Showing posts with label Hussain Poetry. Show all posts
Showing posts with label Hussain Poetry. Show all posts

Friday, 31 October 2014

میرے دل سے بھی گزرتی ہے کوئی نہر فرات



کربلا کوئی فسانہ نہ فسوں ہے ، یوں ہے
یہ تو اک سلسلہ کن فیکوں ہے یوں ہے

میرے دل سے بھی گزرتی ہے کوئی نہر فرات
میری آنکھوں میں جو یہ موجہ خوں ہے ، یوں ہے

ذکر آیا تھا ابھی حضرت زینب کا کہیں
’’ تو نے پوچھا تھا نمی آنکھ میں کیوں ہے ، یوں ہے‘‘

قیمت خلد ہے اک اشک عزائے شبیر
اب کوئی لاکھ یہ کہتا رہے یوں ہے ، یوں ہے

ان کی کوشش غم شبیر فنا ہوجائے
اور یہ غم کہ فزوں اور فزوں ہے، یوں ہے

پھر ہوئے مجھ کو عطا حرف پئے مدح و سلام
ان پہ روشن مرا احوال دروں ہے ، یوں ہے

قبر میں ہوگی زیارت مجھے مولا کی عقیل
موت جو میرے لیے وجہ سکوں ہے ، یوں ہے

Friday, 21 December 2012

حروف کی روشنائی لے کر، بَدیدۂِ تر حسین لکھنا


حروف کی روشنائی لے کر، بَدیدۂِ تر حسین لکھنا
تم ایسا کرنا کتابِ دل کے ورق ورق پر حسین لکھنا

حروف خوشبو کے پھول بن کر، تمہارے سینے سے کِھل اٹھیں گے
تم ایسا کرنا کہ اپنی آنکھوں سے اپنے دل پر حسین لکھنا

تمہارے تاریک منظروں میں، اجالے پھوٹیں گے پھول بن کر
تم ایسا کرنا کہ اپنے گھر میں، دُرود پڑھ کر حسین لکھنا

اگر کتابت کا شوق ہو تو کتابِ صبر و رضا میں محسن
جہاں شہیدوں کے نام لکھنا، تو سب سے اوپر حسین لکھنا

Tuesday, 18 December 2012

Bhai say dam e subha bicharr jaaye gi zainab












ay raat na dhalna keh ujar jaaye gi zainab
bhai say dam e subha bicharr jaaye gi zainab

Saturday, 17 November 2012

Ay Karbala k qasr ki mai’maar, as’salam


“Ay Karbala k qasr ki mai’maar, as’salam….
Ay jur’aton ki aahani deewar, as’salam….
Ghurbat may Shahzadi-e Mukhtar, as’salam….
Ay ghaaza-e-rukh-e-Shah-e-abraar, as’salam….
Jo rang charh chuka tha utarnay nahi diya….
Tu nay kisi Shaheed ko mernay nahi diya.”

لاکھوں سلام ہوں









سلام
















Thursday, 6 September 2012

آج شہزادیاں، پابستہٴ زنجیر ستم ہیں



شام غربت یہ بتا مجھ کو سحر دور ہے کتنی
میری زینب ہے کہاں اور وہ رنجور ہے کتنی
آج شہزادیاں، پابستہٴ زنجیر ستم ہیں
آزمائش تجھے قدرت بتا منظور ہے کتنی
میں نبی زادی ہوں سن لے مجھے دربار یزید
آج بھی دیکھ لے طاقت تیری معذور ہے کتنی
اے بہن حوصلہ تیرا، تیرے بھائی کی طرح ہے
بنت حیدر کو سمجھتے تھے وہ مجبور ہے کتنی
نام لیوا بھی نہیں کوئی تیرا آج یزید
داستاں دیکھ لے شبیر کی مشہور ہے کتنی
گھپ اندھیرے میں یہ کیا جل گئے ایماں کے چراغ
داستاں حق کے شہیدوں سے یہ پرنور ہے کتنی
یہ فسانہ نہیں مطرب جو رقم ہو جائے
کربلا جانتا ہوں رنج سے تو چور ہے کتنی

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets