Showing posts with label پروین شاکر. Show all posts
Showing posts with label پروین شاکر. Show all posts

Thursday, 31 March 2016

Mausom e gham



Sab ruttain aa kay chali jaati hain
Mausom e gham bhi to hijrat karta

Wednesday, 23 September 2015

بارش میں کیا تنہا بھیگنا لڑکی



بارش میں کیا تنہا بھیگنا لڑکی

اسے بلا، جس کی چاہت میں


تیرا تن من بھیگا ہے


پیار کی بارش سے بڑھ کر کیا بارش ہوگی؟

 
اور جب اس بارش کے بعد


ہجر کی پہلی دھوپ کھلے گی


تجھ پر رنگ کے اسم کھلیں گے

Thursday, 4 September 2014

گئے دنوں میں ہم بھی یونہی ہنستے تھے




لڑکی سرکوجھُکائے بیٹھی
کافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہے
لڑکا،حیرت اور محبت کی شدت سے پاگل
لانبی پلکوں کے لرزیدہ سایوں کو
اپنی آنکھ سے چُوم رہا ہے
دونوں میری نظر بچا کر
اک دُوجے کو دیکھتے ہیں ہنس دیتے ہیں !
میں دونوں سے دُور
دریچے کے نزدیک
اپنی ہتھیلی پر اپنا چہرہ رکھے
کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی ہوں
سوچ رہی ہوں
گئے دنوں میں ہم بھی یونہی ہنستے تھے

Thursday, 21 November 2013

ﺷﺎﻡ ﮈﮬﻠﮯ ﻧﻤﻨﺎﮎ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ


ﺷﺎﻡ ﮈﮬﻠﮯ ﻧﻤﻨﺎﮎ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ

ﺑﺮﻑ ﺳﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ


ﮐﺲ ﮐﺎ ﺭﺳﺘﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ


ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻮﮞ


ﮐﮩﮧ ﺩﮮ ﮔﯽ ﻭﮦ ﻧﯿﻦ ﭼﺮﺍ ﮐﺮ


ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﺷﮏ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ


ﮐﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﻻﮈﮬﻮﻧﮉ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ


Thursday, 7 November 2013

ایک خط

Aik Khat by Parveen Shakir

موسم غم بھی تو ہجرت کرتا

Ek Na Ek Roz To Rukhsat Karta by Parveen Shakir

خُدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں


وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا 
براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا 

وہ شہر چھوڑ کے جانا تو کب سے چاہتا تھا 
یہ نوکری کا بُلاوا تو اِک بہانہ ہوا 

خُدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں 
یہ آنکھیں جن کو کبھی دُکھ کا حوصلہ نہ ہُوا 

کنارِ صحن چمن سبز بیل کے نیچے 
وہ روز صبح کا مِلنا تو اَب فسانہ ہُوا 

میں سوچتی ہوں کہ مُجھ میں کمی تھی کِس شے کی 
کہ سب کا ہوکے رہا وہ، بس اِک مرا نہ ہُوا 

کِسے بُلاتی ہیں آنگن کی چمپئی شامیں 
کہ وہ اَب اپنے نئے گھر میں بھی پرانا ہُوا 

دھنک کے رنگ میں ساری تو رنگ لی میں نے 
اب یہ دُکھ ، کہ پہن کرکِسے دِکھانا ہُوا 

میں اپنے کانوں میں بیلے کے پُھول کیوں پہنوں 
زبانِ رنگ سے کِس کو مُجھے بُلانا ہُوا

اندیشہ ہائے دُور دراز



اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی ہے 
ہَوا بھی‘دھیمے سُروں میں،کوئی اُداس گیت 
مرے قریب سے گُزرے تو گنگناتی ہے 
مری طرح سے شفق بھی کسی کی سوچ میں ہے 
میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں 
مری نگاہ دھندلکوں میں اُلجھی جاتی ہے 
نہ رنگ ہے،نہ کرن ہے،نہ روشنی، نہ چراغ 
نہ تیراذکر، نہ تیرا پتہ، نہ تیرا سُراغ 
ہَوا سے ،خشک کتابوں کے اُڑرہے ہیں ورق 
مگرمیں بُھول چُکی ہُوں تمام ان کے سبق 
اُبھر رہا ہے تخیلُ میں بس ترا چہرہ 
میں اپنی پلکیں جھپکتی ہوں اُس کو دیکھتی ہوں 
میں اس کو دیکھتی ہوں اور ڈر کے سوچتی ہوں 
کہ کل یہ چہرہ کسی اور ہاتھ میں پہنچے 
تو میرے ہاتھوں کی لکھی ہُوئی کوئی تحریر 
جو اِن خطوط میں روشن ہے آگ کی مانند 
نہ ان ذہین نگاہوں کی زد میں آجائے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets