Showing posts with label وصی شاہ. Show all posts
Showing posts with label وصی شاہ. Show all posts

Monday, 30 November 2015

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں



اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں 
وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہےسردیوں میں 

مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی 
جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں 

وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا 
میں ڈھو نڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں 

اسے دلاسے تو دے رہا ہو مگر یہ سچ ہے 
کہیں کوئی خوف بڑھ رہا ہت تسلیوں میں 

تم اپنی پوروں سے کیا لکھ گے تھے جاناں 
چراغ روشن ہے اب بھی میری ہتھیلیوں میں 

جو تو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہو سکیں گی 
تیری یہی اہمیت ہے میری کہا نیوں میں 

مجھے یقیں ہےوہ تھام لے گا بھرم رکھے گا 
یہ مان ہے تو دیے جلاے ہے اندھیوں میں 

ہر اک موسم میں روشنی سی بکھرتے ہے 
تمہارے غم کے چراغ میری اداسیوں میں

Wednesday, 19 August 2015

سوچ رکھا تھا، اسے اک دن بتاؤں گا

`
JUST A MINUTE
ذرا سا تو ٹھہر اے دل۔۔۔۔۔۔۔!
ابھی کچھ کام باقی ہیں
ابھی آنگن میں مجھ کو موتیے کے کچھ نئے پودے لگانے ہیں
ابھی ان شوخ ہونٹوں کے کئی انداز ہیں جن کو
مرے ہونٹوں پہ کھلنا ہے
ابھی اس جسم نے مجھ سے
بہت سی بات کرنی ہے
ابھی اس دل کے جانے کتنے ہی غم ایسے ہیں جن کو
مجھے اپنے بدن میں، روح میں بھرنا ہے
اس کے ساتھ جانے کتنے رستے ہیں
اکٹھے جن پہ چلنا ہے
ابھی کچھ ایسے وعدے ہیں
کہ جن کو پورا کرنے کا کئی برسوں سے لمحہ ہی مسیر آ نہیں پایا
ابھی وہ وقت آنا ہے
ابھی وعدے نبھانے ہیں
ابھی کچھ شعر ایسے ہیں کہ جو میں کہہ نہیں پایا
انہیں تحریر کرنا ہے
ابھی کچھ گیت ایسے ہیں کہ جن کی دُھن بنانی ہے
ادھوری سی کسی تصویر کی تکمیل کرنا ہے
کئی کاغذ ہیں وہ جن پر مرے سائن ضروری ہیں
ابھی کچھ ایسی باتیں ہیں کہ جو برسوں سے
میرے ذہن میں تھیں
سوچ رکھا تھا، اسے اک دن بتاؤں گا
بتانی ہیں
ابھی کچھ قصے ایسے ہیں کہ جو اس کو سنانے ہیں
کئی کوتاہیاں ایسی بھی ہیں جن پر ندامت ہے
اسے سب کچھ بتا کر 
بوجھ اِس دل کا گھٹانا ہے
ابھی کچھ دیر پہلے بس ذرا سی دیر پہلے ہی
ذرا سی بات پر وہ مجھ سے رُوٹھا تھا
ذرا سا تو ٹھہر اے دل
ابھی اس کو منانا ہے
ابھی اس کو منانا ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Friday, 17 April 2015

اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ بلٹے



مرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا



مرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا 
ایسا لگتا ہے جو یہ ہاتھ دعا کو اٹھیں 
خود فرشتے چلے آتے ہوں زمیں کی جانب 
سونپ کر مرمریں ہاتھوں کی ہتھیلی کو حناء 
جو بھی مانگا ہو وہ چپ چاپ دیے جاتے ہوں 
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا

ان کی خوشبو سے معطر ہے مرا سارا وجود 
انہی ہاتھوں میں مرے خواب چُھپے ہیں مولا 
اُنگلیاں مجھ کو محبت میں بھگو دیتی ہیں 
انہی پوروں نے مرے درد چُنے ہیں مولا 
ان کی رگ رگ میں محبت ہی محبت رکھنا 
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا 

اِنہی ہاتھوں کی لکیروں میں مقدر ہے مرا 
یہ جو کونے میں ستارہ ہے سکندر ہے مرا 
خواب سے نرم خیالوں کی طرح نازک ہیں 
ان کے ہر لَمس میں میرے لئے چاہت رکھنا 
مرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا 
مرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا 

Tuesday, 10 September 2013

ﭼﺎﻧﺪ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﺴﻢ ﻣﮩﮏ ﺍُﭨﮭﺘﺎ ﮬﮯ


ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺐ ﭘﮧ ﮨﻮﮞ ﺩﯾﺮﯾﻨﮧ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

ﭼﺎﻧﺪ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﺴﻢ ﻣﮩﮏ ﺍُﭨﮭﺘﺎ ﮬﮯ
ﺭُﻭﺡ ﻣﯿﮟ ﺍُﭨﮭﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

ﮐﮭﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯﻣﯿﺮﮮ ﺩﯾﺮﯾﻨﮧ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮﺍ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﻄﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺑﺎﻗﯽ
ﺍﺏ ﺗﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻋﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

ﻭﮦ ﺟﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻟﻮﭦ ﮐﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻢ ﻟﭙﭧ ﺟﺎﺅ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ ﻭﺻﯽ
ﺟﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

Sunday, 11 August 2013

"تکمیل"


وہ کہتی تھی
تم ہنس کر
کوئی بات کرو تو
اپنا اپ
مکمل لگنے لگ جاتا ہے
میں نے بھی محسوس کیا کہ
اس سے باتیں کرکے میں بھی
اور سے اور ہوا جاتا ہوں
اور پھر اک دن
جانے کیسے
مجھ سے باتیں کرکے اپنا آپ مکمل کرنے والی
مجھے ادھورا چھوڑ گئی ہے

Thursday, 27 June 2013

نجانے کون سی رُت میں بھچڑ گئے وہ لوگ


گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے
کبھی وہ دن تھے کہ زُلفوں میں شام رکھتے تھے

تمھارے ہاتھ لگے ہیں تو جو کرو سو کرو
وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے


ہمیں بھی گھیر لیا گھر زعم نے تو کھُلا
کُچھ اور لوگ بھی اِ س میں قیام رکھتے تھے

یہ اور بات ہمیں دوستی نہ راس آئی
ہُوا تھی ساتھ تو خُوشبو مقام رکھتے تھے

نجانے کون سی رُت میں بھچڑ گئے وہ لوگ
جو اپنے دل میں بہت احترام رکھتے تھے

وہ آ تو جاتا کبھی ، ہم تو اُس کے رستوں پر
دئے جلائے ہوئے صبح و شام رکھتے تھے

میں بھی کتنا پاگل ہوں ناں…!


جب بھی رات کو گھر آتا ہوں
اپنے دروازے پہ دستک دیتے لمحے
اکثر میری سوچ یہ مجھ سے کہتی ہے
آج تو دروازہ کھولے گی
مجھ کو دیکھ کے مسکائے گی
میر اماتھا چومے گی
شرمائے گی

گھر میں داخل ہو کر میں بھی کوئی شرارت کردوں گا
تو خود میں سمٹ کر رہ جائے گی
میں بھی کتنا پاگل ہوں ناں
کیا کیا سوچا کرتا ہوں
میں بھی کتنا پاگل ہوں ناں…!!

یاد


شب کے پچھلے پہر تک
میں لیتا رہا ہچکیاں
اور پھر سو گئے تُم

تمہارے لیے ایک نظم


دیکھیں جانو آپ اس بار
جلدی جلدی خط لکھئے گا
ورنہ… ورنہ…!
ورنہ میں کیا کر سکتی ہوں؟
رُولوں گی بس…!
اب سے کتنے موسم پیچھے
مَیں اس کے خط پر رویا تھا
شاید پورا ہفتہ میری آنکھ میں لالی رچی رہی تھی
اور اب اتنے برسوں بعد
آج پرانے درد کھنگالے

پچھلے کتنے گھنٹوں سے
اپنی اُس نادانی پر میں
رہ رہ کر ہنس پڑتا ہوں
لیکن دُور کہیں آنکھوں مَیں
انجانا سا آنسو اب بھی
اُٹھتا ہے اور دَب جاتا ہے
چُھپ جاتا ہے
جیسے کتنے موسم پیچھے
شاید پورا ہفتہ میری آنکھ میں لالی رچی رہی تھی

میرے سورج…!


میرے سورج…!
تِری زمین ہوں میں
کوئی موسم ہو تیرے گِرد مجھے
گُھومنا ہے
مِرا تو کام ہی تیرا طواف کرنا ہے…

شک


موبائل کی بیل بجتی ہے
اور تم جاناں…!
گھر ے اُس کونے میں، جس میں
سب سے بڑھ کر
سب سے واضح
signals فون پر آتے ہیں
اُس کونے میں کھڑے ہوئے بھی
کیوں کہتے ہو
’’صاف نہیں ہے کچھ آواز‘‘
پھر باہر یا چھت پر جا کر
گھنٹوں گھنٹوں
کس سے باتیں کرتے ہو… تم
کون ہے وہ……؟

مجھے اُس سے محبت ہے مگر کیسے کہوں اُس سے


مجھے اُس سے محبت ہے
مگر کیسے کہوں اُس سے
وہ میری بات کوسنجیدگی سے
کم ہی لیتی ہے
ہر اِک پَل مسکرانا
کھلکھلانا
دوستوں پر فقرے کَسنا
نِت نئے معصوم منصوبے بنانا
شوخ چنچل ہر گھڑی تازہ شرارت میں بہت مصروف رہتی ہے
مگر اک اور خدشہ بھی ہے جو مجھ کو
مِرے اظہار سے اقرار سے خود روکے رکھتا ہے
کہ مہکے خواب بُننے کھیلنے کا وقت ہے اُس کا
مِری چاہت
کہیں معصومیت نہ چھین لے اُس کی
سدا سے ہم نے دیکھا ہے
محبت آدمی کو اس قدر سنجیدہ کرتی ہے
کہ پھر محفل، تماشے، کھیل اُس کو بوجھ لگتے ہیں
میں ڈرتا ہوں
کہیں یہ بھولپن اُس کا
یہ ہر پل، چہچہانا، مُسکرانا سب
مِرے اظہارسے سنجیدگی میں نابدل جائے
کہیں اُس شوخ کو بھی روگ کوئی، چپ نہ لگ جائے
مجھے اُس سے محبت ہے
مگر
کیسے کہوں اُس سے

کیسے کوئی ہم کو جُدا اب کر پائے گا


ننگے پائوں سفر کیا اور
بیت اللہ کو سامنے پا کر
حاضر ناظر جان کے رب کو
حجِرا سود چھو کر میں نے
اپنی اُنگلی کی پوروں سے
کعبے کی دیوار پہ جاناں…!
رب کے نام، وفائوں کا پیغام لکھا ہے
اپنا تیرا نام لکھا ہے
کیسے کوئی ہم کو جُدا اب کر پائے گا
دردِ جدائی اپنی موت ہی مر جائے گا
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets