Showing posts with label اداس ہونے کے دن نہیں (نوشی گیلانی). Show all posts
Showing posts with label اداس ہونے کے دن نہیں (نوشی گیلانی). Show all posts

Thursday, 4 October 2012

متفرق اشعار



وہ تیرگی تھی لفظوں کو راستہ نہ ملا
کوئی چراغ قبیلہ مرے ہُنر کے لیے


دل پر ہوتے جبر ابھی دیکھے ہی نہیں ہیں
تم نے اہلِ صبر ابھی دیکھے ہی نہیں ہیں


سوچ رہے ہیں صبح تلک اِک بار بھی آنکھ نہیں جھپکی
اب تو تیرے ہجر میں ہم نے پہلی رات گزاری ہے


قریب تھا تو کسے فُرصت محبّت تھی
ہُوا ہے دُور تو اُس کی وفائیں یاد آئیں


آج دیکھو زمیں کے سینے پر
اُس کے چہرے کی دھوپ پھیلی ہے


خیال و خواب کے منظر سجانا چاہتا ہے
یہ دل کا اِک تازہ بہانہ چاہتا ہے


روشنیوں کے سارے منظر جھُوٹے لگتے ہیں
لیکن اُس کی آنکھ کے آنسو سچے لگتے ہیں


محّبت میں کہیں کم ہو گیا ہے
مِرا تجھ پر یقیں کم ہو گیا ہے


اِک چادر سخن ہی بچا کر نکل چلیں
رستہ مِلے تو شہر سے باہر نکل چلیں


مرقدِ عشق پہ اَب اور نہ رویا جائے
رات کا پچھلا پہر ہے چلو سویا جائے


ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبحِ وصال میں رکھے
اچھّا مولا!تیری مرضی تُو جس حَال میں رکھے


خرچ اِتنا بھی نہ کر مُجھ کو زمانے کیلئے
کُچھ تو رہ جاؤں میں کام اپنے بھی آنے کیلئے



عُمر بھر حالتِ سفر میں رہے



راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے

عُمر بھر حالتِ سفر میں رہے

لفظ سارے چراغ بن جائیں

وصف ایسا مرے ہُنر میں رہے

زہر سارا شجر میں آ جائے

اے خُدا زندگی ثمر میں رہے

اس لیے گردشوں کو پالا ہے

کوئی تو حلقۂ اثر میں رہے

اِک زمانہ گھروں میں تھا آباد

بے گھر ہم تری نظروں میں رہے

میں اُس سے بات کرنا چاہتی ہوں



ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
بہت نا مہرباں یہ آسماں ہے

دِلوں پر برف گرتی جا رہی ہے
بدن کا تجزیہ بھی رائیگاں ہے

میں اُس سے بات کرنا چاہتی ہوں
بتاؤ تو سہی وہ اَب کہاں ہے

اَنا کی ریت شامل ہو گئی ہے
ہَوا سے گفتگو اب رائیگاں ہے

مجھے اس کا یقیں ہرگز نہیں تھا
مِری جانب سے اِتنا بدگماں ہے

محبّت اِک ندامت بن گئی ہے
ہماری مختصر سی داستاں ہے

ایک شعر



حقیقتوں کا تصّور محال لگتا ہے
کسی کی یاد میں رہنا کمال لگتا ہے

ترے لمس کی یہ شگفتگی



کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی

تری بات بات کی روشنی

مِرے حرف حرف میں بھر سکے

ترے لمس کی یہ شگفتگی

مرے جسم و جاں میں اُتر سکے

کوئی چاندنی کسِی گہرے رنگ کے راز کی

مرے راستوں میں بکھر سکے

تری گفتگو سے بناؤں میں

کوئی داستاں کوئی کہکشاں

ہوں محبتوں کی تمازتیں بھی کمال طرح سے مہرباں

ترے بازوؤں کی بہار میں

کبھی جھُولتے ہُوئے گاؤں میں

تری جستجو کے چراغ کو سر شام دِل میں جلاؤں

اِسی جھلملاتی سی شام میں

لِکھوں نظم جو ترا رُوپ ہو

کہیں سخت جاڑوں میں ایک دم جو چمک اُٹھے

کوئی خوشگوار سی دُھوپ ہو

جو وفا کی تال کے رقص کا

کوئی جیتا جاگتا عکس ہو

کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی

کہ ہر ایک لفظ کے ہاتھ میں

ترے نام کی

ترے حروف تازہ کلام کے

کئی راز ہوں

جنھیں مُنکشف بھی کروں اگر

تو جہان شعر کے باب میں

مِرے دل میں رکھی کتاب میں

ترے چشم و لب بھی چمک اٹھیں

مجھے روشنی کی فضاؤں میں کہیں گھیر لیں

کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی

جو مُجھ سے منسلک ہُوئیں کہانیاں کُچھ اور تھیں



بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
مگر جو دل میں بس رہا ہے مہربان اور ہے

جو مُجھ سے منسلک ہُوئیں کہانیاں کُچھ اور تھیں
جو دِل کو پیش آئی ہے وہ داستان اور ہے

یہ مرحلہ تو سہل تھا محبتوں میں وصل کا
ابھی تمہیں خبر نہیں کہ امتحان اور ہے

وہ دن کدھر گئے مِرے وہ رات کیا ہوئی مِری
یہ سرزمین نہیں ہے وہ یہ آسمان اور ہے

وہ جس کو دیکھتے ہو تم ضرورتوں کی بات ہے
جو شاعری میں ہے کہیں وہ خُوش بیان اور ہے

جو سائے کی طرح سے ہے وہ سایہ دار بھی تو ہے
مگر ہمیں ملا ہے جو وہ سائبان اور ہے

یہ گئے دنوں کا ملال ہے



مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
کسی گہری چال کے اہتمام کا سلسلہ ہی فضول ہے
کہ شکست یوں بھی قبول ہے
کبھی حوصلے جو مثال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے حرف حرف کے جسم پر
جو معانی کے پر و بال تھے وہ نہیں رہے
مِری شاعری کے جہان کو
کبھی تتلیوں، کبھی جگنوؤں سے سجائے پھرتے
خیال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے دشمنوں سے کہو کوئی
وہ جو شام شہر وصال میں
کوئی روشنی سی لیے ہوئے کسی لب پہ جتنے سوال تھے
وہ نہیں رہے
جو وفا کے باب میں وحشتوں کے کمال تھے،وہ نہیں رہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
وہ کبھی جو عہدِ نشاط میں
مُجھے خود پہ اِتنا غرور تھا کہیں کھو گیا
وہ جو فاتحانہ خُمار میں
مِرے سارے خواب نہال تھے
وہ نہیں رہے
کبھی دشت لشکر شام میں
مِرے سُرخ رد مہ و سال تھے، وہ نہیں رہے
کہ بس اب تو دل کی زباں پر
فقط ایک قصّۂ حال ہے—– جو
نڈھال ہے
جو گئے دنوں کا ملال ہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی

جیسے کوئی وصل کی رات کا قصہ تھا



لفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا
جیسے کوئی وصل کی رات کا قصہ تھا

بستی کے اس پار کہیں پر رات ڈھلے
لمبی چیخ کے بعد کوئی سناٹا تھا

جس کو اپنا گھر سمجھے تھے وہ تو محض
دیواریں تھیں اور ان میں دروازہ تھا

ہم نے اسے بھی لفظوں میں زنجیر کیا
بادل جیسا جو آوارہ پھرتا تھا

منزل کو سر کرنے والے لوگوں نے
رستوں کا بھی ہر اندیشہ دیکھا تھا

کیسے دن ہیں اس کا چہرہ دیکھ کے ہم
سوچ رہے ہیں پہلے کہاں پہ دیکھا تھا

ہم تمہاری آنکھوں سے شب کو جگمگائیں گے



اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے
تیرے چاہنے والے شور کیا مچائیں گے

صُبح کی ہَوا تجھ کو وہ ملے تو کہہ دینا
شام کی منڈیروں پر ہم دیئے جلائیں گے

ہم نے کب ستاروں سے روشنی کی خواہش کی
ہم تمہاری آنکھوں سے شب کو جگمگائیں گے

تُجھ کو کیا خبر جاناں ہم اُداس لوگوں پر
شام کے سبھی منظر اُنگلیاں اٹھائیں گے

ہم تری محبت کے جُگنوؤں کی آمد پر
تِتلیوں کے رنگوں سے راستے سجائیں گے

بے نام اُلجھن



یہ کیا بے نام اُلجھن ہے
نجانے آگہی اور خواب کے مابین کیسا مسئلہ ہے
کہ ہر تخلیق سے پہلے
عجب اِک خوف دل کو گھیر لیتا ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
میں اپنی آخری تحریر لکھنے جا رہی ہوں
سخن کی شب کے ماتھے پر
وہ میرے نام کے جتنے ستارے تھے
وفا کے اِستعارے تھے
سب اپنی عُمر پُوری کر چکے ہیں
یہی دھڑ کا سا رہتا ہے
کہ جتنے شعر لکھے تھے
جنھیں میں
اپنے ہونے کی گواہی کی طرح محسوس کرتی تھی
یہ اب لکّھے نہ جائیں گے
یہ اب سوچے نہ جائیں گے
مری نظمیں
جواب تک آرزوؤں کا سُنہرا عکس بن کر جھلملاتی تھیں
محّبت کی زمینوں پر اُترتے
ہجر کے اور وصل کے سب موسموں کی بات کرتی تھیں
انھیں تحریر کرنے کا ہُنر بھی بھُول جاؤں گی
گُماں یہ بے ثباتی کا
یقیں بن بن کے ہر لمحہ
بڑی شدت سے میرے ذہن کا دامن ہلاتا ہے
یہی باور کراتا ہے
کہ حرف و لفظ کا جتنا اثاثہ تھا
فنا کی سرحدوں پر ہے
سخن سّچائی کا سارا تفاخر ٹوٹنے کو ہے
محّبت رُوٹھنے کو ہے
یہ کیا بے نام اُلجھن ہے
کہ ہر تخلیق سے پہلے
عجب اِک خوف دِل کو گھیر لیتا ہے
مُجھے محسوس ہوتا ہے
میں اپنی آخری تحریر لکھنے جا رہی ہوں

پھر وُہی شام ہے وُہی ہم ہیں



میری آنکھوں کو سُوجھتا ہی نہیں
یا مقدّر میں راستہ ہی نہیں

وہ بھرے شہر میں کِسی سے بھی
میرے بارے میں پُوچھتا ہی نہیں

پھر وُہی شام ہے وُہی ہم ہیں
ہاں مگر دِل میں حوصلہ ہی نہیں

ہم چلے اُس کی بزم سے اُٹھ کر
اور وہ ہے کہ روکتا ہی نہیں

دل جو اِک دوست تھا مگر وہ بھی
چُپ کا پتھّر ہے بولتا ہی نہیں

مَیں تو اُس کی تلاش میں گُم ہوں
وہ کبھی مُجھ کو ڈھونڈتا ہی نہیں


ایک شعر



میں تو ایک قدم چل کر ہی رُوح تلک تھک جاتی ہوں

سوچتی ہوں تم اپنے آپ سے اِتنا کیسے بھاگتے ہو

تُم سے کُچھ نہیں کہنا


ہم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ہر خواہش
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے
بہہ جائے
چاہے اب مکینوں پر
گھر کی ساری دیواریں چھت سمیت گِر جائیں
اور بے مقّدر ہم
اس بدن کے ملبے میں خُود ہی کیوں نہ دَب جائیں
تم سے کُچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی ، کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر
نیند والی آنکھوں پر
نرم خُو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
گھِر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اِس طرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں، کب عذاب ملِتے ہیں
اب تو اِن عذابوں سے بچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں!
جس طرح تمھیں سچ کے لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں
ہم نے سوچ رکھا تُم سے کُچھ نہیں کہنا


بشارت



سُنو!
جب خُوشبوئیں اعلان کرتی ہیں
کسی کے لوٹ آنے کا
تو پھر لفظوں میں کیسے لکھ سکیں گے
اس کی آمد کی کہانی کو
وفا کی حکمرانی کو
سُنو، تم بھی ذرا دیکھو
محّبت کی دُعائیں مانگتی شب نے
نئے اِک سُرخ رو دن کے سُہانے خواب
دیکھے ہیں
یہ کیسا خُوشنما احساس ہے
آئندہ برسوں میں
ہر اِک موسم ، ہر اک دن کی دھنک
کرنوں کو
ہم اِک ساتھ برتیں گے
سُنو! یہ خُوشبوئیں اعلان کرتی ہیں

کھیل جو بھی تھا جا ناں اب حساب کیا کرنا



عُمر رائیگاں کر دی تب یہ بات مانی ہے
موت اور محّبت کی ایک ہی کہانی ہے

کھیل جو بھی تھا جا ناں اب حساب کیا کرنا
جیت جس کسی کی ہو ہم نے بار مانی ہے

وصل پر بھی نادم تھے ہجر پر بھی شرمندہ
وہ بھی رائیگانی تھی یہ بھی رائیگانی ہے

یہ مِرا ہُنر تیری خوشبوؤں سے وابستہ
میرے سارے لفظوں پر تیری حکمرانی ہے

جانے کون شہزادہ کب چُرا کے لے جائے
وہ جو اپنے آنگن میں خُوشبوؤں کی رانی ہے

ایک شعر



وہ حرف حرف مِری رُوح مَیں اُترتا گیا

جو بات کرتا گیا اور اُداس کرتا گیا

محّبت کم نہیں ہو گی



مِری آنکھیں سلامت ہیں

مِرا دل میرے سینے میں دھڑکتا ہے

مُجھے محسوس ہوتا ہے

محّبت کم نہیں ہو گی

محّبت ایک وعدہ ہے

جو سچاّئی کی اُن دیکھی کسِی ساعت میں ہوتا ہے

کِسی راحت میں ہوتا ہے

یہ وعدہ شاعری بن کر مرے جذبوں میں دُھلتا ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے

محّبت کم نہیں ہو گی

محّبت ایک موسم ہے

کہ جس میں خواب اُگتے ہیں تو خوابوں کی ہری

شاخیں

گُلابوں کو بُلاتی ہیں

انھیں خُوشبو بناتی ہیں

یہ خُوشبو جب ہماری کھڑکیوں پر دستکیں دے کر

گُزرتی ہے

مُجھے محسوس ہوتا ہے

محّبت کم نہیں ہو گی

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے



پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
وہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے

محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیں
کہ اِس میں جیت بھی ہو گی خسارا ہی نہیں ہے

کبھی وہ جگنوؤں کو مُٹھیوں میں قید کرنا
مگر اب تو ہمیں یہ سب گوارا ہی نہیں ہے

اب اس کے خال و خد کا ذکر کیا کرتے کِسی سے
کہ ہم پر آج تک وہ آشکارا ہی نہیں ہے

یہ خواہش تھی کہ ہم کُچھ دُور تک تو ساتھ چلتے
ستاروں کا مگر کوئی اِشارا ہی نہیں ہے

بہت سے زخم کھانے دل نے آخر طے کیا ہے
تمھارے شہر میں اپنا گزارا ہی نہیں ہے

ہم ملے محّبت کی پہلی برف باری میں



لُطف سو گواری میں
غم کی آبیاری میں

ہم ملے محّبت کی
پہلی برف باری میں

گھر سے کون نکلے گا
اِتنی سنگ باری میں

اِک سکون شامل ہے
دل کی بے قراری میں

عُمر ساری گُزری ہے
کِتنی سو گواری میں

اِک فریب لگتا ہے
اس کی اِنکساری میں

اس کہانی کو ملے انجام کیا



کیا بتائیں کیوں دئیے د مساز نے
زخمِ تنہائی مِرے ہمراز نے

اس کہانی کو ملے انجام کیا
جس کو رُسوا کر دیا آغاز نے

شہر کو کچھ اور عنواں دے دئیے
میری لغزش اور ترے انداز نے

کِس یقیں اور کِس تسلسل سے دئے
دل کو دھو کے اس محّبت باز نے

کتنا سُندر کِتنا کومل کر دیا
میرے گیتوں کو تری آواز نے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets