Showing posts with label خالد علیم. Show all posts
Showing posts with label خالد علیم. Show all posts

Sunday, 4 August 2013

سیل گریہ ہے کوئی جو رگ جاں کھینچتا ہے


سیل گریہ ہے کوئی جو رگ جاں کھینچتا ہے
رنگ چاہت کے وہ آنکھوں پہ کہاں کھینچتا ہے

دل کہ ہر بار محبت سے لہو ہوتا ہے
دل کو ہر بار یہی کار زیاں کھینچتا ہے

شاید اب کے بھی مری آنکھ میں تحریر ہے وہ
لمحۂ یاد کوئی حرف گماں کھینچتا ہے

ایک بے نام سی آہٹ پہ دھڑکتا ہوا دل
عکس تیرا ہی سر شیشۂ جاں کھینچتا ہے

جا چکا ہے وہ مرے حال سے باہر پھر بھی
اپنی جانب مرے ماضی کے نشاں کھینچتا ہے

تیر نکلے گا تو سوچیں گے، ابھی تو خالد
وہ فقط میری طرف اپنی کماں کھینچتا ہے 

Tuesday, 29 January 2013

مرگِ انتظار


تو نہ آتا تو یہ خواب
اور کچھ دن یونہی زندہ رہتے
اور کچھ دن یونہی آنکھوں میں سجاتے
ترے چہرے کے نقوش
اور کچھ دن یونہی سینے میں ترے نام کی دھڑکن رہتی
اور کچھ دن یونہی لمحہ لمحہ
تار مژگاں پہ پروتے تری چاہت کے ستارے
تری خواہش کے حسیں رنگ
ترے لمسِ تصور کے کنول
اب جو تو لوٹ کے آیا ہے تو آنکھوں میں تری یاد
نہ چاہت کے ستارے ہیں
نہ خواہش کے حسیں رنگ
نہ پلکوں پہ ترے لمسِ تصور کے کنول ہیں
فقط اک نم ہے، نم شیشۂ جاں


مری جان ، میری متاع جاں



!مری جان ، میری متاع جاں
تجھے یاد ہے؟
ترے ساتھ جتنے بھی ماہ و سال گزر گئے
مری جلتی بجھتی نگاہ میں سبھی ریزہ ریزہ اتر گئے
وہ جو حرف تھے مرے آنکھ میں
وہ جو آنسوؤں کے گلاب تھے
مرے درد تھے، مرے خواب تھے
مری چاہتوں کے سراب تھے
وہ فراق تھا کہ وصال تھا جو ترے خیال میں ڈھل گیا
کوئی تیر تھا جو جگر کے پار نکل گیا
یہ جو حرف حرف خیال ہیں
یہ جو برف برف وصال ، ہجر مثال ہیں
انھیں کون خیمہ خواب عمر میں راہ دے
انھیں کون حجلۂ جان و دل میں پناہ دے
کوئی اور کیوں انھیں اپنے قرب کی چاہ دے
کوئی اور کیوں ترے جسم اور مرے وجود کے درمیان ٹھہر سکے
فقط ایک میں ، فقط ایک تو
اسی کرب خواب کا ماحصل ہیں تو کس لیے
کوئی اور ہے جو ترے وجود، مرے خیال کے
درمیاں ہے رُکا ہوا
مگر آج تک مری آنکھ میں اسی ایک حرف کا
اضطراب ابد گماں ہے رُکا ہوا
وہی ایک حرف جو تیرے اور مرے ہجر کے مہ و سال کا
کوئی عکس ہے
کہ ترے فریب جمال کا کوئی عکس ہے
مگر اے مرے دل و جاں کے ہمدم و مہرباں
تجھے یاد ہے؟
کہیں ماہ و سال کے اس طرف
وہ جو کتنے ہی مہ و سال تھے
وہ گزر گئے مگر آج تک
تجھے کیا خبر!
تری یاد میں، تری چاہ میں، کوئی آنکھ دل سے بھری رہی
مگر آج تک تری آنکھ میں وہی ایک بے خبری رہی

تیرے لیے میں ساری عمر گنوا سکتا ہوں



تیرے لیے میں ساری عمر گنوا سکتا ہوں
تو کہہ دے تو یہ دھوکہ بھی کھا سکتا ہوں

تیری چاہت کے جذبوں کی خوشبو لے کر
بجھی ہوئی شاموں کو بھی مہکا سکتا ہوں

لمحوں کے پرکیف سکوت پہ حیراں کیوں ہے
تیرے لیے میں صدیوں کو ٹھہرا سکتا ہوں

کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے، تیری خاطر
جنگل کے اس پار اکیلا جا سکتا ہوں

دھول اڑاتی آنکھوں میں جذبوں کو بہا کر
دریاؤں کو صحراؤں میں لا سکتا ہوں

خالد اپنے جذبوں کی زرخیزی سے میں
کشت سخن میں ہریالی مہکا سکتا ہوں

تو نے مری وفا کے عوض کچھ درد مثال خیال دیے




تو نے مری وفا کے عوض کچھ درد مثال خیال دیے
میں نے وہی خیال ترے اس ہجر کی لے میں ڈھال دیے

وقت کے آتشدان میں تو نے میرے عکس جلا ڈالے
میں نے بھی اپنے دیوان سے کتنے شعر نکال دیے

ہجر زدہ سب دیکھ رہے ہیں آئینوں کو حیرت سے
کیسے کیسے ان چہروں کو وقت نے خد و خال دیے

دل زدگاں کیوں صحرا صحرا خاک اڑاتے پھرتے ہیں
کس نے ان کے پاؤں میں یہ وحشت کے چکر ڈال دیے

ڈھونڈ رہے ہیں ہم ان کا حل اپنے بے حس چہروں میں
نئے زمانے نے انسان کو جتنے نئے سوال دیے

اس کے تغافل سے ہو گلہ کیا، جس نے میرے شعروں کو
پھول کی خوشبو، چاند کی ٹھنڈک، لفظوں کے سرتال دیے

ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی تو تاریکی کچھ اور بڑھی
جلتے جلتے بجھ گئے خالد کتنے ماہ مثال دیے

Monday, 28 January 2013

عشق میں بہتا ہے جو دریا بہ دریا، کون ہے


عشق میں بہتا ہے جو دریا بہ دریا، کون ہے
ہم بھی دیکھیں، درد کے صحرا میں ایسا کون ہے


ایک لمحہ ہی گزر جائے کہیں تیرے بغیر
دل کو سمجھایا تو ہے، لیکن سمجھتا کون ہے


میری بے آواز تنہائی بتائے کیا مجھے
شہر میں ہے جس کی خاطر شور برپا، کون ہے


سر پہ یہ جلتے ہوئے سورج کو اندازہ نہیں
بے طلب اس دشت میں گھر سے نکلتا کون ہے


کھو گئی ہے وقت کی لہروں میں سچائی تو کیا
وقت ہی خود فیصلہ کرتا ہے، سچا کون ہے


ایک سے اس شہر میں ہیں آشنا ناآشنا
کیا بتائیں تجھ کو میری جاں کہ کیسا کون ہے


دن کا سورج کیا اٹھائے گا مری راتوں کا غم
اور پھر خالد کسی کا بوجھ اٹھاتا کون ہے


اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی



اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی
اسے کیا خبر کہ تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی

کوئی تار تار نگاہ بھی تھی صد آئنہ، اسے کیا خبر
کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی

میں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیارِ دل
سرِ طاقِ مطلعِ آفتاب مری نگاہ دھری رہی

سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا
مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہی

وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا، نہ مٹا سکے
کفِ ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی

ترے دشتِ ہجر سے آ چکے بہت اپنی خاک اڑا چکے
وہی چاک پیرہنی رہا وہی خوئے دربدری رہی

وہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیں
وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی

مرے چہرے کے پیچھے عکس اس کا جاگتا ہے


مرے چہرے کے پیچھے عکس اس کا جاگتا ہے
کہ آئینے میں اک منظر پرانا جاگتا ہے


ذرا تم چاند کی مشعل کو گل کرنے سے پہلے
فلک پر دیکھنا لینا، کوئی تارا جاگتا ہے؟


یہ آنسو رک سکیں تو روک لو، بہتر یہی ہے
جب آنسو خشک ہو جائیں تو دریا جاگتا ہے


اچانک داستان وصل اس نے ختم کر دی
فقط یہ دیکھنے کو، کون کتنا جاگتا ہے


فضا خاموش ہے اور رات کے بستر پہ خالد
زمیں سے آسماں تک کوئی گریہ جاگتا ہے


مرے لہو میں تسلسل ترے خیال کا تھا



اک انتخاب وہ یادوں کے ماہ و سال کا تھا
جو حرف ابر زدہ آنکھ میں ملال کا تھا
شکست آئنۂ جاں پہ سنگ زن رہنا
ہنر اسی کا تھا، جتنا بھی تھا، کمال کا تھا
یہ دیکھنا ہے کہ کھل کر بھی بادباں نہ کھلے
تو اس سے کتنا تعلق ہوا کی چال کا تھا
قبائے زخم کی بخیہ گری سے کیا ہوتا
مرے لہو میں تسلسل ترے خیال کا تھا
پرانے زخم بھی خالد! مرے، ادھیڑ گیا
جو ایک زخم، کف جاں پہ پچھلے سال کا تھا
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets