Showing posts with label افتخارعارف. Show all posts
Showing posts with label افتخارعارف. Show all posts

Monday, 24 June 2013

یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں


یہ  بستیاں  ہیں  کہ  مقتل  دعا کیے جائیں
دعا  کے  دن  ہیں  مسلسل  دعا  کیے  جائیں

کوئی  فغاں، کوئی نالہ، کوئی بکا، کوئی بین
کھلے    گا    باب   مقتل   دعا   کیے   جائیں

یہ    اضطراب   یہ   لمبا   سفر،   یہ   تنہائی
یہ   رات   اور  یہ  جنگل  دعا  کیے  جائیں

بحال  ہو  کے  رہے  گی  فضائے  خطۂ خیر
یہ   حبس   ہوگا   معطل   دعا   کئے  جائیں

گزشتگان   ِ   محبت  کے  خواب  کی  سوگند
وہ   خواب   ہوگا   مکمل   دعا   کیے   جائیں

ہوائے  سرکش  و  سفاک کے مقابل بھی
یہ دل بجھیں گے نہ مشعل دعا کیے جائیں

غبار    اڑاتی    جھلستی    ہوئی    زمینوں   پر
امنڈ  کے  آئیں  گے بادل دعا کیے جائیں

قبول   ہونا   مقدر   ہے  حرف  خالص  کا
ہر  ایک  آن  ہر  اک  پل دعا کیے جائیں

Wednesday, 15 May 2013

جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِبازار


سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سے
ابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں

سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
کسی کو ہم نے مدد کی لئے پکارا نہیں

جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِبازار
جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

ہم اہلِ دل ہیں محبت کی نِسبتوں کے امیں
ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں

Tuesday, 14 May 2013

شہرِ گُل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے


شہرِ گُل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اُسی خاک سے خوف آتا ہے


شکل بننے نہیں پاتی، کہ بگڑ جاتی ہے
نئی مٹی کو ابھی چاک سے خوف آتا ہے


وقت نے ایسے گھمائے اُفق آفاق، کہ بس
محورِ گردشِ سفاک سے خوف آتا ہے


یہی لہجہ تھا کہ معیارِ سخن ٹھہرا تھا
اب اِسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے


آگ جب آگ سے ملتی ہے تو لَو دیتی ہے
خاک کو خاک کی پوشاک سے خوف آتا ہے


قامتِ جاں کو خوش آیا تھا کبھی خلعتِ عشق
اب اِسی جامۂ صد چاک سے خوف آتا ہے


کبھی افلاک سے نالوں کے جواب آتے تھے
اِن دنوں، عالمِ افلاک سے خوف آتا ہے


رحمتِ سیدِ لولاک پہ کامل ایمان
امتِ سیدِ لولاک سے خوف آتا ہے


Monday, 13 May 2013

عجیب رسم چلی ہے دُعا نہ مانگے کوئی



عذابِ وحشتِ جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
نئے سفر کے لئے راستہ نہ مانگے کوئی

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دُعا نہ مانگے کوئی

تمام شہر مکرّم، بس ایک مجرم مَیں
سو میرے بعد، مِرا خُوں بہا نہ مانگے کوئی

کوئی تو شہرِ تذبذب کے ساکنوں سے کہے
نہ ہو یقین تو، پھر معجزہ نہ مانگے کوئی

عذابِ گردِ خزاں بھی نہ ہو، بہار بھی آئے
اِس احتیاط سے اجرِ وفا نہ مانگے کوئی

Thursday, 28 March 2013

چھلک رہا ہے جو کشکولِ آرزو، اس میں


خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
ہم اہلِ مہر و محبت ہیں، دل نکال کے رکھ

ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
تُو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

ذرا سی دیر کا ہے یہ عروجِ مال و منال
ابھی سے ذہن میں سب زاویے زوال کے رکھ

یہ بار بار کنارے پہ کِس کو دیکھتا ہے
بھنور کے بِیچ کوئی حوصلہ اُچھال کے رکھ

نہ جانے کب تُجھے جنگل میں رات پڑ جائے
خُود اپنی آگ سے شُعلہ کوئی اُجال کے رکھ

جواب آئے نہ آئے، سوال اُٹھا تو سہی
پِھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

تری بلا سے گروہِ جنُوں پہ کیا گُزری
تُو اپنا دفترِ سُود و زیاں سنبھال کے رکھ

چھلک رہا ہے جو کشکولِ آرزو، اس میں
کسی فقیر کے قدموں کی خاک ڈال کے رکھ


Monday, 15 October 2012

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو












دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

میں اس کے ہاتھ نہ آؤں اور وہ میرا ہو کے رہے
میں گر پڑوں تومیری پستیوں کا ساتھی ہو

وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ہو

کرے کلام مجھ سے تو میرے لہجے میں
میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو

میں اپنے آپ کو دیکھوں اور وہ مجھ کو دیکھے جائے
وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو

وہ خواب دیکھے تو دیکھے میرے حوالے سے
میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو


Wednesday, 12 September 2012

تمام خانۂ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات



امید وہم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

بکھر چکے ہیں بہت باغ و دشت و دریا میں
اب اپنے حجرۂ جاں میں سمٹ کے دیکھتے ہیں

تمام خانۂ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

پھر اس کے بعد جو ہونا ہے ہو رہے سردست
بساطِ عافیتِ جاں الٹ کے دیکھتے ہیں

وہی ہے خواب جسے مل کے سب نے دیکھا تھا
اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

سُنا یہ ہے کہ سُبک ہو چلی ہے قیمت حرف
سو ہم بھی اب قد و قامت میں گھٹ کے دیکھتے ہیں

Wednesday, 5 September 2012

ابھی کچھ دن لگیں گے


ابھی کچھ دن لگیں گے
دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

جہانِ رنگ کے سارے خس و خاشاک
سب سرو و صنوبر پھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے

تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر
کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر
بنتے بنتے رہ گیا ہے 
وہ اک گھر بھولنے میں 
ابھی کچھ دن لگیں گے

مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں
بس اک دن دل کی لوح منتظر پر
اچانک
رات اترے گی
میری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے
ہر خواب کی تکمیل کر دے گی
مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی
اک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا 
اک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک
کوئی روشن دن نہیں تھا
ابھی کچھ دن لگیں گے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔!


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets