Showing posts with label عدیم ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label عدیم ہاشمی. Show all posts

Sunday, 20 September 2015

کہو، کیا داستاں لائے ہو دل والوں کی بستی سے


غزل کو پھر سجا کے صُورتِ محبوب لایا ہوں
سُنو اہلِ سُخن! میں پھر نیا اسلُوب لایا ہوں

کہو، دستِ محبت سے ہر اِک در پر یہ دستک کیوں
کہا ، سب کے لیے میں پیار کا مکتُوب لایا ہوں

کہو، کیا داستاں لائے ہو دل والوں کی بستی سے
کہا، اِک واقعہ میں آپ سے منسُوب لایا ہوں

کہو ، یہ جسم کِس کا، جاں کِس کی، رُوح کِس کی ہے
کہا، تیرے لیے سب کچھ مرے محبُوب لایا ہوں

کہو، کیسے مٹا ڈالوں انا، میں التجا کر کے
کہا ، میں بھی تو لب پر عرضِ نامطلُوب لایا ہوں

کہو، سارا جہاں کیسے تمہارے گھر کے باہر ہے
کہا، سب جس کے دیوانے ہیں، وہ محبُوب لایا ہوں

کہو، پنہاں کِیا ہے کیا دلِ پردہ نشیں ہم سے
کہا، وصلِ نہاں کی خواہشِ محجُوب لایا ہوں

کہو،ٹُوٹے ہوئے شیشے پہ شبنم کی نمی کیسی
کہا، قلبِ شکستہ، دیدہٴ مرطُوب لایا ہوں

کہو، غم لائے ہو کتنا محبت میں بچھڑنے کا
کہا، بس یہ سمجھ لو گریہٴ یعقُوب لایا ہوں

کہا ، تکلیف لایا ہوں، نہیں ہے اِنتہا جس کی
کہا ، میں بھی وہیں سے دامنِ ایوب لایا ہوں

کہو، غواص کیا لائے ہو بحر ِدل کے غوطے سے
کہا، لایا ہوں جو کچھ بھی، بہت ہی خُوب لایا ہوں

کہا، کیا لے کے آئے ہو جہانِ بیوفائی سے
کہا، اِک چشم حیراں، اِک دلِ مضرُوب لایا ہوں

کہو، تحفہ، عدیم اشعار میں کیا لے کے آئے ہو
کہا، شعروں کی سُولی پر دلِ مصلُوب لایا ہوں

Friday, 17 April 2015

بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

sad,sadness,sad girl,pain,cry,crying,tears

بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

ہر اک جانب تیرا غم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

ہمارا دل کسی گہری جدائی کے بھنور میں ہے

ہماری آنکھ بھی نم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

مرے ہم راہ اگرچہ دور تک لوگوں کی رونق ہے

مگر جیسے کوئی کم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

تمہیں تو علم ہے میرے دل وحشی کے زخموں کو

تمہارا وصل مرہم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

اندھیری رات کی گہری خموشی اور تنہا دل

دیئے کی لو بھی مدھم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

تمہارے روٹھ جانے سے ہم کو ایسا لگتا ہے

مقدر ہم سے برہم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

ہواؤں اور پھولوں کی نئی خوشبو بتاتی ہے

ترے آنے کا موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ

Thursday, 19 September 2013

جب تو قبول ہے،تیرا سب کچھ قبول ہے


پتھر ہے تیرے ہاتھ میں یا کوئی پھول ہے
جب تو قبول ہے،تیرا سب کچھ قبول ہے

پھر تونے دے دیا ہے نیا فاصلہ مجھے
سر پر ابھی تو پچھلی مسافت کی دھول ہے

تو دل پہ بوجھ لے کے ملاقات کو نہ آ
ملنا ہے اس طرح تو بچھڑنا قبول ہے

تو یار ہے تو اتنی کڑی گفتگو نہ کر
تیرا اصول ہے تو میرا بھی اصول ہے

لفظوں کی آبرو کو گنواؤ نہ یوں عدیم
جو مانتا نہیں ،اسے کہنا فضول ہے

آکے ہنسی لبوں پہ بکھر بھی گئی عدیم
جانے زیاں ہے یہ کہ خوشی کا حصول ہے

Wednesday, 7 August 2013

یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے


پردیس میں غم ناک خبر آتی ہے جیسے 

آتی ہے تیرے بعد خوشی بھی تو کچھ ایسے 
ویران درختوں پہ سحر آتی ہے جیسے 

لگتاہے ابھی دل نے تعلق نہیں توڑا 
یہ آنکھ تیرے نام پہ بھر آتی ہے جیسے 

خود آپ ہوا روز ا ٹھاتی ہے دعائیں 
اور آپ کہیں دفن بھی کر آتی ہے جیسے 

اک قافلۂ ہجر گذرتا ہے نظر سے 
اور روح تلک گرد سفر آتی ہے جیسے 

جلتا ہے کوئی شہر کبھی دامن دل میں 
سانسوں میں کبھی راکھ اتر آتی ہے جیسے

Tuesday, 7 May 2013

جیسی حسین آنکھ ھے ویسا حسین خواب ھے



کیسی بھلا یہ برہمی یہ پیچ و تاب ھے
جیسا ترا سوال ھے ویسا مرا جواب ھے

تو ھے فلک تو میں زمیں یہ تو نہیں کہ میں نہیں
ذراہ خاک میں بھی ہوں تو اگر آفتاب ھے

گھر سے چلی ھے خوبرو ایک ہجوم چار سو
رنگ ھے یا سزا کوئی حسن ھے یا عذاب ھے

ملتے رہیں تو زندگی گنتی کی چار ساعتیں
بچھڑیں تو ایک ایک پل عرصہ بے حساب ھے

عمر دراز ہجر سے وصل کا ایک پل بہت
اتنی گھڑی تو مل مجھے جتنی گھڑی حباب ھے

پھول وہی چمن وہی سارا ہی بانکپن وہی
ایک ہی شاخ ہر کوئی کانٹا کوئی گلاب ھے

ایک سا ھے مقابلہ دونوں میں کوئی کم نہیں
جیسی حسین آنکھ ھے ویسا حسین خواب ھے

دنیا میں کون کون ھے یہ تو ذرا بتایئے
سارے جہاں کے لب پہ ھے دنیا بڑی خراب ھے

شاخ گلاب پر عدیم لگتے ھیں دل کھلے ہوئے
صحن بدن میں دل عدیم لگتا ھے اک گلاب ھے

اشکوں کی اک طرف عدیم ڈوبی ہوئی ھے چشم تر
اشکوں کی دوسری طرف ہر کوئی زیر آب ھے

Monday, 1 April 2013

وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا


اس کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
وہ میرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا

گھورتا تھا میں خلا میں تو سجی تھی محفلیں
میرا آنکھوں کا جھپکنا مجھ کو تنہا کر گیا

ہر طرف اڑنے لگا تاریک سایوں کا غبار
شام کا جھونگا، چمکتا شہر میلا کر گیا

چاٹ لی کرنوں نے میرے جسم کی ساری مٹھاس
میں سمندر تھا، وہ سورج مجھ کو صحرا کر گیا

ایک لمحے میں بھرے بازار سونے ہو گئے
ایک چہرہ سب پرانے زخم تازہ کر گیا

میں اسی کے رابطے میں جس طرح ملبوس تھا
یوں وہ دامن کھینچ کر مجھ کو برہنہ کر گیا

رات بھر ہم روشنی کی آس میں جاگے عدیم
اور دن آیا تو آنکھوں میں اندھیرا کر گیا


Wednesday, 26 September 2012

مری نظریں کریں کیسے ترے چہرے کا طواف ... مری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھی



زندگی پاؤں نہ دھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادھورے سے کئی کام ابھی

ابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تری یاد سرِ شام ابھی

اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
ترے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی

رات آئی ہے تو کیا، تم تو نہیں آئے ہو
مری قسمت میں کہاں لکھا ہے آرام ابھی

جان دینے میں کروں دیر، یہ ممکن ہے کہاں
مجھ تک آیا ہے مری جاں ترا پیغام ابھی

طائرِ دل کے ذرا پَر تو نکل لینے دو
اس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھی

توڑ سکتا ہے مرا دل یہ زمانہ کیسے
میرے سینے میں دھڑکتا ہے ترا نام ابھی

میرے ہاتھوں میں ہے موجود ترے ہاتھ کا لمس
دل میں برپا ہے اُسی شام کا کُہرام ابھی

میں ترا حسن سخن میں ابھی ڈھالوں کیسے
میرے اشعار بنے ہیں کہاں الہام ابھی

مری نظریں کریں کیسے ترے چہرے کا طواف
مری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھی

یاد کے ابَر سے آنکھیں مری بھیگی ہیں عدیم
اِک دھندلکا سا ہے، بھیگی تو نہیں شام ابھی


 

Friday, 14 September 2012

بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی



بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی
جیسے کوئی چیز چلتے وقت گھر میں رہ گئی

کون یہ چلتا ہے میرے ساتھ بے جسم و صدا
چاپ یہ کس کی میری ہر رہگزر میں رہ گئی

گونجتے رہتے ہیں تنہائی میں بھی دیوار و در
کیا صدا اس نے مجھے دی تھی کہ گھر میں رہ گئی

آ رہی ہے اب بھی دروازے سے ان ہاتھوں کی باس
جذب ہو کر جن کی ہر دستک ہی در میں رہ گئی

اور تو موسم گزر کر جا چکا وادی کے پار
بس زرا سی برف ہر سوکھے شجر میں رہ گئی

رات در یا میں پھر اک شعلہ سا چکراتا رہا
پھر کوئی جلتی ہوئی کشتی بھنور میں رہ گئی

رات بھر ہوتا رہا ہے کن خزانوں کا نزول
موتیوں کی سی جھلک ہر برگِ تر میں رہ گئی

لوٹ کر آئے نہ کیوں جاتے ہوئے لمحے عدؔیم
کیا کمی میری صدائے بے اثر میں رہ گئی

دل کھنچا رہتا ہے کیوں اس شہر کی جانب عدیم
جانے کیا شے اس کی گلیوں کے سفر میں رہ گئی

Thursday, 6 September 2012

فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا



فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا 
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا 

خود چڑھا رکھے تھے تن پر اجنبیت کے غلاف 
ورنہ کب ایک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا 

وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سُو 
میں اسے محسوس کر سکتا تھا چُھو سکتا نہ تھا 

رات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہی 
جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا 

عکس تو موجود تھا پر عکس تنہائی کا تھا 
آئینہ تو تھا مگر اس میں تیرا چہرا نہ تھا 

آج اس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لئے 
آج میں رویا تو میرا ساتھ وہ رویا نہ تھا 

یہ سبھی ویرانیاں اس کے جُدا ہونے سے تھیں 
آنکھ دُھندلائی ہوئی تھی شہر دُھندلایا نہ تھا 

سینکڑوں طُوفان لفظوں کے دبے تھے زیرِ لب 
ایک پتھر تھا خموشی کا جو ہلتا نہ تھا 

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیم 
بُھول جانے کی سوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا 

Tuesday, 28 August 2012

یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے



یوں دل میں تیری یاد اتر آتی ہے جیسے 
پردیس میں غم ناک خبر آتی ہے جیسے 

آتی ہے تیرے بعد خوشی بھی تو کچھ ایسے 
ویران درختوں پہ سحر آتی ہے جیسے 

لگتاہے ابھی دل نے تعلق نہیں توڑا 
یہ آنکھ تیرے نام پہ بھر آتی ہے جیسے 

خود آپ ہوا روز ا ٹھاتی ہے دعائیں 
اور آپ کہیں دفن بھی کر آتی ہے جیسے 

اک قافلۂ ہجر گذرتا ہے نظر سے 
اور روح تلک گرد سفر آتی ہے جیسے 

جلتا ہے کوئی شہر کبھی دامن دل میں 
سانسوں میں کبھی راکھ اتر آتی ہے جیسے

اب بھی نوحے ہیں جدائی کے وہی ماتم ہے


جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے 
پھر کسی اور کی کچھ بات نہ مانی دل نے 

ایک وحشت سے کسی دوسری وحشت کی طرف 
اب کے پھر کی ہے کوئی نقل مکانی دل نے 

اب بھی نوحے ہیں جدائی کے وہی ماتم ہے 
ترک کب کی ہے کوئی رسم پرانی دل نے 

بات بے بات جو بھر آتی ہیں آنکھیں اپنی 
یاد رکھی ہے کسی دکھ کی کہانی دل نے 

ڈوبتی شام کے ویران سمے کی صورت 
تھام رکھی ہے تیری ایک نشانی دل نے


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets