😊 I love poetry and specially Urdu poetry. I am here to share my favourite poetry with you. I hope you like it and please don't forget to show your love by liking, commenting and following the blog. 😊
Showing posts with label عدیم ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label عدیم ہاشمی. Show all posts
Sunday, 27 September 2015
Sunday, 20 September 2015
کہو، کیا داستاں لائے ہو دل والوں کی بستی سے
غزل کو پھر سجا کے صُورتِ محبوب لایا ہوں
سُنو اہلِ سُخن! میں پھر نیا اسلُوب لایا ہوں
سُنو اہلِ سُخن! میں پھر نیا اسلُوب لایا ہوں
کہو، دستِ محبت سے ہر اِک در پر یہ دستک کیوں
کہا ، سب کے لیے میں پیار کا مکتُوب لایا ہوں
کہا ، سب کے لیے میں پیار کا مکتُوب لایا ہوں
کہو، کیا داستاں لائے ہو دل والوں کی بستی سے
کہا، اِک واقعہ میں آپ سے منسُوب لایا ہوں
کہا، اِک واقعہ میں آپ سے منسُوب لایا ہوں
کہو ، یہ جسم کِس کا، جاں کِس کی، رُوح کِس کی ہے
کہا، تیرے لیے سب کچھ مرے محبُوب لایا ہوں
کہا، تیرے لیے سب کچھ مرے محبُوب لایا ہوں
کہو، کیسے مٹا ڈالوں انا، میں التجا کر کے
کہا ، میں بھی تو لب پر عرضِ نامطلُوب لایا ہوں
کہا ، میں بھی تو لب پر عرضِ نامطلُوب لایا ہوں
کہو، سارا جہاں کیسے تمہارے گھر کے باہر ہے
کہا، سب جس کے دیوانے ہیں، وہ محبُوب لایا ہوں
کہا، سب جس کے دیوانے ہیں، وہ محبُوب لایا ہوں
کہو، پنہاں کِیا ہے کیا دلِ پردہ نشیں ہم سے
کہا، وصلِ نہاں کی خواہشِ محجُوب لایا ہوں
کہو،ٹُوٹے ہوئے شیشے پہ شبنم کی نمی کیسی
کہا، قلبِ شکستہ، دیدہٴ مرطُوب لایا ہوں
کہا، قلبِ شکستہ، دیدہٴ مرطُوب لایا ہوں
کہو، غم لائے ہو کتنا محبت میں بچھڑنے کا
کہا، بس یہ سمجھ لو گریہٴ یعقُوب لایا ہوں
کہا، بس یہ سمجھ لو گریہٴ یعقُوب لایا ہوں
کہا ، تکلیف لایا ہوں، نہیں ہے اِنتہا جس کی
کہا ، میں بھی وہیں سے دامنِ ایوب لایا ہوں
کہا ، میں بھی وہیں سے دامنِ ایوب لایا ہوں
کہو، غواص کیا لائے ہو بحر ِدل کے غوطے سے
کہا، لایا ہوں جو کچھ بھی، بہت ہی خُوب لایا ہوں
کہا، لایا ہوں جو کچھ بھی، بہت ہی خُوب لایا ہوں
کہا، کیا لے کے آئے ہو جہانِ بیوفائی سے
کہا، اِک چشم حیراں، اِک دلِ مضرُوب لایا ہوں
کہا، اِک چشم حیراں، اِک دلِ مضرُوب لایا ہوں
کہو، تحفہ، عدیم اشعار میں کیا لے کے آئے ہو
کہا، شعروں کی سُولی پر دلِ مصلُوب لایا ہوں
کہا، شعروں کی سُولی پر دلِ مصلُوب لایا ہوں
Thursday, 14 May 2015
Friday, 17 April 2015
بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
ہر اک جانب تیرا غم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
ہمارا دل کسی گہری جدائی کے بھنور میں ہے
ہماری آنکھ بھی نم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
مرے ہم راہ اگرچہ دور تک لوگوں کی رونق ہے
مگر جیسے کوئی کم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
تمہیں تو علم ہے میرے دل وحشی کے زخموں کو
تمہارا وصل مرہم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
اندھیری رات کی گہری خموشی اور تنہا دل
دیئے کی لو بھی مدھم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
تمہارے روٹھ جانے سے ہم کو ایسا لگتا ہے
مقدر ہم سے برہم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
ہواؤں اور پھولوں کی نئی خوشبو بتاتی ہے
ترے آنے کا موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
Thursday, 19 September 2013
جب تو قبول ہے،تیرا سب کچھ قبول ہے
پتھر ہے تیرے ہاتھ میں یا کوئی پھول ہے
جب تو قبول ہے،تیرا سب کچھ قبول ہے
پھر تونے دے دیا ہے نیا فاصلہ مجھے
سر پر ابھی تو پچھلی مسافت کی دھول ہے
تو دل پہ بوجھ لے کے ملاقات کو نہ آ
ملنا ہے اس طرح تو بچھڑنا قبول ہے
تو یار ہے تو اتنی کڑی گفتگو نہ کر
تیرا اصول ہے تو میرا بھی اصول ہے
لفظوں کی آبرو کو گنواؤ نہ یوں عدیم
جو مانتا نہیں ،اسے کہنا فضول ہے
آکے ہنسی لبوں پہ بکھر بھی گئی عدیم
جانے زیاں ہے یہ کہ خوشی کا حصول ہے
Wednesday, 7 August 2013
یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے
پردیس میں غم ناک خبر آتی ہے جیسے
آتی ہے تیرے بعد خوشی بھی تو کچھ ایسے
ویران درختوں پہ سحر آتی ہے جیسے
لگتاہے ابھی دل نے تعلق نہیں توڑا
یہ آنکھ تیرے نام پہ بھر آتی ہے جیسے
خود آپ ہوا روز ا ٹھاتی ہے دعائیں
اور آپ کہیں دفن بھی کر آتی ہے جیسے
اک قافلۂ ہجر گذرتا ہے نظر سے
اور روح تلک گرد سفر آتی ہے جیسے
جلتا ہے کوئی شہر کبھی دامن دل میں
سانسوں میں کبھی راکھ اتر آتی ہے جیسے
Tuesday, 7 May 2013
جیسی حسین آنکھ ھے ویسا حسین خواب ھے
کیسی بھلا یہ برہمی یہ پیچ و تاب ھے
جیسا ترا سوال ھے ویسا مرا جواب ھے
تو ھے فلک تو میں زمیں یہ تو نہیں کہ میں نہیں
ذراہ خاک میں بھی ہوں تو اگر آفتاب ھے
گھر سے چلی ھے خوبرو ایک ہجوم چار سو
رنگ ھے یا سزا کوئی حسن ھے یا عذاب ھے
ملتے رہیں تو زندگی گنتی کی چار ساعتیں
بچھڑیں تو ایک ایک پل عرصہ بے حساب ھے
عمر دراز ہجر سے وصل کا ایک پل بہت
اتنی گھڑی تو مل مجھے جتنی گھڑی حباب ھے
پھول وہی چمن وہی سارا ہی بانکپن وہی
ایک ہی شاخ ہر کوئی کانٹا کوئی گلاب ھے
ایک سا ھے مقابلہ دونوں میں کوئی کم نہیں
جیسی حسین آنکھ ھے ویسا حسین خواب ھے
دنیا میں کون کون ھے یہ تو ذرا بتایئے
سارے جہاں کے لب پہ ھے دنیا بڑی خراب ھے
شاخ گلاب پر عدیم لگتے ھیں دل کھلے ہوئے
صحن بدن میں دل عدیم لگتا ھے اک گلاب ھے
اشکوں کی اک طرف عدیم ڈوبی ہوئی ھے چشم تر
اشکوں کی دوسری طرف ہر کوئی زیر آب ھے
Monday, 1 April 2013
وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا
اس کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا
گھورتا تھا میں خلا میں تو سجی تھی محفلیں
میرا آنکھوں کا جھپکنا مجھ کو تنہا کر گیا
ہر طرف اڑنے لگا تاریک سایوں کا غبار
شام کا جھونگا، چمکتا شہر میلا کر گیا
چاٹ لی کرنوں نے میرے جسم کی ساری مٹھاس
میں سمندر تھا، وہ سورج مجھ کو صحرا کر گیا
ایک لمحے میں بھرے بازار سونے ہو گئے
ایک چہرہ سب پرانے زخم تازہ کر گیا
میں اسی کے رابطے میں جس طرح ملبوس تھا
یوں وہ دامن کھینچ کر مجھ کو برہنہ کر گیا
رات بھر ہم روشنی کی آس میں جاگے عدیم
اور دن آیا تو آنکھوں میں اندھیرا کر گیا
Wednesday, 26 September 2012
مری نظریں کریں کیسے ترے چہرے کا طواف ... مری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھی
زندگی پاؤں نہ دھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادھورے سے کئی کام ابھی
ابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تری یاد سرِ شام ابھی
اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
ترے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی
رات آئی ہے تو کیا، تم تو نہیں آئے ہو
مری قسمت میں کہاں لکھا ہے آرام ابھی
جان دینے میں کروں دیر، یہ ممکن ہے کہاں
مجھ تک آیا ہے مری جاں ترا پیغام ابھی
طائرِ دل کے ذرا پَر تو نکل لینے دو
اس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھی
توڑ سکتا ہے مرا دل یہ زمانہ کیسے
میرے سینے میں دھڑکتا ہے ترا نام ابھی
میرے ہاتھوں میں ہے موجود ترے ہاتھ کا لمس
دل میں برپا ہے اُسی شام کا کُہرام ابھی
میں ترا حسن سخن میں ابھی ڈھالوں کیسے
میرے اشعار بنے ہیں کہاں الہام ابھی
مری نظریں کریں کیسے ترے چہرے کا طواف
مری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھی
یاد کے ابَر سے آنکھیں مری بھیگی ہیں عدیم
اِک دھندلکا سا ہے، بھیگی تو نہیں شام ابھی
Friday, 14 September 2012
بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی
بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی
جیسے کوئی چیز چلتے وقت گھر میں رہ گئی
کون یہ چلتا ہے میرے ساتھ بے جسم و صدا
چاپ یہ کس کی میری ہر رہگزر میں رہ گئی
گونجتے رہتے ہیں تنہائی میں بھی دیوار و در
کیا صدا اس نے مجھے دی تھی کہ گھر میں رہ گئی
آ رہی ہے اب بھی دروازے سے ان ہاتھوں کی باس
جذب ہو کر جن کی ہر دستک ہی در میں رہ گئی
اور تو موسم گزر کر جا چکا وادی کے پار
بس زرا سی برف ہر سوکھے شجر میں رہ گئی
رات در یا میں پھر اک شعلہ سا چکراتا رہا
پھر کوئی جلتی ہوئی کشتی بھنور میں رہ گئی
رات بھر ہوتا رہا ہے کن خزانوں کا نزول
موتیوں کی سی جھلک ہر برگِ تر میں رہ گئی
لوٹ کر آئے نہ کیوں جاتے ہوئے لمحے عدؔیم
کیا کمی میری صدائے بے اثر میں رہ گئی
دل کھنچا رہتا ہے کیوں اس شہر کی جانب عدیم
جانے کیا شے اس کی گلیوں کے سفر میں رہ گئی
Thursday, 6 September 2012
فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا
فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
خود چڑھا رکھے تھے تن پر اجنبیت کے غلاف
ورنہ کب ایک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سُو
میں اسے محسوس کر سکتا تھا چُھو سکتا نہ تھا
رات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہی
جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
عکس تو موجود تھا پر عکس تنہائی کا تھا
آئینہ تو تھا مگر اس میں تیرا چہرا نہ تھا
آج اس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لئے
آج میں رویا تو میرا ساتھ وہ رویا نہ تھا
یہ سبھی ویرانیاں اس کے جُدا ہونے سے تھیں
آنکھ دُھندلائی ہوئی تھی شہر دُھندلایا نہ تھا
سینکڑوں طُوفان لفظوں کے دبے تھے زیرِ لب
ایک پتھر تھا خموشی کا جو ہلتا نہ تھا
یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیم
بُھول جانے کی سوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا
Tuesday, 28 August 2012
یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے
یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے
پردیس میں غم ناک خبر آتی ہے جیسے
آتی ہے تیرے بعد خوشی بھی تو کچھ ایسے
ویران درختوں پہ سحر آتی ہے جیسے
لگتاہے ابھی دل نے تعلق نہیں توڑا
یہ آنکھ تیرے نام پہ بھر آتی ہے جیسے
خود آپ ہوا روز ا ٹھاتی ہے دعائیں
اور آپ کہیں دفن بھی کر آتی ہے جیسے
اک قافلۂ ہجر گذرتا ہے نظر سے
اور روح تلک گرد سفر آتی ہے جیسے
جلتا ہے کوئی شہر کبھی دامن دل میں
سانسوں میں کبھی راکھ اتر آتی ہے جیسے
اب بھی نوحے ہیں جدائی کے وہی ماتم ہے
جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے
پھر کسی اور کی کچھ بات نہ مانی دل نے
ایک وحشت سے کسی دوسری وحشت کی طرف
اب کے پھر کی ہے کوئی نقل مکانی دل نے
اب بھی نوحے ہیں جدائی کے وہی ماتم ہے
ترک کب کی ہے کوئی رسم پرانی دل نے
بات بے بات جو بھر آتی ہیں آنکھیں اپنی
یاد رکھی ہے کسی دکھ کی کہانی دل نے
ڈوبتی شام کے ویران سمے کی صورت
تھام رکھی ہے تیری ایک نشانی دل نے
Subscribe to:
Posts (Atom)
!-end>!-currency>


