Showing posts with label داغ دہلوی. Show all posts
Showing posts with label داغ دہلوی. Show all posts

Saturday, 3 August 2013

نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُر الم نکلے


نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُر الم نکلے
جو یہ نکلے تو دل نکلے، جو دل نکلے تو دم نکلے

تمنا وصل کی اک رات میں کیا اے صنم نکلے
قیامت تک یہ نکلے گر نہائت کم سے کم نکلے

نہ اُٹھےمر کے بھی ایسے تیرے کوچے میں ہم بیٹھے
محبت میں اگر نکلے، تو ہم ثابت قدم نکلے

سمجھ کر رحم دل تم کو دیا تھا ہم نے دل اپنا
مگر تم تو بلا نکلے، غضب نکلے، سِتم نکلے

دمِ پُرسش دیکھا جو، اُس بتِ سفاک کو مضطر
صفِ محشر سےدل پکڑے ہوئے گھبرا کے ہم نکلے

گئے ہیں رنج و غم اے داغ بعدِ مرگ ساتھ اپنے
اگر نکلے تو یہ اپنے رفیقانِ عدم نکلے

Monday, 25 March 2013

شوخی نے تیری کام کیا اک نگاہ میں



شوخی نے تیری کام کیا اک نگاہ میں
صوفی ہے بتکدے میں صنم خانقاہ میں

آنکھیں بچھائیں ہم تو عدو کی بھی راہ میں
پر کیا کریں کہ تو ہے ہماری نگاہ میں

بڑھتا ہوں آگے پوچھ کر اُس سے مقام عشق
جو فتنہ مجھ غریب کو ملتا ہے راہ میں

دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں
دو چار دن رہاتھا کسی کی نگاہ میں

راتیں مصیبتوں کی جو گذریں تھیں آج تک
ماتم میں آئے ہیں مرے روز سیاہ میں

اُس توبہ پر ہے ناز تجھے زاہد اس قدر
جو ٹوٹ کر شریک ہو میرے گناہ میں

آتی ہے بات بات مجھے یاد بار بار
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں

تاثیربچ کے سنگ حوادث سے آئے کیا
میری دعا بھی ٹھوکریں کھاتی ہے راہ میں

کیسا نظارہ کس کا اشارہ کہاں کی بات
سب کچھ ہے اور کچھ نہیں نیچی نگاہ میں

جو کینہ آج ہے ترے دل میں ستم شعار
جائے گا کل یہی تو دل داد خواہ میں

مشتاق اس صدا کے بہت درد مند تھے
اے داغ تم تو بیٹھ گئے ایک آہ میں

ترے بیمار کو آتی نہیں موت



دعا مانگے دل غمگیں کہاں تک
کہوں میں دم بدم آمین کہاں تک

مسلمانوں سے بعض وکیں کہاں تک
کہاں تک اے بت بے دیں کہاں تک

ترے بیمار کو آتی نہیں موت
پڑھے جائے کوئی یٰسین کہاں تک

تڑپنے دو ابھی میں بھی تو دیکھوں
وہ دیتے ہیں مجھے تسکین کہاں تک

مجھے چھوڑیں خدا پر دوست میرے
یہ ہنگامہ سر بالیں کہاں تک

خدا اُس بت کی باتوں کا ہے مشتاق
گیا شور لب شیریں کہاں تک

مرا منہ تھک گیا شکر جفا سے
کروں میں آفریں تحسین کہاں تک

پریشانی سیہ بختوں کی دیکھو
بنے گا طرۂ مشکیں کہاں تک

تصور میں عدو کے تم ہو بیدار
سناؤں قصہ رنگیں کہاں تک

بجا ہے عشق میں بے صبرمیں ہوں
رہے گی آپ کی تمکین کہاں تک

رہے گا مصطفی آباد میں دا غ
غریب و عاجز و مسکین کہاں تک

کتاب عشق کے اُلٹے ورق اول سے آخر تک



کتاب عشق کے اُلٹے ورق اول سے آخر تک
مگر سمجھے نہ ہم اس کا سبق اول سے آخر تک

بری ہے ابتدا بھی انتہا بھی تیری الفت کی
کہ اس میں ہیں غم و رنج و قلق اول سے آخر تک

بشر کو گر نہ ملتی کس کو ملتی عشق کی دولت
 نہیں تھا کوئی اس کا مستحق اول سے آخر تک

مے انگور تحفے میں تجھے دیتا ہوں اے زاہد
رہے گا تیز یکساں یہ عرق اول سے آخر تک


ہزاروں دوست دشمن بزم میں اس کی رہے لیکن
 رہا اک شکل پر نظم و نسق اول سے آخر تک

لکھوں اُس کو جواب اے داغ کیا میں سخت حیران ہوں
 لکھے ہیں خط میں مضمون  ادق اول سے آخر تک

قلق = بے قراری
     ادق = دقیق


Thursday, 6 September 2012

تمہارے خط میں نیا اِک سلام کس کا تھا



تمہارے خط میں نیا اِک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا تھا

وفا کریں گے، نباہیں گے، بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے، مقام کس کا تھا

نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا

تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو، وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا

گزر گیا وہ زمانہ، کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مِرے صبح و شام کس کا تھا

ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets