Showing posts with label عاطف سعید. Show all posts
Showing posts with label عاطف سعید. Show all posts

Thursday, 31 March 2016

Suno



Suno!
Mein mar gaya tau
Kaya tumhen mein yaad aauun ga?


شرط

Wednesday, 11 June 2014

Monday, 29 April 2013

کچھ ستارے خریدنا ہیں مجھے



مسکراہٹ ادھار دینا ذرا

کچھ ستارے خریدنا ہیں مجھے


ایک آنسو کا مول کیا لو گے؟

آج سارے خریدنا ہیں مجھے


بول تتلی کے دام کتنے ہیں؟

رنگ پیارے خریدنا ہیں مجھے


سرخوشی میں جو بیچ آیا تھا

غم وہ سارےخریدنا ہیں مجھے


زندگی کے جوار بھاٹے سے

کچھ شرارے خریدنا ہیں مجھے


میں سمندر خرید بیٹھا ہوں

اب کنارے خریدنا ہیں مجھے


زندگی کا خراج کتنا ہے

گوشوارے خریدنا ہیں مجھے


معزرت 
کہ منیم جی اب تو

بس خسارے خریدنا ہیں مجھے


ڈگمگاتی ہے زندگی عاطف

کچھ سہارے خریدنا ہیں مجھے


Friday, 5 October 2012

جس دن تجھ سے بات نہیں ہوتی


جس دن تجھ سے بات نہیں ہوتی
یوں لگتا ہے دن نہیں چڑھتا
یوں لگتا ہے رات نہیں ہوتی

میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں



میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں

کبھی دعاؤں کبھی سازشوں میں رہتا ہوں

جو تم ذرا سا بھی بدلے تو جان لے لو گے!

میں کچھ دنوں سے عجب واہموں میں رہتا ہوں

میں جس طرح سے کبھی دشمنوں میں رہتا تھا

اُسی طرح سے ابھی دوستوں میں رہتا ہوں

قدم قدم پہ ہیں بکھرے ہوئے نقوش مرے

میں تیرے شہر کے سب راستوں میں رہتا ہوں

کیا ہے فیصلہ جب سے چراغ بننے کا!

میں اعتماد سے اب آندھیوں میں رہتا ہوں

تمہارے بعد یہ دن تو گذر ہی جاتا ہے

میں شب کو دیر تلک آنسوؤں میں رہتا ہوں


جو مجھ کو چھوڑ کے تقسیم ہو گیا سب میں



کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے

تمہارے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے

یوں لگ رہا ہے کہ بارش میں دھوپ نکلی ہے

خوشی میں اس طرح تم نے ملال رکھا ہے

کچھ اس لیے بھی مرا حرف حرف روشن ہے

ترے خیال نے دل کو اجال رکھا ہے

جو مجھ کو چھوڑ کے تقسیم ہو گیا سب میں

اسی کے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے

خود اپنے آپ میں رہنا اُسے قبول نہیں

مجھے بھی ذات سے باہر نکال رکھا ہے

یہ سوچتا ہوں اُسے کیا کہوں گا میں عاطف
کہ میرے پیار پہ اُس نے سوال رکھا 
ہے




آج بعد مدت کے میں نے اُس کو دیکھا ہے



اور کچھ نہیں بدلا

آج بعد مدت کے

میں نے اُس کو دیکھا ہے

وہ ذرا نہیں بدلی!

اب بھی اپنی آنکھوں میں

سو سوال رکھتی ہے

چھوٹی چھوٹی باتوں پہ

اب بھی کھل کے ہنستی ہے

اب بھی اُس کے لہجے میں

وہ ہی کھنکھناہٹ ہے

وہ ذرا نہیں بدلی!!

اب بھی اُس کی پلکوں کے

سائے گیلے رہتے ہیں

اب بھی اُس کی سوچوں میں

میرا نام رہتا ہے

اب بھی میری خاطر وہ

اُس طرح ہی پاگل ہے

وہ ذرا نہیں بدلی!

آج بعد مدت کے

میں نے اُس کو دیکھا ہے

تو مجھے بھی لگتا ہے

میں بھی اُس کی چاہت میں

اُس طرح ہی پاگل ہوں

بعد اتنی مدت کے

اور کچھ نہیں بدلا!

