Showing posts with label ڈاکٹر ابرار عمر. Show all posts
Showing posts with label ڈاکٹر ابرار عمر. Show all posts

Monday, 25 March 2013

خلش



اگر مِرا  انتظار کرتی
وہ شام شامِ وصال بنتی
وہ شب شبِ اختیار  
بنتی
میں ساری مُشکل کا حل سمیٹے
تمہاری بستی میں آگیا تھا

ایک یاد



تمہاری نیم رُخ آنکھوں کا پھیلتا سایہ
مِرے بدن سے مِری روح تک چلا آیا
چراغ 
 جل رہے تھے اور ہم اکیلے تھے
تمام رات ہم اک دوسرے سے کھیلے تھے

یاد



شبنمی سی رات تھی
چاند بھی جوان تھا
برف کے پہاڑ پر
چھوٹا سا مکان تھا
میں تھا میری یاد تھی
اگلی رُت 
کی بات تھی
شبنمی سی رات تھی
چاند بھی جوان تھا
برف کے پہاڑ پر
چھوٹا سا مکان تھا
وہ بھی میرے ساتھ تھی

ایک لڑکی نے



ایک مجبور تعلق سے گریزاں ہو کر
ایک لڑکی نے
میری آواز 
سے بیمار سماعت بھرلی
میری غزلوں مِری نظموں سے محبت کرلی

مجھے تم یاد کرتی ہو



یہ لوگوں سے سنا ہے کہ مجھے تم یاد کرتی ہو
مجھے کیوں یاد کرتی ہو
تمہیں پہلی ملاقاتوں میں میں نے یہ بتایا تھا
کہ میں تو اک عجب رستے کا راہی ہوں
میں ہجر  و  وصل کے سارے فسانے بھول بیٹھا ہوں
کسی تازہ کہانی کا کوئی کردار بننے سے بھی خائف ہوں 
تِرے چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ جو مِری خاطر تھی
جب سے میں نے دیکھی ہے
تمہیں ملنے میں او لڑکی بڑا محتاط رہتا ہوں
تمہارے رونے دھونے سے زمانے کو بتانے سے
مِرے اندر 
 کبھی کوئی محبت جاگ ناں پائی
تمہیں میں آج بتلادوں
کہ میں تو ایک قیدی ہوں کسی مُردہ کہانی کا
جو برسوں پہلے میں نے اور تیرے جیسی اک لڑکی نے لکھی تھی
تمہیں دینے کی خاطر اب جو میرے پاس کچھ ہوتا
تمہاری بات کا مجھ پر بھی کچھ نہ کچھ اثر ہوتا
مگر لڑکی مِرے یہ ہاتھ خالی ہیں
مِری نظریں بھی روکھی ہیں
مجھے تم یاد ناں کرنا
جواں لمحوں کو اپنے یوں کبھی برباد نہ کرنا
مجھے تم یاد نا ں کرنا
مجھے تم یاد ناں کرنا
مجھے کیوں یاد کرتی ہو؟ 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets