن گئے ہیں
یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے
یقیںجو غم سے کریم تر ہے
سحر جو شب سے عظیم تر ہے
Thursday, 21 February 2013
شام
اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہے
کوئی اجڑا ہوا، بے نور پرانا مندر
ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے
چاک ہر بام، ہر اک در کا دمِ آخر ہے
آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے
جسم پہ راکھ ملے ماتھے پہ سیندور ملے
سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سے
اس طرح جیسے پسِ پردہ کوئی ساحر ہے
جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام
دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام
اب کبھی شام بجھے گی نہ اندھیرا ہو گا
اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہو گا
آسماں آس لیے ہے کہ یہ جادو ٹوٹے
چپ کی زنجیر کٹے وقت کا دامن چھوٹے
دے کوئی سنکھ دہائی،کوئی پائل بولے
کوئی بت جاگے، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے
زنداں کی ایک شام
شام کے پیچ و خم ستاروں سے
زینہ زینہ اتر رہی ہے رات
یوں صبا پاس سے گزرتی ہے
جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات
صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار
سرنگوں، محو ہیں بنانے میں
دامنِ آسماں پہ نقش و نگار
شانہِ بام پہ دمکتا ہے
مہرباں چاندنی کا دستِ جمیل
خاک میں گھل گئی ہے آبِ نجوم
نور میں گھل گیا ہے عرش کا نیل
سبز گوشوں میں نیلگوں سائے
لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں
موجِ دردِ فراقِ یار آئے
دل سے پیہم خیال کہتا ہے
اتنی شیریں ہے زندگی اس پل
ظلم کا زہر گھولنے والے
کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل
جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
چاند کو گل کریں تو ہم جانیں
Friday, 15 February 2013
میرے دل میرے مسافر
میرے دل میرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یارِ نامہ بر کا
ہر ایک اجنبی سے پوچھیں
جو پتہ تھا اپنے گھر کا
سرِ کوئے نا آشیاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ غم بری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
اگر اِک بار ہوتا
Monday, 11 February 2013
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم
سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم
کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم
کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم
کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم
اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم
دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی
کوئے ستم میں سب کو خطا کر چکے ہیں ہم
کوئے ستم میں سب کو خطا کر چکے ہیں ہم
اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جد اکر چکے ہیں ہم
رہبر سے اپنی راہ جد اکر چکے ہیں ہم
ان کی نظر میں، کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ
جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم
جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم
کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے
سو بار اُن کی خو کا گِلا کر چکے ہیں ہم
سو بار اُن کی خو کا گِلا کر چکے ہیں ہم
Friday, 18 January 2013
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی
کسی طرح تو جمے بزم میکدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاو ہو ہی سہی
گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
کسی کے وعدہ فردا کی گفتگو ہی سہی
دیار غیر میں محرم اگر نہیں کوئی
تو فیض ذکر وطن اپنے روبرو ہی سہی
Sunday, 16 December 2012
بیتا دید اُمید کا موسم، خاک اُڑتی ہے آنکھوں میں
کب تک دل کی خیر منائیں، کب تک رہ دکھلاؤ گے
کب تک چین کی مہلت دو گے، کب تک یاد نہ آؤ گے
بیتا دید اُمید کا موسم، خاک اُڑتی ہے آنکھوں میں
کب بھیجو گے درد کا بادل، کب برکھا برساؤ گے
عہدِ وفا یا ترکِ محبت، جو چاہو سو آپ کرو
اپنے بس کی بات ہی کیا ہے، ہم سے کیا منواؤ گے
کس نے وصل کا سورج دیکھا، کس پر ہجر کی رات ڈھلی
گیسوؤں والے کون تھے کیا تھے، ان کو کیا جتلاؤ گے
فیض دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی، لُٹ جانا بھی
تم اس حسن کے لطف و کرم پہ کتنے دن اتراؤ گے
کب تک چین کی مہلت دو گے، کب تک یاد نہ آؤ گے
بیتا دید اُمید کا موسم، خاک اُڑتی ہے آنکھوں میں
کب بھیجو گے درد کا بادل، کب برکھا برساؤ گے
عہدِ وفا یا ترکِ محبت، جو چاہو سو آپ کرو
اپنے بس کی بات ہی کیا ہے، ہم سے کیا منواؤ گے
کس نے وصل کا سورج دیکھا، کس پر ہجر کی رات ڈھلی
گیسوؤں والے کون تھے کیا تھے، ان کو کیا جتلاؤ گے
فیض دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی، لُٹ جانا بھی
تم اس حسن کے لطف و کرم پہ کتنے دن اتراؤ گے
Monday, 26 November 2012
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
دکھ سے بھر پور دن تمام ہوئے
اور کل کی خبر کسے معلوم
دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود
ہو نہ ہو اب سحر، کسے معلوم؟
زندگی ہیچ! لیکن آج کی رات
ایزدیت ہے ممکن آج کی رات
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
اب نہ دہرا فسانہ ہائے الم
اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو
فکرِ فردا اتار دے دل سے
عمر رفتہ پہ اشکبار نہ ہو
عہدِ غم کی حکایتیں مت پوچھ
ہو چکیں سب شکایتیں مت پوچھ
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
Wednesday, 14 November 2012
آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آگیا
آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آگیا
جیسے خوشبوئے زلفِ بہار آ گئی جیسے پیغامِ دیدارِ یار آگیا
جس کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم رُو بُرو پھر سرِ رہگزر آگیا
صبحِ فردا کو پھر دل ترسنے لگا، عمر رفتہ ترا اعتبار آگیا
رُت بدلنے لگی رنگِ دل دیکھنا، رنگِ گلشن سے اب حال کھلتا نہیں
زخم چھلکا کوئی یا کوئی گُل کھِلا، اشک اُمڈے کہ ابرِ بہار آگیا
خونِ عُشاق سے جام بھرنے لگے، دل سُلگنے لگے ، داغ جلنے لگے
محفلِ درد پھر رنگ پر آ گئی، پھر شبِ آرزو پر نکھار آگیا
سر فروشی کے انداز بدلے گئے، دعوتِ قتل پر مقتل شہر میں
ڈال کر کوئی گردن میں طوق آگیا، لاد کر کوئی کاندھے پہ دار آگیا
فیض کیا جانئے یار کس آس پر، منتظر ہیں کہ لائے گا کوئی خبر
میکشوں پر ہُوا محتسب مہرباں، دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آگیا
Tuesday, 6 November 2012
دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے
دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئي شب غم گزار کر
ويراں ہے ميکدہ، گم و ساغر اداس ہيں
تم کيا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اک فرصت گناہ ملئ، وہ بھي چار دن
ديکھے ہيں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دنيا نے تيري ياد سے بيگانہ کرديا
تجھ سے بھي دلفريب ہيں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو ديے تھے وہ آج فيض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
Subscribe to:
Posts (Atom)
!-end>!-currency>