جُز ہمارے رستوں کے

اور کچھ نہیں بدلا


مہک رہا ہوں صبح و شام تیری یادوں میں



کسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیا

یہ کون پھر سے مجھے آندھیوں میں چھوڑ گیا

مہک رہا ہوں صبح و شام تیری یادوں میں

ترا وجود مجھے خوشبوؤں میں چھوڑ گیا

قدم قدم وہ مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے

وہ اپنا آپ مرے راستوں میں چھوڑ گیا

تمام عمر مرے ساتھ وہ بھی جاگے گا!

جو اپنی نیند مرے رتجگوں میں چھوڑ گیا

ابھی تو ڈوب کے ساحل کے پاس پہنچا تھا

یہ کون پھر سے مجھے پانیوں میں چھوڑ گیا

جلا رہا ہوں جسے چھو رہا ہوں میں عاطف

یہ کون آگ سی میری رگوں میں چھوڑ 
گیا




مری آنکھوں میں بھی رہنا تجھے قبول نہیں



کبھی قیاس کبھی وہ گمان بدلے گا

میں جانتا تھا وہ اپنا بیان بدلے گا

مری آنکھوں میں بھی رہنا تجھے قبول نہیں

بتا کہ اور تو کتنے مکان بدلے گا

بس ایک آس پہ جیتا ہوں آج تک مولا

کبھی تو رنگ تیرا آسمان بدلے گا

یہ ممتحن یہ نتیجہ بدل نہیں سکتا

اے دل فقط یہ ترا امتحان بدلے گا

ابھی تو راہ میں کتنے ہی موڑ آنے ہیں

بتا کہ اور تو کتنے بیان بدلے گا

شکار اس لیے محتاط تھا بہت عاطف

وہ جانتا تھا شکاری مچان بدلے 
 گا





مجھے تم کیا بتاؤ گی؟



مجھے تم کیا بتاؤ گی؟
کہ جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
بہت بے چین رہتی ہو
مری باتیں ستاتی ہیں
مرے لفظوں کے جگنو!
ایک پل اوجھل نہیں ہوتے
مری نظمیں رُلاتی ہیں
مری آنکھیں جگاتی ہیں
مجھے تم کیا بتاؤ گی
کہ تم نے بارہا اُن اجنبی چہروں کے جنگل میں
مرے چہرے کو ڈھونڈا ہے
کسی مانوس لہجے پر
کسی مانوس آہٹ پر
پلٹ کر ایسے دیکھا ہے
کہ جیسے تم مری موجودگی محسوس کرتی ہو!
مجھے تم کیا بتاؤ گی!
کہ کتنی شبنمی شامیں
ٹہلتے‘ سوچتے گذریں
کہ کتنی چاندنی راتیں
دعائیں مانگتے گذریں
کہ کتنے اشک ایسے تھے
جو گرتے ہی رہے دل میں
مجھے تم کیا بتاؤ گی
مری جاں! میں سمجھتا ہوں
تمہاری اَن کہی باتیں
کہ میں اِن موسموں کے ایک اک رستے سے گذرا ہوں
میں اب بھی لفظ چنتا ہوں
میں اب بھی اشک بُنتا ہوں
کہ جب سے تم سے بچھڑا ہوں
تمہاری ذات پر گذرے
میں ہر موسم میں رہتا ہوں
تو پھر تم کیا سناؤ گی
مجھے تم کیا بتاؤ گی

ٹھہر گئی ہے بات مقدر پر آ کر



تیرے میرے بیچ زمانہ پڑتا ہے
دل کو کتنی بار بتانا پڑتا ہے

ٹھہر گئی ہے بات مقدر پر آ کر
خود کو یہ اکثر سمجھانا پڑتا ہے

سوچوں کو کب قید کوئی کر پایا ہے
لیکن خود کو تو سمجھانا پڑتا ہے

رستہ ہو دشوار یا راہی انجانے
اِس جیون کا ساتھ نبھانا پڑتا ہے

خاموشی کے ڈسنے کا ڈر ہو جس دم
ایسے میں خود شور مچانا پڑتا ہے

پاس مرے تو صرف تمہاری یادیں ہیں
یادوں سے دل کو بہلانا پڑتا ہے


تمہیں موسم بلاتے ہیں



مرے اندربہت دن سے
کہ جیسے جنگ جاری ہے
عجب بے اختیاری ہے
میں نہ چاہوں مگر پھر بھی تمہاری سوچ رہتی ہے
ہر اک موسم کی دستک سے تمہارا عکس بنتا ہے
کبھی بارش تمہارے شبنمی لہجے میں ڈھلتی ہے
کبھی سرما کی یہ راتیں!
تمہارے سرد ہاتھوں کا دہکتا لمس لگتی ہیں
کبھی پت جھڑ!
تمہارے پاؤں سے روندے ہوئے پتوں کی آوازیں سناتا ہے
مجھے بے حد ستاتا ہے
کبھی موسم گلابوں کا!
تمہاری مسکراہٹ کے سبھی منظر جگاتا ہے
مجھے بے حد ستاتا ہے
کبھی پلکیں تمہاری، دھوپ اوڑھے جسم و جاں پر شام کرتی ہیں
کبھی آنکھیں، مرے لکھے ہوئے مصرعوں کو اپنے نام کرتی ہیں
میں خوش ہوں یا اُداسی کے کسی موسم سے لپٹا ہوں
کوئی محفل ہو تنہائی میں یا محفل میں تنہا ہوں
یا پھر اپنی لگائی آگ میں بجھ بجھ کے جلتا ہوں
مجھے محسوس ہوتا ہے
مرے اندربہت دن سے
کہ جیسے جنگ جاری ہے
عجب بے اختیاری ہے
اوراِس بے اختیاری میں
مرے جذبے، مرے الفاظ مجھ سے روٹھ جاتے ہیں
میں کچھ بھی کہہ نہیں سکتا، میں کچھ بھی لکھ نہیں سکتا
اُداسی اوڑھ لیتا ہوں
اوران لمحوں کی مٹھی میں!
تمہاری یاد کے جگنو کہیں جب جگمگاتے ہیں
یابیتے وقت کے سائے!
مری بے خواب آنکھوں میں کئی دیپک جلاتے ہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے
مجھے تم کو بتانا ہے
کہ رُت بدلے تو پنچھی بھی گھروں کو لوٹ آتے ہیں
سنو جاناں، چلے آؤ

تمہیں موسم بلاتے ہیں



وہ شخص مجھ کو جیت کے ہارا ہے اور بس


وہ شخص مجھ کو جیت کے ہارا ہے اور بس
اتنا ہی زندگی کا خسارہ ہے اور بس

کیسے کہوں کہ اُس کا ارادہ بدل گیا
سچ تو یہی ہے اُس نے پکارا ہے اور بس

دنیا کو اِس میں درد کی شدت کہاں ملے
آنکھوں سے ٹوٹتا ہوا تارا ہے اور بس

لفظوں میں دردِ ہجر کو محسوس کر کے دیکھ
کہنے کو میں نے وقت گزارا ہے اور بس

اب ان میں کوئی خواب سجانے نہیں مجھے
آنکھوں کو انتظار تمہارا ہے اور بس

میں نے کہا کہ خواب میں دیکھی ہیں بارشیں
اس نے کہا کہ ایک اشارہ ہے اور بس


تمہارے ساتھ جو گذرے وہی پل زندگی ٹھہرے



مرے ہمدم، مرے ساتھی
تمہیں تو یاد ہی ہو گا
وہ دن کیا خاص تھا جب تم مرے جیون آئی تھیں
مری بے رنگ دنیا کو تمہاری مسکراہٹ نے ہزاروں رنگ بخشے تھے
اسے کیسے سجایا تھا تمہیں تو یاد ہی ہو گا
تمہیں میں نے بتایا تھا
کہ میں خوابوں میں رہتا ہوں مگر تم اک حقیقت ہو
محبت ہی محبت ہو
پھر اس کے بعد جیون کے سبھی موسم، سبھی منظر تمہاری آنکھ سے دیکھے
تمہارے ساتھ جو گذرے وہی پل زندگی ٹھہرے
تمہیں تو یاد ہی ہو گا،مجھے کب یاد رہتا تھا
مجھے کیا کام کرنے ہیں
مجھے کس کس سے ملنا ہے
کہاں جانا ضروری ہے
خفا کوئی ہے کیوں مجھ سے
کسے جا کر منانا ہے
مجھے کب یاد رہتا تھا
مرا معمول تو تم تھیں
تمہی سب یاد رکھتی تھیں
میں اپنے دل کی سب باتیں فقط تم سے ہی کرتا تھا
تمہاری بھی یہ عادت تھی
تمہیں تو یاد ہی ہو گا میں اکثر تم سے کہتا تھا
ابھی اس زندگی کے ساتھ کتنے روگ لپٹے ہیں
مجھے تم سے محبت کی ذرا فرصت نہیں ملتی
ذرا وہ وقت آنے دو، ذرا فرصت ملے مجھ کو
بٹھا کر سامنے تم کو تمہیں جی بھر کے دیکھوں گا
بتاؤں گا مجھے تم سے محبت سی محبت ہے
مجھے اس دم ملی فرصت
کہ جب یہ بات سننے کو نہیں تم سامنے میرے
مری جاں تم وہاں پر ہو جہاں سے لوٹ کر واپس کبھی کوئی نہیں آتا
تمہیں کیوں اتنی جلدی تھی؟
مرا اقرار سن لیتیں، مرا اظہار سن لیتیں
کہ اب فرصت ہی فرصت ہے
کہ اب معمول میں میرے فقط تم سے محبت ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
کہ میں تاخیر سے پہنچا، تمہیں جانے کی جلدی تھی


بھولی بسری ساری باتیں



خواب سجانے والی آنکھیں
پل بھرمیں بنجر ہوجائیں
رستہ تکتے تکتے تھک کر
امیدیں پتھر ہو جائیں
لب پر اگ آئے خاموشی
اور سینے میں حشر بپا ہو
لفظوں کی مالا کا دھاگا
بیچ سے جیسے ٹوٹ گیا ہو
بھولی بسری ساری باتیں
میں بھی شاید یاد بنا لوں
بھول کے اپنے دکھڑے سارے
ہونٹوں پہ مسکان سجا لوں
تم ڈھونڈو پھر مجھ میں مجھ کو
اور میں خود میں گم ہو جاؤں
ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
میں بھی اک دن تم ہو جاؤں

تم نے کاٹی ہی کہاں ہے شب ہجراں ہمدم


درد سے گیت نکھارے ہیں تمہیں کیا معلوم
ہم نے یوں درد سنوارے ہیں تمہیں کیا معلوم

تم تو کہتے تھے کہ یہ ہجر کے دن تھوڑے ہیں
ہم نے کیسے یہ گزارے ہیں تمہیں کیا معلوم

تم نے کاٹی ہی کہاں ہے شب ہجراں ہمدم
اب یہ آنسو یا شرارے ہیں تمہیں کیا معلوم

تیرے آنے سے میں تنہا ہی نہیں جھوم رہا
رقص میں سارے نظارے ہیں تمہیں کیا معلوم

چند لمحے جو تمہیں یاد نہیں ہوں گے مگر
وہ ہمیں جان سے پیارے ہیں تمہیں کیا معلوم

کس طرح تم ہمیں جیتے ہو خبر ہے تم کو
کس طرح ہم تمہیں ہارے ہیں تمہیں کیا معلوم

ہم نے یہ عمر گذاری ہی اسی وحشت میں
ہم غم ہجر کے مارے ہیں تمہیں کیا معلوم

تیرے آنسو میرے دل پر گرتے ہیں



میرے آنسو میرے اندر گرتے ہیں
جیسے دریا بیچ سمندر گرتے ہیں

تیری یادیں وہ طوفان اٹھاتی ہیں
اک اک کر کے سارے منظر گرتے ہیں

کتنی لہریں شعروں میں ڈھل جاتی ہیں
    سوچ کے پانی میںجب پتھر گرتے ہیں      

ہم نے ٹھوکر کھا کر چلنا سیکھا ہے
اور ہیں وہ جو ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں

رونے والے ! یہ تجھ کو معلوم نہیں
تیرے آنسو میرے دل پر گرتے ہیں

تم بس اس کا روگ لگا کر بیٹھے ہو
سپنوں کے یہ گھر تو اکثر گرتے ہیں

کات رہا ہے عاطف۔ کوئی آنکھوں میں
تکیے پر یہ خواب جو اکثر گرتے ہیں

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets