وہ تیرگی تھی لفظوں کو راستہ نہ ملا
کوئی چراغ قبیلہ مرے ہُنر کے لیے
کوئی چراغ قبیلہ مرے ہُنر کے لیے
دل پر ہوتے جبر ابھی دیکھے ہی نہیں ہیں
تم نے اہلِ صبر ابھی دیکھے ہی نہیں ہیں
تم نے اہلِ صبر ابھی دیکھے ہی نہیں ہیں
سوچ رہے ہیں صبح تلک اِک بار بھی آنکھ نہیں جھپکی
اب تو تیرے ہجر میں ہم نے پہلی رات گزاری ہے
اب تو تیرے ہجر میں ہم نے پہلی رات گزاری ہے
قریب تھا تو کسے فُرصت محبّت تھی
ہُوا ہے دُور تو اُس کی وفائیں یاد آئیں
ہُوا ہے دُور تو اُس کی وفائیں یاد آئیں
آج دیکھو زمیں کے سینے پر
اُس کے چہرے کی دھوپ پھیلی ہے
اُس کے چہرے کی دھوپ پھیلی ہے
خیال و خواب کے منظر سجانا چاہتا ہے
یہ دل کا اِک تازہ بہانہ چاہتا ہے
یہ دل کا اِک تازہ بہانہ چاہتا ہے
روشنیوں کے سارے منظر جھُوٹے لگتے ہیں
لیکن اُس کی آنکھ کے آنسو سچے لگتے ہیں
لیکن اُس کی آنکھ کے آنسو سچے لگتے ہیں
محّبت میں کہیں کم ہو گیا ہے
مِرا تجھ پر یقیں کم ہو گیا ہے
مِرا تجھ پر یقیں کم ہو گیا ہے
اِک چادر سخن ہی بچا کر نکل چلیں
رستہ مِلے تو شہر سے باہر نکل چلیں
رستہ مِلے تو شہر سے باہر نکل چلیں
مرقدِ عشق پہ اَب اور نہ رویا جائے
رات کا پچھلا پہر ہے چلو سویا جائے
رات کا پچھلا پہر ہے چلو سویا جائے
ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبحِ وصال میں رکھے
اچھّا مولا!تیری مرضی تُو جس حَال میں رکھے
اچھّا مولا!تیری مرضی تُو جس حَال میں رکھے
خرچ اِتنا بھی نہ کر مُجھ کو زمانے کیلئے
کُچھ تو رہ جاؤں میں کام اپنے بھی آنے کیلئے
کُچھ تو رہ جاؤں میں کام اپنے بھی آنے کیلئے