Showing posts with label خالد شريف. Show all posts
Showing posts with label خالد شريف. Show all posts

Monday, 21 September 2015

Tuesday, 10 September 2013

اگرچہ مرگ وفا ایک سانحہ تھا مگر


اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا
لگا کہ روح پہ طاری عذاب ختم ہوا

یہ ملنا اور بچھڑنا ہے پانیوں کی طرح
کہ ایک لہر اٹھی نقش آب ختم ہوا

کسی کو پڑھ لیا ایک ہی نشست میں ہم نے
کوئی ضخیم تھا اور باب باب ختم ہوا

اگرچہ مرگ وفا ایک سانحہ تھا مگر
میں خوش ھوا کہ چلو یہ سراب ختم ہوا

مہک کے ساتھ ہی رنگت بھی اڑ گئی"خالد"
بچھڑ کے شاخ سے خود بھی گلاب ختم ہوا

Thursday, 20 December 2012

میرے ھاتھوں کی لکیروں میں



آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ھے
کون سی بات پہ دل ٹوٹا ھے

میرے ھاتھوں کی لکیروں میں کوئی
زندگی بن کے چھپا بیٹھا ھے

مردہ دل ھم بھی نہ تھے پر اب کے
حادثہ ھم پہ عجب گزرا ھے

اب سے پہلے کئی صدیاں پہلے
جیسے خود کو بھی کہیں دیکھا ھے

آسماں جھانک رھا ھے"خالد"
چاند کمرے میں میرے اترا ھے

Thursday, 6 September 2012

کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں



کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں
کہیں بکھرتی ہُوئی دھول میں سوال ملیں

ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں

یہ شعر و شاعری سب ہے عطا ان آنکھوں کی
وہ اک نگاہ اُٹھائے تو سو خیال مِلیں

جو اپنے چہرے کو محفوظ دیکھنا چاہے
وہ کیا کرے کہ یہاں آئینوں میں بال ملیں

میں بے ہنر تھا سو حیرت میں گم ہُوا خالد
کہ ہر قدم پہ یہاں لوگ با کمال ملیں

اُسے تو کھو ہی چکے پھر خیال کیا اُس کا



اُسے تو کھو ہی چکے پھر خیال کیا اُس کا
یہ فکر کیسی کہ اب ہو گا حال کیا اُس کا

وہ ایک شخص جسے خود ہی چھوڑ بیٹھے تھے
گُھلائے دیتا ہے دل کو ملال کیا اُس کا

تمھاری آنکھوں میں چھلکیں ندامتیں کیسے 
جواب بننے لگا تھا سوال کیا اُس کا

تمھارے اپنے ارادے میں کوئی جھول نہ تھا
کہو کہ ملنا تھا ایسا محال کیا اُس کا

وہ نفرتوں کے بھنور میں بھی مُسکرا کے ملا
اب اس سے بڑھ کے بھلا ہو کمال کیا اُس کا

اب اس طرح بھی نہ یادوں کی کرچیاں چُنیے
نہ تھا فراق سے بہتر وصال کیا اُس کا

یہ سوچ کر نہ ملے پھر اُسے کبھی خالد
کہ جانے ہو گا ندامت سے حال کیا اُس کا

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets