دراڑیں سی ابھر آئی ہیں دل کا آئینہ دیکھو
خراشیں جو لکھی ہیں روح پر،ان کو ذرا دیکھو
لگے گا حشر برپا ہوگیا سارے زمانے میں
ہمارے دل سے اپنے دل کو تم کرکے جدا دیکھو
ہماری آنکھ کا صحرا بھی دیکھو گے مگر پہلے
.تم آندھی کی ہتھیلی پر کوئی جلتا دیا دیکھو
قبول ہونا نہیں ہونا، خدا پر چھوڑ دیتے ہیں
لبوں کو آنکھ سے چُھو کر، لِکھی اُس پر دعا دیکھو
یہ کیا کہ پھول کا سناٹا ہی تم کو سنائی دے
اگر تم آنکھ رکھتے ہو تو خوشبو کی صدا دیکھو
مخالف ہے ازل سے وصل کی ،اس کا بھروسہ کیا
وچھوڑا ساتھ لاتی ہے ہمیشہ سے انا دیکھو
بتول اس نے تمہیں کیا کہہ دیا ،شرمائے جاتی ہو
کبھی تم آئینہ رکھو، کبھی تم آئینہ دیکھو
😊 I love poetry and specially Urdu poetry. I am here to share my favourite poetry with you. I hope you like it and please don't forget to show your love by liking, commenting and following the blog. 😊
Showing posts with label فاخرہ بتول. Show all posts
Showing posts with label فاخرہ بتول. Show all posts
Thursday, 4 February 2016
Tuesday, 21 October 2014
Thursday, 7 November 2013
تمہارے روپ سے بڑھ کر کہیں جمال نہیں
تمہارے روپ سے بڑھ کر کہیں جمال نہیں
کسی کے لفظ ہیں، میری تو کچھ مجال نہیں
کسی کی باتوں میں آکر اسے گنوانا مت
یہ دل تو گوہر نایاب، یہ سفال نہیں
فلک ہے ان کا ٹھکانہ وہاں چمکتے ہیں
ٹھہر گئے ہیں جو پلکوں پہ تو کمال نہیں؟
کہاں تمہاری نظر میں میرا مقام بھلا
مگر یوں دل سے تو اپنے مجھے نکال نہیں
کہا، یہ تھام لی دیوار تو یونہی ورنہ
نہیں، بچھڑنے کا مجھ کو ذرا ملال نہیں
زمیں سے کرچیاں کیوں چن رہی ہے آج بتول
نہیں کہا تھا تجھے دل کو سنھبال، نہیں؟
Wednesday, 4 September 2013
ابھی محبت نئی نئی ھے
ابھی تو ملنے کی ُجستجو ھے
ابھی تو مبہم سی گُفتگو ھے
ابھی ھے شکوے شکائتوں کا حساب باقی
محبتوں کا ابھی ھے سارا نصاب باقی
ابھی تعاقب میں رتجگے ھیں
ابھی تو خوابوں کے سلسلے ھیں
بہت سے دُشوار مرحلے ھیں
ابھی تو آنکھوں میں زندگی ھے
ابھی تو چہرے پہ تازگی ھے
ابھی محبت نئی نئی ھے۔۔۔۔۔۔۔
Sunday, 7 April 2013
چلو چاہت کو قسمت کر کے دیکھیں
جدا دل سے محبت کر کے دیکھیں
جہاں کو محو حیرت کر کے دیکھیں
بہانے سے چلو ہم طور جا کر
ذرا ان کی زیارت کر کے دیکھیں
دعا پھر مانگ لیں گے آؤ پہلے
کسی پتھر کو مورت کر کے دیکھیں
سبب اس کا وہ پوچھیں گے یقینا
بپا پھر سے قیامت کر کے دیکھیں
سنا ہے اس میں راحت ہے غضب کی
چلو چاہت کو قسمت کر کے دیکھیں
ہوئی حد تو بگڑ جائیں گے۔۔ مانا
گلہ کرنے کی جرات کر کے دیکھیں
صلے کو چھوڑ دیں اپنے خدا پر
وفا کو اپنی عادت کر کے دیکھیں
Thursday, 28 March 2013
پیار ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی ہم کریں تم سے؟
پیار ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی ہم کریں تم سے؟
ہـــم کو پیاری ہے زِندگــــی صاحب
اِس میں کچھ آپ کا بھی حصّہ ہے
یہ جو پلکوں پہ ہے نمی صاحب
آج کل ہو کِسی کے چکر میں
بات لوگوں سے یہ سُنی صاحب
آپ ہیں باوفا ، تو یونہی سہی
آپ کی بات مان لی صاحب
بات کیا ہے جو کھائے جاتی ہے
تم نے پوچھی، نہ کچھ کہی صاحب
Wednesday, 20 February 2013
تلاش کرتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
تلاش کرتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
یونہی بھٹکتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
قیاس ہے وہ سرِ راہ تم کو مل جائے
یہ آس رکھتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
پلٹ کے آنے کا پھر اختیار ڈھونڈو گے
سمَے کے ڈھلتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
چراغ بجھتے ہوئے دیر کتنی لگتی ہے
چراغ جلتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
محبتوں کا تو تِریاق ہی نہیں ممکن
یہ زہر چکھتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
وصال، خواب ہے تم اس کو خواب رہنے دو
یہ خواب تکتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
وفا کی رُت کو ملا ہے کبھی ثبات کہیں؟
یہ رُت بدلتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
یہاں سے آگے تو خاروں کے سلسلے ہیں بتول
گلاب چُنتے ہوئے دُور مت نِکل جانا
دعائیں ہوتی ہیں مغموم، بے ثمر ہو کر
ملی نجات قفس سے تو بے نگر ہو کر
سزا میں ہوگئی تخفیف در بدر ہو کر
ہوا وہ راندہء درگاہ، کر کے ایک خطا
قصُور ہم سے بھی لاکھوں ہوئے بشر ہو کر
اِسی لیے نہیں مانگا اُسے خدا سے کبھی
دعائیں ہوتی ہیں مغموم، بے ثمر ہو کر
تو یوں ہوا کہ دھواں بن کے رہ گئیں آنکھیں
ملا ہے جب سے وہ اِک شخص، خواب گر ہو کر
بجھا بجھا اُسے پایا تو کچھ ہوئی تسکیں
کہ خوش تو وہ بھی نہیں ہم سے بے خبر ہو کر
وہ مسکرا کے ملا جب تو مٹ گئے شکوے
کہ شام ، شام کہاں رہتی ہے، سحر ہو کر
یہ کہکشاں ترے قدموں میں آ بچھے گی بتول
کسی کا رہنا پڑے گا تجھے مگر، ہو کر
Tuesday, 19 February 2013
محبتوں میں سنا ہے وہ شب نہیں آتی
خوشی کی رت کو پکارو تو کب نہیں آتی
اداسیوں کی گھڑی بےسبٌب نہیں آتی
وہ جس میں چاند ،ستارے کلام کرتے ہیں
محبتوں میں سنا ہے وہ شب نہیں آتی
قدم قدم پہ وفا توڑتی ہے دَم لیکن
جفا سنا ہے کبھی جاں بہ لب نہیں آتی
وہ لوٹ آئے گا جاکر یہ مانتے ہیں مگر
بدن سے روح نکل جائے جب، نہیں آتی
ہوں بند آنکھیں تو صورت تمہاری آتی ہے
اٹھا کے دیکھوں جو پلکیں تو تب، نہیں آتی
بتول ! کوئی دعا مستجاب ہو کیسے
صدائے کن فیکوں بھی تو اب نہیں آتی
صبحیں نہیں رہی ہیں وہ راتیں نہیں رہیں
صبحیں نہیں رہی ہیں وہ راتیں نہیں رہیں
اب خواب کیسے دیکھوں کہ آنکھیں نہیں رہیں
میں بھی وہی تھی‘ تُو بھی وہی تھا‘ سمے وہی
لب وَا ہوئے تو جانا‘ وہ باتیں نہیں رہیں
اُمید آخرش کہیں پیچھے ہی رہ گئی
منزل کی سمت جاتی ‘ وہ راہیں نہیں رہیں
سب اعتماد پل میں دَھرے کا دَھرا رہا
جب تیر چل چُکے تو وہ گھاتیں نہیں رہیں
مرنے کی جستجو میں تو جیتے رہے بتول
اب جینا چاہتے ہیں تو سانسیں نہیں رہیں
Tuesday, 29 January 2013
محبت خاک کر دے گی
کہا تھا ناں ۔۔۔ ؟
محبت خاک کر دے گی
جلا کر راکھ کر دے گی
کہیں بھی تم چلے جاؤ
کسی کے بھی تم بنو اور جس کسی کو چاہے اپناؤ
ہماری یاد سے پیچھا چُھڑانا،
اِس قدر آساں نہیں جاناں!
کہا تھا ناں؟
محبت خاک کر دے گی
جلا کر راکھ کر دے گی
وصل کے روگ بُرے ہوتے ہیں
وصل کے روگ بُرے ہوتے ہیں
ہجر کے سوگ برے ہوتے ہیں
ہار میں دل کا ہاتھ ہے کچھ کچھ
اور کچھ لوگ برے ہوتے ہیں
صحراؤں میں کھو جاؤ گے!
عشق کے جوگ بُرے ہوتے ہیں
بستی بس کر مِٹ جائے گی
دل کے روگ بُرے ہوتے ہیں
سُکھ کے بدلے دُکھ دیتے ہیں
کچھ سنجوگ بُرے ہوتے ہیں
Saturday, 12 January 2013
یقین ٹوٹ گیا تو بحال پھر نہ ہوا
یقین ٹوٹ گیا تو بحال پھر نہ ہوا
یہ وہ زوال ہے جس کو کمال پھر نہ ہوا
بس ایک بار کسی رو میں اس کو سوچا تھا
اس آئینے میں دھڑکتا خیال پھر نہ ہوا
تلاشتے ہی رہو گے عبث، ملے گا نہیں
جو اپنی مٹھی سے نکلا وہ سال پھر نہ ہوا
گو ابتدا میں تو ہم بھی بکھر بکھر سے گئے
ہاں اس کے بعد ہمیں بھی ملال پھر نہ ہوا
قدم قدم پہ مسیحا ہزارہا دیکھے
یہ اور بات کہ "عیسٰی مثال" پھر نہ ہوا
جو دل کی مٹی کو چھو کر گلاب کر ڈالے
ہنروروں میں کوئی باکمال پھر نہ ہوا
کسی کی آنکھوں میں ایسا جواب لکھا تھا
بتول ہونٹوں سے کوئی سوال پھر نہ ہوا
Wednesday, 5 December 2012
وہ جو پلکوں سے گرا پل، نہیں ڈھونڈا کرتے
خاک میں گزرا ہوا کل نہیں ڈھونڈا کرتے
وہ جو پلکوں سے گرا پل، نہیں ڈھونڈا کرتے
وہ جو پلکوں سے گرا پل، نہیں ڈھونڈا کرتے
پہلے کچھ رنگ لبوں کو بھی دیئے جاتے ہیں
یونہی آنکھوں میں تو کاجل نہیں ڈھونڈا کرتے
یونہی آنکھوں میں تو کاجل نہیں ڈھونڈا کرتے
بیخودی چال میں شامل بھی تو کر لو پہلے
یوں تھکے پیروں میں پائل نہیں ڈھونڈا کرتے
یوں تھکے پیروں میں پائل نہیں ڈھونڈا کرتے
جس نے کرنا ہو سوال، آپ چلا آتا ہے
لوگ جا جا کے تو سائل نہیں ڈھونڈا کرتے
لوگ جا جا کے تو سائل نہیں ڈھونڈا کرتے
یہ ہیں خاموش اگر، اس کو غنیمت جانو
یونہی جذبات میں ہلچل نہیں ڈھونڈا کرتے
یونہی جذبات میں ہلچل نہیں ڈھونڈا کرتے
پیچھے کھائی ہے تو آگے ہے سمندر گہرا
مسئلہ ایسا ہو تو پھر حل نہیں ڈھونڈا کرتے
مسئلہ ایسا ہو تو پھر حل نہیں ڈھونڈا کرتے
اِن کھلی آنکھوں سے خوابوں کو تلاشو نہ بتول
پلکیں ہو جائیں جو بوجھل ، نہیں ڈھونڈا کرتے
پلکیں ہو جائیں جو بوجھل ، نہیں ڈھونڈا کرتے
Wednesday, 24 October 2012
محبت ذات کے اندر کوئی گُم ذات ہوتی ہے
محبت ذات کے اندر کوئی گُم ذات ہوتی ہے
محبت کے تعاقب میں ہمیشہ گھات ہوتی ہے
محبت میں خوشی سے موت کو ہم اوڑھ لیتے ہیں
ذرا سوچو کہ اس میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے
محبت شہد میں لپٹا ہوا اک زہر ہے لیکن
محبت جیت ہوتی ہے، محبت مات ہوتی ہے
محبت خود زمانہ ہو کے بھی ہے موسموں جیسی
کبھی یہ صبح ہوتی ہے کبھی یہ رات ہوتی ہے
محبت ایسی خوشبو ہے، کبھی اک جا نہیں رہتی
کسی سے دور ہوتی ہے کسی کے سات ہوتی ہے
محبت ہے سرابوں سی، کہ جیسے ریت مُٹھی میں
کسی سے ہات کرتی ہے کسی کے ہات ہوتی ہے
محبت جس کو حاصل ہو، مقدر کا سکندر وہ
محبت رب کی جانب سے حسیں سوغات ہوتی ہے
Wednesday, 10 October 2012
یادوں کی چادر

میں تنہا تو نہیں جاناں
مگر جب بھی پرندوں کو کبھی اُڑتے ہوئے دیکھوں
کبھی تتلی کو پھولوں کے لبوں کو چومتے دیکھوں
ہواؤں پر کبھی بادل کے گورے سے ہیولوں کو
اچانک جھولتے دیکھوں
میں باہر سے سبھی ناتوں کو اس پل توڑ لیتی ہوں
اور آنکھیں موند لیتی ہوں
اور اپنے سر پہ پل بھر کیلئے جاناں
تری یادوں کی چادر اُوڑھ لیتی ہوں
Tuesday, 9 October 2012
سارے نقش ہوا نے مٹا دیئے
پُوچھا، تمام خواب کے منظر بُھلا دیئے؟
آیا جواب، قید سے پنچھی اڑا دیئے
پُوچھا، کبھی کبھار کے ملنے سے بھی گئے؟
میں نے کہا، جہان نے پہرے بٹھا دیئے
پُوچھا، زمانے بھر سے رہ و رسم کا سبب؟
میں نے کہا، جناب نے پہرے اٹھا دیئے
پُوچھا، وہ ساحلوں کی کہانی کا کیا بنا؟
بتلایا، سارے نقش ہوا نے مٹا دیئے
جس پل اڑائی راکھ تو پُوچھا، یہ کیا کِیا؟
میں نے بتایا، آپ کے سب خط جلا دیئے
ارمان آسمان کو چھونے کے کیا ہوئے؟
میں نے کہا، زمین کے اندر سلا دیئے
تم سے بچھڑ کے کام یہ کرنا پڑا ہمیں
تم سے بچھڑ کے کام یہ کرنا پڑا ہمیں
پھر آج اپنے آپ سے لڑنا پڑا ہمیں
کچھ مانگنے کے واسطے آیا تھا اک فقیر
کاسے کو آج اشکوں سے بھرنا پڑا ہمیں
پہلے تو اک جہاں کے مقابل میں ڈٹ گئے
آخر میں اپنے سائے سے ڈرنا پڑا ہمیں
چاہت کا حادثہ ہی کہیں سانحہ نہ ہو
بےکار اس خیال میں پڑنا پڑا ہمیں
اک خواب کھوجنے کے لیے بارہا بتول
ان نیند وادیوں سے گزرنا پڑا ہمیں
پھر آج اپنے آپ سے لڑنا پڑا ہمیں
کچھ مانگنے کے واسطے آیا تھا اک فقیر
کاسے کو آج اشکوں سے بھرنا پڑا ہمیں
پہلے تو اک جہاں کے مقابل میں ڈٹ گئے
آخر میں اپنے سائے سے ڈرنا پڑا ہمیں
چاہت کا حادثہ ہی کہیں سانحہ نہ ہو
بےکار اس خیال میں پڑنا پڑا ہمیں
اک خواب کھوجنے کے لیے بارہا بتول
ان نیند وادیوں سے گزرنا پڑا ہمیں
Wednesday, 26 September 2012
Thursday, 20 September 2012
لہو لہو سے گلابوں کی داستاں دیکھو
ہوئے ہیں قتل بہاروں میں گلستاں دیکھو
سوئے فلک تو سدا دیکھتے ہی رہتے ہو
کبھی تو پلکوں پہ بکھری یہ کہکشاں دیکھو
کسی نے دل لگی، دل کی لگی کسی نے کہا
کسی کے جذبوں کا ہو بھی گیا زیاں دیکھو
شجر شجر کو کہانی تمھاری بتلا دی
صبا کو سمجھا تھا تم نے ہی راز داں دیکھو
ہماری آنکھوں کی برسات دیکھتے کیا ہو
اتر گئی ہیں لہو میں جو بجلیاں دیکھو
نشاں انہی کے ہیں باقی کتاب ہستی میں
زمانہ کرتا رہا جن کو بے نشان دیکھو
فصیل جسم ہے چھلنی تو سر سلامت ہے
عجیب روح میں چلتی ہیں آندھیاں دیکھو
بتول جس کے لئے زندگی لٹا دی ہے
وہ شخص آج بھی ہم سے ہے بدگماں دیکھو
ہوئے ہیں قتل بہاروں میں گلستاں دیکھو
سوئے فلک تو سدا دیکھتے ہی رہتے ہو
کبھی تو پلکوں پہ بکھری یہ کہکشاں دیکھو
کسی نے دل لگی، دل کی لگی کسی نے کہا
کسی کے جذبوں کا ہو بھی گیا زیاں دیکھو
شجر شجر کو کہانی تمھاری بتلا دی
صبا کو سمجھا تھا تم نے ہی راز داں دیکھو
ہماری آنکھوں کی برسات دیکھتے کیا ہو
اتر گئی ہیں لہو میں جو بجلیاں دیکھو
نشاں انہی کے ہیں باقی کتاب ہستی میں
زمانہ کرتا رہا جن کو بے نشان دیکھو
فصیل جسم ہے چھلنی تو سر سلامت ہے
عجیب روح میں چلتی ہیں آندھیاں دیکھو
بتول جس کے لئے زندگی لٹا دی ہے
وہ شخص آج بھی ہم سے ہے بدگماں دیکھو
Subscribe to:
Posts (Atom)
!-end>!-currency>

