Showing posts with label آصف شہزاد. Show all posts
Showing posts with label آصف شہزاد. Show all posts

Thursday, 19 September 2013

چشمِ تر ، قلبِ حزیں ، آبلے پاؤں میں لئے


اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم
اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم

اُس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ
تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم

ایک ساعت بھی شبِ وصل کی بھولی نہ ہمیں
آج بھی تیری ملن رات پہ مغرور ہیں ہم

چشمِ تر ، قلبِ حزیں ، آبلے پاؤں میں لئے
تیری اُلفت سے ، ترے پیار سے معمور ہیں ہم

اُن کی محفل میں ہمیں اذنِ تکلم نہ ملا
اُن کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم

یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی
گویا افکار سے جذبات سے معذور ہیں ہم

اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے
دِل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چُور ہیں ہم

تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ شہزاد
باوجود اِس کے ترے عشق میں مسحور ہیں ہم

Monday, 6 May 2013

ہر گھڑی ذکر ترا وردِ زباں ہوتا ہے



ہر نئے موڑ پہ منزل کا گماں ہوتا ہے
ظلم وہ بھی ہے جوبےنام ونشاں ہوتا ہے

جھیلتے جاتے ہیں خاموشی سے ہرایک ستم
مسکرا لیتے ہیں جب درد جواں ہوتا ہے

کیسی خاموشی مری، کیسا تغافل میرا
ہر گھڑی ذکر ترا وردِ زباں ہوتا ہے 

ہنس کے کہنے لگے "ذکراسکا بہت سنتے ہیں
کیسا ہوتا ہے یہ دکھ اور کہاں ہوتا ہے ؟ "

تیری آمد ہے نویدِ گل و نغماتِ صبا
تیرے جانے پہ قیامت کا سماں ہوتا ہے

اے پرستان کو جاتے ہوئے لوگو ! یہ کہو
میرے محبوب سا دنیا میں کہاں ہوتا ہے

معتدل لوگ ہی شہزاد بھلے ہوتے ہیں
حد سے بڑھتا ہوا ہر کام زیاں ہوتا ہے 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets