Showing posts with label عبید اللہ علیم. Show all posts
Showing posts with label عبید اللہ علیم. Show all posts

Monday, 25 March 2013

کب تک آخر ہم سے اپنے دل کا بھید چھپاؤ گی



کب تک آخر ہم سے اپنے دل کا بھید چھپاؤ گی
تمہیں رہ پر اک دن آنا ہے، تم رہ پر آ ہی جاؤ گی
کیوں چہرہ اُترا اُترا ہے؟ کیوں بُجھی بُجھی سی ہیں آنکھیں؟
سُنو! عشق تو ایک حقیقت ہے، اسے کب تک تم جُھٹلاؤ گی
سب رنگ تمہارے جانتا ہوں، میں خوب تمہیں پہچانتا ہوں
کہو کب تک پاس نہ آؤ گی؟ کہو کب تک آنکھ چُراؤ گی؟
بھلا کب تک ہم اک دوسرے کو چُھپ چُھپ کر دیکھیں اور ترسیں؟
ہمیں یار ستائیں گے کب تک ، تم سکھیوں میں شرماؤ گی!
یہ سرو تنی، محشر بدَنی، گُل پیرہنی، گوہر سُخَنی
سب حسن تمہارا بے قیمت، گر ہم سے داد نہ پاؤ گی
جب کھیل ہی کھیلا شعلوں کا، پھر آؤ کوئی تدبیر کریں
ہم زخم کہاں تک کھائیں گے؟ تم غم کب تک اپناؤ گی
چلو آؤ بھی،  ہم تم مل بیٹھیں،  اور نئے سفر کا عہد کریں
ہم کب تک عمر گنوائیں گے،  تم کب تک بات بڑھاؤ گی؟
میں شاعر ہوں، مرا شعر مجھے کسی تاج محل سے کم تو نہیں
میں شاہ جہانِ شعر، تو تم،  ممتاز محل کہلاؤ گی
نہیں پاس کیا گر عشق کا کچھ، اور ڈریں نہ ظالم دنیا سے
شاعر پہ بھی الزام آئیں گے، تم بھی رسوا ہو جاؤ گی!۔

Saturday, 23 February 2013

جب آنکھیں باغی ہو جائیں اور یاد میں میری بھر آئیں


جب سینہ غم سے بوجھل ہو اور یاد کسی کی آتی ہو
تب کمرے میں بند ہو جانا اور چپکے چپکے رو لینا

جب آنکھیں باغی ہو جائیں اور یاد میں میری بھر آئیں
پھر خود کو دھوکا مت دینا اور چپکے چپکے رو لینا

جب پلکیں کرب سے موندی ہوں اور سب سمجھیں تم سوتے ہو
تب منہ پر تکیہ رکھ لینا اور چپکے چپکے رو لینا

یہ دنیا ظالم دنیا ہے، یہ بات بہت پھیلائے گی
تم سامنے سب کے چپ رہنا اور چپکے چپکے رو لینا

جب بارش چہرا دھو ڈالے اور اشک بھی بوندیں لگتے ہوں
وہ لمحہ ہرگز مت کھونا اور چپکے چپکے رو لینا
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets