Showing posts with label Ayub Khawar. Show all posts
Showing posts with label Ayub Khawar. Show all posts

Friday, 22 July 2016

Tum Say Kehna Thaa


Tum Say Kehna Thaa
Ekk Nazar Ki Fursat Men
Sat'ah e Dill Pay Khill Uthhay
Lafz Bhi, Ma'ani Bhi
Khaamshi Ki Jhilmill Men
Aag Bhi Thee, Paani Bhi
Dill Nay Dharkanon Say Bhi
Jo Kahi Nahin Thi Ab Tak
An'Kahi Kahaani Bhi
An'Kahi Kahani Men
Aankh Bharr Tamanna Thee
Haathh Bharr Ki Doori Par
Lams Bharr Ki Qurbat Thee
Lamha Bhar Ka Sapna Tha..!!

Tuesday, 27 March 2012

کبھی جو کچّے گھڑے کا قصہ تیری وفا کو غرور بخشے




تم اپنی صبحوں کے رنگ لکھنا کہ اپنی راتوں کے خواب لکھنا
بس اتنا کرنا جہاں بھی رہنا، میرے خطوں کے جواب لکھنا

پھر اتنی فرصت کسے ملے گی کہ مل کے بیٹھیں تو حال پوچھیں
مگر خطوں میں ہر ایک وعدے، ہر ایک قسم کا حساب لکھنا

مجھے تو تم نے قریب رہ کر بھی خیر جو جو اذیتیں دیں
تم اب جدائی کے موسموں میں اُٹھانا جو جو عذاب لکھنا

کبھی جو کچّے گھڑے کا قصہ تیری وفا کو غرور بخشے
عبور جب بھی کرنا چاہے ملامتوں کا عذاب لکھنا

تیری پریشانیوں کی خبریں یہ دکھتی آنکھیں نہ پڑھ سکیں گی
بدن میں کانٹے بھی چُبھ رہے ہوں، حرف مگر گلاب لکھنا

ہزار باتیں ہیں، چار راتیں ہیں، اس سے کیا کیا کہو گے خاور
وہ چہرہ پڑھ پڑھ کے یاد کر لو، وہ جا چکے تو کتاب لکھنا

ایوب خاور
 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets