Showing posts with label بقا بلوچ. Show all posts
Showing posts with label بقا بلوچ. Show all posts

Wednesday, 17 April 2013

اب تُو بھی لئے پھرتا ہے اک داغِ جدائی



اک عمر سے میں بات یہی سوچ رہا ہوں
تم چھوڑ نہ دو ساتھ یہی سوچ رہا ہوں

ٹوٹا ہے مرے دل کی طرح تیرا فسوں بھی
اے شہرِ طلسمات! یہی سوچ رہا ہوں

کب روح میں اُترے گا تری روح کا پَرتَو
کب ہو گی ملاقات یہی سوچ رہا ہوں

اب تُو بھی لئے پھرتا ہے اک داغِ جدائی

 

اک جیسے ہیں حالات یہی سوچ رہا ہوں
دن سارا گزارا ہے بقا کوئے بتاں میں
گزرے گی کہاں رات یہی سوچ رہا ہوں

تُو میری خوشیوں سے بے خبر ہے



حریمِ جاں میں بھٹک رہا ہوں
میں قافلے سے بچھڑ گیا ہوں

دُھواں ہوں جلتے ہوئے مکاں کا
فضا میں تحلیل ہو رہا ہوں

تُو میری خوشیوں سے بے خبر ہے
میں تیرے دُکھ سے بھی آشنا ہوں

سماعتیں جن کی مر چکی ہیں
میں اُن کو آواز دے رہا ہوں
وہ مجھ کو تقسیم کر رہا ہے
میں جس کے غم سے جُڑا ہوا ہوں

نہ کوئی رستہ نہ کوئی منزل
عجیب راہوں پہ چل رہا ہوں

بقا کوئی تو مجھے سمیٹے
میں اک اکائی تھا ‘ بٹ گیا ہوں

جب سے وہ آیا ہے میرے دھیان میں



جب سے وہ آیا ہے میرے دھیان میں
ذہن و دل ہیں عالمِ وجدان میں
خود بخود خوابوں کے در کھلنے لگے
کون آیا ہے مرے امکان میں
ہم نے تیرا ذکر چھیڑا اور پھر
روشنی سی ہو گئی دالان میں
وہ گیا تو روح کو بھی لے گیا
بات کیا تھی دل کے اس مہمان میں
حسن پردے سے نکل کر اور بھی
ڈال دیتا ہے خلل ایمان میں
جب کیا گھاٹے کا ہی سودا کیا
عمر بھر ہم تو رہے نقصان میں
چند سپنے ہیں مرے ساتھی بقا
اور کیا رکھا ہے اب سامان میں

رنگ ‘ رنگوں میں ملاتے کیوں ہو؟



لعل مٹی میں ملاتے کیوں ہو؟
ہمنشیں! اشک بہاتے کیوں ہو؟
ہاں اگر پیار ہے مجھ سے تو کہو!
تم مجھے اتنا رُلاتے کیوں ہو؟
گر مٹانا ہی ضروری ٹھہرا
رائیگاں نقش بناتے کیوں ہو؟
جانِ جاں! اپنے حسیں خوابوں کی
راکھ دریا میں بہاتے کیوں ہو؟
کون آیا ہے ‘ کِسے آنا ہے
دیپ صحرا میں جلاتے کیوں ہو؟
کیا نیا رنگ بنانا ہے تمہیں
رنگ ‘ رنگوں میں ملاتے کیوں ہو؟

Tuesday, 16 April 2013

کیا کروں بس گیا اک شخص انوکھا مجھ میں


اب نہیں درد چھپانے کا قرینہ مجھ میں
کیا کروں بس گیا اک شخص انوکھا مجھ میں

اس کی آنکھیں مجھے محصور کئے رکھتی ہیں
وہ جو اک شخص ہے مدت سے صف آرا مجھ میں

اپنی مٹی سے رہی ایسی رفاقت مجھ کو
پھیلتا جاتا ہے اک ریت کا صحرا مجھ میں

میرے چہرے پہ اگر کرب کے آثار نہیں
یہ نہ سمجھو کہ نہیں کوئی تمنا مجھ میں

میں کنارے پہ کھڑا ہوں تو کوئی بات نہیں
بہتا رہتا ہے تیری یاد کا دریا مجھ میں

ڈوب تو جاوں تری مد بھری آنکھوں میں مگر
لڑکھڑانے کا نہں حوصلہ اتنا مجھ میں

جب سے اک شخص نے دیکھا ہے محبت سے بقا
پھیلتا جاتا ہے ہر روز اجالا مجھ میں


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets