Showing posts with label شہزاد احمد. Show all posts
Showing posts with label شہزاد احمد. Show all posts

Saturday, 15 September 2012

دل میں پھر اِک کسک سی اُٹھی مدّتوں کے بعد


یہ سوچ کر کہ تیری جبِیں پر نہ بَل پڑے
بس دُور ہی سے دیکھ لیا اور چل پڑے


دل میں پھر اِک کسک سی اُٹھی مدّتوں کے بعد
اِک عُمر سے رُکے ہوئے آنسُو نِکل پڑے


سینے میں بے قرار ہیں مُردہ محبتیں
مُمکن ہے یہ چراغ کبھی خُود ہی جل پڑے


اے دل! تجھے بدلتی ہوئی رُت سے کیا مِلا
پودوں میں پُھول اور درختوں میں پَھل پڑے


اب کس کے انتظار میں جاگیں تمام شب
وہ ساتھ ہو تو نیند میں کیسے خلل پڑے


شہزاد دل کو ضبط کا یارا نہیں رہا
نِکلا جو ماہتاب، سمندر اُچھل پڑے


Thursday, 6 September 2012

دل کے ہر ذرّے پہ ہے نقش، محبت اُس کی



شجر سُوکھ گیا ہے وہ ہرّا کیسے ہو
میں پیمبر تو نہیں، میرا کہا کیسے ہو

دل کے ہر ذرّے پہ ہے نقش، محبت اُس کی
نُور آنکھوں کا ہے، آنکھوں سے جُدا کیسے ہو

جس کو جانا ہی نہیں، اُس کو خُدا کیوں مانیں
اور جسے جان چُکے ہیں، وہ خُدا کیسے ہو

عُمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی
ہاں مگر، دل نہ جلائیں تو ضیاء کیسے ہو

جس سے دو روز بھی کُھل کر نہ ملاقات ہوئی
مدّتوں بعد ملے بھی تو گِلہ کیسے ہو

کِن نِگاہوں سے اُسے دیکھ رہا ہوں شہزاد
مجھ کو معلوم نہیں، اُس کو پتا کیسے ہو

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets