Showing posts with label حفیظ جالندھری. Show all posts
Showing posts with label حفیظ جالندھری. Show all posts

Tuesday, 4 August 2015

پوچھتا پھرتا ہوں داناؤں سے الفت کے رموز


ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے
عشق لافانی ملا ہے، زندگی فانی مجھے

میں وہ بستی ہوں کہ یادِ رفتگاں کے بھیس میں
دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے

تھی یہی تمہید میرے ماتمی انجام کی
پھول ہنستے ہیں تو ہوتی ہے پریشانی مجھے

حسن بے پردہ ہوا جاتا ہے یا رب کیا کروں
اب تو کرنی ہی پڑی دل کی نگہبانی مجھے

باندھ کر روز ازل شیرازۂ مرگِ حیات
سونپ دی گویا دو عالم کی پریشانی مجھے

پوچھتا پھرتا ہوں داناؤں سے الفت کے رموز
یاد اب رہ رہ کے آتی ہے وہ نادانی مجھے

Sunday, 5 May 2013

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے


ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے
عشق لافانی ملا ہے زندگی فانی مجھے

میں‌وہ بستی ہوں‌کہ یادِ رفتگاں کے بھیس میں
دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے

تھی یہی تمہید میرے ماتمی انجام کی
پھول ہنستے ہیں‌ تو ہوتی ہے پریشانی مجھے

حسن بے پردہ ہوا جاتا ہے یا رب کیا کروں
اب تو کرنی ہی پڑی دل کی نگہبانی مجھے

باندھ کر روز ازل شیرازہء مرگِ حیات 
سونپ دی گویا دو عالم کی پریشانی مجھے

پوچھتا پھرتا ہوں داناؤں سے الفت کے رموز
یاد اب رہ رہ کے آتی ہے وہ نادانی مجھے


Friday, 15 March 2013

ابھی تو میں جوان ہوں


ہوا بھی خوشگوار ہے 
گُلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے 
بہار پھر بہار ہے 
کہاں چلا ہے ساقیا
اِدھر تو لوٹ اِدھر تو آ
ارے یہ دیکھتا ہے کیا
اُٹھا سُبو، سبُو اٹھا
سبو اٹھا پیالہ بھر 
پیالہ بھر کے دے ادھر
چمن کی سمت کر نظر 
سماں تو دیکھ بے خبر
وہ کالی کالی بدلیاں
افق پہ ہوگئیں عیاں
وہ اک ہجوم میکشاں
ہے سوئیے میکدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بدگماں 
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں
خیالِ زہد ابھی کہاں
ابھی تو میں جوان ہوں
نہ غم کشور و بست کا 
بلند کا نہ پست کا
نہ بو د کا نہ ہست کا 
نہ وعدئہ الَست کا
اُمید اور یاس گُم
حواس گُم، قیاس گُم
نظر سے آس پاس گُم
ہُما ، بُجز گلاس گُم
نہ مے میں کچھ رمی رہے 
قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے 
یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مطُربا
طرب فزا، الم رُبا
اثر صدائے ساز کا
جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لب پہ ہو صدا 
نہ ہاتھ روک ساقیا 
پلائے جا پلائے جا
ابھی تو میں جوان ہوں

تم نے ہمیں بُھلا دیا، ہم نہ تمہیں بھلا سکے


ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات ایسی یاد نہ تُم کو آ سکے
تم نے ہمیں بُھلا دیا، ہم نہ تمہیں بھلا سکے

تم ہی اگر نہ سُن سکے قصئہ غم، سنے گا کون
کِس کی زباں کھلے گی پِھر ہم نہ اگر سنا سکے

ہوش میں آ چُکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہم
بزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے

رونقِ بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں
دِل میں شکائتیں رہیں لب نہ مگر ہلا سکے

شوقِ وصال ہے یہاں لب پہ سوال ہے یہاں
کس کی مجال ہے یہاں ہم سے نظر مِلا سکے

ایسا ہو کوئی نامہ بر بات پہ کان دھرسکے
سُن کے یقین کرسکے، جا کے انہیں سنا سکے

عجز سے اور بڑھ گئی برہمئیِ مزاجِ دوست
اَب وہ کرے علاجِ دوست جس کی سمجھ میں آ سکے

اہلِ زباں تو ہیں بہت، کوئی نہیں ہے اہلِ دل
کون تیری طرح حفیظ درد کے گیِت گا سکے


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets