Showing posts with label ایوب خاور. Show all posts
Showing posts with label ایوب خاور. Show all posts

Wednesday, 22 January 2014

یہ ہجر و وصال بھی عجب ہیں



آئینوں میں خواب ایک سے ہیں
موسم سرِ آب ایک سے ہیں

ہر شخص کے دکھ الگ الگ ہیں
پڑھیے تو نصاب ایک سے ہیں

آنکھیں ہوں، ستارہ ہو کہ جگنو
یہ سارے شہاب ایک سے ہیں

یہ ہجر و وصال بھی عجب ہیں
دونوں کے عذاب ایک سے ہیں

اس کوفۂ تشنگی میں خاور
دریا و سراب ایک سے ہیں

Wednesday, 10 October 2012

کبھی جو کچے گھڑے کا قصہ تیری وفا کو غرور بخشے



تم اپنی صبحوں کے رنگ لکھنا کہ اپنی راتوں کے خواب لکھنا
بس کرنا اتنا جہاں بھی رہنا میرے خطوں کے جواب لکھنا

پھر اتنی فر صت کسے ملے گی کہ مل بیٹھیں تو حال پوچھیں
مگر خطوں میں ہر ایک وعدے، ہر ایک قسم کا حساب لکھنا

مجھے تو تم نے قریب رہ کر بھی خیر جو اذیتیں دیں
تم اب جدائی کے موسموں میں اُٹھانا جو عذاب لکھنا

کبھی جو کچے گھڑے کا قصہ تیری وفا کو غرور بخشے
عبور جب بھی کرنا چاہے ملامتوں کا عذاب لکھنا

تیری پریشانیوں کی خبریں یہ دکھی آنکھیں نہ پڑھ سکیں گی
بدن میں کانٹے بھی چبھ رہے ہوں حرف گلہ گلاب لکھنا

ہزار باتیں ہیں ،چار راتیں ہیں ،اس سے کیا کیا کہو گے خاور
وہ چہرہ پڑھ پڑھ کے یاد کر لو وہ جا چکے تو کتاب لکھنا

لپٹا ہے میرے دل سے کسی خواب کی صورت


اک خواب ھے اس خواب میں کھونا بھی نھیں ھے
تعبیر کے دھاگے میں پرونا بھی نھیں ھے

لپٹا ہے میرے دل سے کسی خواب کی صورت
وہ شخص کہ جس کو میرا ھونا بھی نھیں ھے

رکھنا ھے سرچشم اسے ساکت و جامد
پانی میں مگر چاند بھگونا بھی نھیں ھے

ہرچند تیرے نقش کف پا میں ھے لیکن
یہ دل کسی بچے کا کھلونا بھی نھیں ھے

یہ عشق و محبت کی روایت بھی عجب ھے
پایا نھیں جس کو ، اسے کھونا بھی نھیں ھے

جس شخص کی خاطر تیرا یہ حال ھے خاور
اس نے تیرے مر جانے پہ رونا بھی نھیں ھے
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets