Showing posts with label فرزانہ نیناں. Show all posts
Showing posts with label فرزانہ نیناں. Show all posts

Saturday, 14 November 2015

ترےجنگل کی صندل ہوگئی ہوں



ترےجنگل کی صندل ہوگئی ہوں 
سلگنے سے مکمل ہوگئی ہوں

ذرا پیاسے لبوں کی اے اداسی
مجھے تو دیکھ چھاگل ہوگئی ہوں

بدن نے اوڑھ لی ہےشال اس کی
ملائم، نرم، مخمل ہوگئی ہوں

دھنسی جاتی ہے مجھ میں زندگانی
میں اک چشمہ تھی دلدل ہوگئی ہوں

کسی کے عکس میں کھوئی ہوں اتنی
خود آئینے سے اوجھل ہوگئی ہوں

رکھا ہے چاند اونچائی پہ اتنا
تمنائوں سے پاگل ہوگئی ہوں

کرشمہ اک تعلق کا ہے نیناں
کہ میں صحرا سے جل تھل ہوگئی ہوں

Thursday, 17 April 2014

Friday, 20 December 2013

Tuesday, 6 August 2013

زندہ رہنا سیکھ لیا ہو، سارے دکھوں سے ہار کے جب


کڑی دھوپ میں چلتے چلتے، سایہ،اَگر مل جائے ۔۔۔تو
اک قطرے کو ترستے ترستے، پیاس، اگر بجھ جائے ۔۔۔تو

برسوں سے ،خواہش کے جزیرے ویراں ویراں اُجڑے ہوں
اور سپنوں کے ڈھیر سجا کر، کوئی اگر رکھ جائے ۔۔۔تو

بادل ،شکل بنائیں جب، نیل آکاش پہ رنگوں کے
اُن رنگوں میں اس کا چہرہ، آ کے اگر رُک جائے ۔۔۔۔تو

خاموشی ہی خاموشی ہو، دل کی گہری پاتالوں میں
کچھ نہیں کہتے کہتے گر، کوئی سب کہہ جائے ۔۔۔تو

زندہ رہنا سیکھ لیا ہو، سارے دکھوں سے ہار کے جب
بیتے سپنے ، پا کے خوشی سے ،کوئی اگر ۔۔۔مر جائے ،تو۔۔۔

Tuesday, 16 April 2013

سرد لمحوں کو مری ذات میں جوڑا نہ کرے


پاس منزل کے پہنچ کر کوئی موڑا نہ کرے 
آدھے رستے میں ہمیشہ مجھے چھوڑا نہ کرے

بھیک کی طرح وہ دیتا ہے رفاقت مجھ کو 
اتنا احسان میری جان پہ تھوڑا نہ کرے

ٹوٹ کر چور اگر ہو گئی جڑنے کی نہیں 
کوئی طعنوں سے انا کو مری پھوڑا نہ کرے

وہ حفاظت نہیں کرتا نہ کرے رہنے دو 
زخم سے میرے مرا درد نچوڑا نہ کرے

برف لمحات میں تنہائی سے ڈر لگتا ہے 
سرد لمحوں کو مری ذات میں جوڑا نہ کرے

چوڑیاں کر نہیں سکتی ہیں تشدد برداشت 
جاتے جاتے وہ کلائی کو مروڑا نہ کرے

میں تیاگ آئی ہوں جس کے لئے سب کو نیناں 
کم سے کم وہ تو مرے مان کو توڑا نہ کرے 


Monday, 15 April 2013

اشکوں کے پانیوں میں اترا کسی کا چہرہ


ان بادلوں میں روشن چہرہ ٹھہر گیا ہے 
میری نظر میں کوئی جلوہ ٹھہر گیا ہے

اشکوں کے پانیوں میں اترا کسی کا چہرہ 
بہتا ہوا اچانک دریا ٹھہر گیا ہے

آنکھوں کی سیپیاں تو خالی پڑی ہوئی ہیں 
پلکوں پہ میری کیسے قطرہ ٹھہر گیا ہے

جس نےمجھے چھوا تھا نشتر تھا وہ ہوا کا 
زخم ایک میرے دل میں گہرا ٹھہر گیا ہے

نیلی رتوں میں کوئی آ کر ملا تھا شاید 
اک زہر سا رگوں میں جس کا ٹھہر گیا ہے

کیسا عجب سفر ہے دل کی مسافتوں کا 
میں چل رہی ہوں لیکن رستہ ٹھہر گیا ہے

گردش رکی ہوئی ہےمیرے لہو کی نیناں 
یا وقت کا کہیں پر پہیہ ٹھہر گیا ہے 


موسم ہے چشمِ تر کا سہانا بنا ہوا


بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا 
کمرہ ہے میرا آئینہ خانہ بنا ہوا 

میں نےتو کوئی بات کسی سے نہیں کہی 
سوچا ہے جو وہی ہے فسانہ بنا ہوا 

ندیا میں کس نے رکھ دیئے جلتے ہوئے چراغ 
موسم ہے چشمِ تر کا سہانا بنا ہوا 

عورت کا ذہن مرد کی اس کائنات میں 
اب تک ہے الجھنوں کا نشانہ بنا ہوا 

ممکن ہے مار دے مجھے اس کی کوئی خبر 
دشمن ہے جس کا میرا گھرانہ بنا ہوا 

بارش کی آگ ہے مرے اندر لگی ہوئی 
بادل ہے آنسوؤں کا بہانہ بنا ہوا 

نیناں کئی برس سے ہوا کی ہوں ہم نفس 
ہے یہ بدن اُسی کا خزانہ بنا ہوا 


یاد میری بھی پڑی رہتی ہے تکیے کے تلے


صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے 
شیشے کی ایک کرن بن کے جگاتی ہوں اسے 

بال کھولے ہوئے پھرتی ہوں کسی خواب کے ساتھ 
شام کو روز ہی روتی ہوں، رلاتی ہوں اسے 

یاد میری بھی پڑی رہتی ہے تکیے کے تلے 
آخری خط کی طرح روز جلاتی ہوں اسے 

راہ میں اس کی بچھا دیتی ہوں ٹوٹی چوڑی 
چبھ کے کانٹے کی طرح روز ستاتی ہوں اسی 

بھولے بسرے کسی لمحے کی مہکتی خوشبو 
گوندھ کر اپنے پراندے میں جھلاتی ہوں اسے 


Sunday, 14 April 2013

روز سوچا ہےکہ تم میرےہو، میرے ہو نا


روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا 
روز سوچا ہےکہ تم میرےہو، میرے ہو نا 

میں تو اک کانچ کےدریا میں بہی جاتی ہوں 
کھنکھناتے ہوئے ہمراز مجھے سن لو نا

کان میں میں نےپہن لی ہےتمہاری آواز 
اب مرے واسطےبیکار ہیں چاندی سونا

میری خاموشی کو چپکےسے سجا دو آکر 
اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا

روح میں گیت اترجاتےہیں جیسےخوشبو 
گنگناتی سی کو ئ شام مجھے بھیجو نا

چاندنی اوس کےقطروں میں سمٹ جائے گی 
تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا

پھر سےانکھوں میں کوئ رنگ سجا لے نیناں 
کب سےخوابوں کو یہاں بھول گئ تھی بونا


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets