Showing posts with label فرحت عباس شاہ. Show all posts
Showing posts with label فرحت عباس شاہ. Show all posts

Wednesday, 5 August 2015

دِکھ رہی ہے جو مُجھے صاف تیری آنکھوں میں



دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں
یہ جو آنسو ہیں، کہیں اُس کی نشانی تو نہیں

دِکھ رہی ہے جو مُجھے صاف تیری آنکھوں میں
تُو نے یہ بات کہیں مُجھ سے چُھپانی تو نہیں

جانتا ہوں کہ سرابوں میں گِھرا ہوں یارو
دوڑ پڑتا ہوں مگر پِھر بھی کہ پانی تو نہیں

جس طرح شہر سے نکلا ہوں میں بیمار ترا
یہ اُجڑنا ہے، کوئی نقل مکانی تو نہیں

اُس نے چاہا ہے مُجھے اپنے خُدا سے بڑھ کر
میں نے یہ بات زمانے کو بتانی تو نہیں

یہ جو ہر موڑ پہ آ ملتی ہے مُجھ سے فرحتؔ
بدنصیبی بھی کہیں میری دیوانی تو نہیں

Saturday, 27 September 2014

ایک پُرہیبت سکوتِ مستقل آنکھوں میں تھا



جِسم تپتے پتھروں پر، رُوح صحراؤں میں تھی
پھر بھی تیری یاد ایسی تھی کہ جو چھاؤں میں تھی

ایک پُرہیبت سکوتِ مستقل آنکھوں میں تھا
ایک طغیانی مسلسل، دل کے دریاؤں میں تھی

ہم ہی ہو گزرے ہیں خود اپنے شہر اجنبی
وہ جہاں بھی تھی وہاں اپنے شناساؤں میں تھی

اِک صدا سی برف بن کر گِر رہی تھی جسم پر
ایک زنجیرِ ہوا تھی، جو میرے پاؤں میں تھی

Friday, 5 September 2014

میں داسی ڈھولن یار کی



میں داسی ڈھولن یار کی 
میری پوری ہوئی مراد

اک آ کے یار کی قید میں 
ہوا تن، من، دھن آزاد

مری لوں لوں کوکے ہجرمیں 
کرے دم دم دل فریاد

کوئی دردمصلّہ ڈال کے 
میری مسجد کرے آباد

Friday, 2 August 2013

تم نہیں ہوتے تو پھر درد زمانے بھر کے


اتنا تو ہوتا نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد
جتنا ویران ہوا جاتا ہے گھر شام کے بعد

ٹوٹ پڑتی ہے نئی روز خبر شام کے بعد
وقت ہوتا ہے عذابوں میں بسر شام کے بعد

میری آنکھوں سے برستے ہوئے دریائوں میں
ڈوب جاتی ہے تری راہ گزر شام کے بعد

تیرے بخشے ہوئے اندوہ کی گھبراہٹ کا
اور ہی رنگ سے ہوتا ہے اثر شام کے بعد

تم نہیں ہوتے تو پھر درد زمانے بھر کے
آن ملتے ہیں مجھے خاک بہ سر شام کے بعد

شاہ ہو کوئی، گدا ہو یا ولی ہو سب کا
فکر کے بوجھ سے جھک جاتا ہے سر شام کے بعد

مل کے اک شہر بھگو دیتے ہیں تنہائی کا
ایک میں ایک مرا دیدئہ تر شام کے بعد

گھیر لیتے ہیں مجھے رستے تری یادوں کے
جب بھی کرتا ہوں ترے بعد سفر شام کے بعد

دن بھی ویراں ہی گزرتا ہے ہمارا لیکن
اور بڑھ جاتا ہے ویرانی کا ڈر شام کے بعد

ہجر کے سائے تو ہر روز ہی آ جاتے ہیں
کیا کبھی ہو گا تمہارا بھی گزر شام کے بعد

ایک بس تم ہی نہیں رات کے گھائل فرحت
خاک اڑتی ہے ہماری بھی ادھر شام کے بعد

Friday, 15 February 2013

ویرانی


درد کی کالی کوٹھڑی میں
عمر قید کے سزا یافتہ
بے قرار اور گھبرائے ہوئے دل کا عالم
اور دل میں قید
شکستہ اور کملائی ہوئی آرزوئیں
اور آرزوؤں میں بند
تھکا ہار اور شکست خوردہ انتظار
اور انتظار کے بعد
دور دور تک خلا اور کھوکھلا پن
خلا اور خاموشی دور دور تک
خاموشی اور ویرانی

Wednesday, 13 February 2013

سائیاں میرے درد گھٹا، سائیاں میرے زخم بجھا


سائیاں ذات ادھوری ہے، سائیاں بات ادھوری ہے

سائیاں رات ادھوری ہے، سائیاں مات ادھوری ہے


دشمن چوکنا ہے لیکن، سائیاں گھات ادھوری ہے



سائیاں رنج ملال بہت، دیوانے بے حال بہت


قدم قدم پر جال بہت، پیار محبت کال بہت


اور اس عالم میں سائیاں، گزر گئے ہیں سال بہت



سائیاں ہر سو درد بہت، موسم موسم سرد بہت


رستہ رستہ گرد بہت، چہرہ چہرہ زرد بہت


اور ستم ڈھانے کی خاطر، تیرا اک اک فرد بہت



سائیاں تیرے شہر بہت، گلی گلی میں زہر بہت


خوف زدہ ہے دہر بہت، اس پہ تیرا قہر بہت


کالی راتیں اتنی کیوں، ہم کو اک ہی پہر بہت



سائیاں دل مجبور بہت، روح بھی چور و چور بہت


پیشانی بے نور بہت، اور لمحے مغرور بہت


ایسے مشکل عالم میں، تو بھی ہم سے دور بہت



سائیاں راہیں تنگ بہت، دل کم ہیں اور سنگ بہت


پھر بھی تیرے رنگ بہت، خلقت ساری دنگ بہت


سائیاں تم کو آتے ہے، بہلانے کے ڈھنگ بہت



سائیاں میرے تارے گم، رات کے چند سہارے گم


سارے جان سے پیارے گم، آنکھیں گم نظارے گم


ریت میں آنسو ڈوب گئے، راکھ میں ہوئے شرارے گم



سائیاں رشتے ٹوٹ گئے، سائیاں اپنے چھوٹ گئے


سچ گئے اور جھوٹ گئے، تیز مقدر پھوٹ گئے


جانے کیسے ڈاکو تھے، جو لوٹے ہوئوں کو لوٹ گئے



سائیاں تنہا شاموں میں، چنے گئے ہیں باموں میں


چاہت کے الزاموں میں، شامل ہوئے ہے غلاموں میں


اپنی ذات نہ ذاتوں میں، اپنا نام نہ ناموں میں



سائیاں ویرانی کے صدقے، اپنی یزدانی کے صدقے


جبر انسانی کے صدقے، لمبی زندانی کے صدقے


سائیاں میرے اچھے سائیاں، اپنی رحمانی کے صدقے



سائیاں میرے درد گھٹا، سائیاں میرے زخم بجھا


سائیاں میرے عیب مٹا، سائیاں کوئی نوید سنا


اتنے کالے موسم میں، سائیاں اپنا آپ دکھا


Monday, 11 February 2013

یہ دل، یہ اُجڑی ہوئی چشمِ نم، یہ تنہائی



اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے
سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتری
تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے
اب اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا
یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے
یہ دل، یہ اُجڑی ہوئی چشمِ نم، یہ تنہائی
ہمارے پاس تو جو بھی ہے مال درد کا ہے
یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل میں
میری نگاہ میں سارا کمال درد کا ہے
اسیر ہے میری شاخ نصیب پت جھڑ میں
میرے پرندۂ دل پر بھی جال درد کا ہے
بدل گئے میرے حالات دل تو کیا ہو گا
یہ ایسی بات ہے جس میں زوال درد کا ہے
دلوں پہ زندہ تھا دل ہی نہیں رہے ہیں یہاں
اب ایسے شہر میں جینا محال درد کا ہے
جمود توڑتی آنکھیں، سکوت توڑتے لب
یہ ناک نقشہ یہ سب خدّ و خال درد کا ہے
سُنا ہے تیرے نگر جا بسا ہے بیچارا
سُناؤ کیسا وہاں حال چال درد کا ہے
وگرنہ خار و خزاں کے سوا نہیں کچھ بھی
بس ایک پھول میری ڈال ڈال درد کا ہے
اُکھڑتی جاتی ہے دیوانہ وار ایڑیوں سے
زمینِ جاں پہ ہماری دھمال درد کا ہے
فقیر بیٹھے ہوئے ہیں بہت سکون سے ہم
تیری جدائی کی کُٹیا ہے پیال درد کا ہے
کہ ہم نے کس کے لیے جاں عذاب میں ڈالی
ہمیں تو آج بھی خود سے ملال درد کا ہے
ہمارے سینے میں دل کی جگہ پہ پتھر ہے
اِسی لیے تو یہاں ایسا کال درد کا ہے
تہاری چاہ نے ڈھونڈی تھی میری آبادی
یہ گھاؤ سینے کی بستی میں کھال درد کا ہے
یہ عشق ہے اِسے تیمار داریاں کیسی
اسے نہ پوچھ یہ بوڑھا نڈھال درد کا ہے
ہم اس کو دیکھتے جاتے ہیں، روتے جاتے ہیں
یہ صحنِ شب میں پڑا ہے جو تھال درد کا ہے
نہ تم میں سکھ کی کوئی بات ہے نہ مجھے میں ہے
تمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے
ابھی کہیں سے کڑی کوئی بھی نہیں ٹوٹی
ابھی تو سلسلہ سارا بحال درد کا ہے
میری طرف سے گزر کا خیال رہنے دو
یہ راستہ بھی بہت پائمال درد کا ہے
دل و نظر تو رہیں گے سکون میں لیکن
شب فراق مجھے احتمال درد کا ہے
کسی کا درد ہو اپنا سمجھنے لگتے ہیں
ہمارے پاس یہی کچھ مال درد کا ہے
یہیں کہیں میرے اندر کوئی تڑپتا ہے
یہیں کہیں پہ کوئی یرغمال درد کا ہے
اسی لیے تو ہمیں عجز کا قرینہ ہے
ہمارے ذات میں جاہ و جلال درد کا ہے
ہے مار رکھنے کے در پئے تیری مسیحائی
جو دوڑا ہے مَن میں غزال درد کا ہے
وہیں کہیں کسی گھاٹی میں تیرا ہجر بھی ہے
میرے لہُو سے جہاں اِتصال درد کا ہے
نفس نفس پہ پڑے آبلوں سے لگتا ہے
نہ جانے روح میں کب سے اُبال درد کا ہے
یہی تو فرق ہے ان میں اور آپ میں فرحت
کسی کو اپنا کسی کو خیال درد کا ہے
کسی نے پوچھا کہ فرحت بہت حسین ہو تم
تو مُسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

Sunday, 10 February 2013

رات بھی بیت چلی ہے اب تو


صبح سے نکلا ہوا ہے گھر سے
رات بھی بیت چلی ہے اب تو
جانے کس بیتے ہوئے وصل کے کملائے ہوئے در پہ پڑا ہوگا
جانے کس الجھے ہوئے ہجر کے زانو پہ ذرا ٹیک کے سر
چین سے سویا ہوگا
دل ابھی لوٹا نہیں
صبح سے نکلا ہوا ہے گھر
آگیا ہوگا کسی درد کے بہلاوے میں
اور کسی راہ کے ویران کنارے پہ پڑا خواب بلکتا ہوگا
آتے جانتے ہر اِک مسافر کی طرف
ایک سہمی ہوئی امید سے تکتا ہو گا
سوچتا ہوگا جدائی کی کوئی انت نہیں 


Sunday, 6 January 2013

ہر چیز میں تمھاری جدائی لگی مجھے



باہر بھی اپنے جیسی خدائی لگی مجھے

ہر چیز میں تمھاری جدائی لگی مجھے

جیون میں آج تیرے لیے رو نہیں سکا

جیون میں آج رات پرائی لگی مجھے

مہندی جچی کچھ ایسے تیرے نرم ہاتھ پر

اک کائنات دست ِحنائی لگی مجھے

پتی، تیری پلک کا کنارا مجھے لگی

شاخ ِگلاب تیری کلائی لگی مجھے

دھڑکن میں تال تیرے خیالوں کی بج اٹھی

سانسوں میں تیری نغمہ سرائی لگی مجھے

حق میں اسی کے فیصلہ ہر شخص نے دیا

ہر شخص تک اسی کی رسائی لگی مجھے

Tuesday, 25 December 2012

کسی کو سونپی کبھی اپنے وقت کی تقسیم ؟



کہو کسی پہ کبھی درد آشکار کیا؟
کبھی کبھی کئی لوگوں کو سوگوار کیا

کبھی کسی کے لیے خود کو بے قرار کیاَ؟
تمام عمر محبت کا انتظار کیا

کسی کو سونپی کبھی اپنے وقت کی تقسیم ؟
کبھی کبھی تیری یادوں سے کاروبار کیا

یہ شہر بھر میں بھلا کیوں اکڑ کے پھرتے ہو؟
ہمیں غرور بہت ہے کہ ہم نے پیار کیا

کوئی تضاد کوئی اختلاف اس دوراں؟
غموں کو کُند کیا دل کو تیز دھار کیا

کہو جو لوگوں پہ احسان کرتے پھرتے ہو؟
خود اپنے دل کو سدا میں نے زیر بار کیا

بتاؤ دُکھ کی ریاضت میں کیا کیا تم نے ؟
اجل کو پھول کیا، زندگی کو خار کیا

آج پھر تیری یاد مانگی تھی



پھر تیرا ذکر دل سنبھال گیا
ایک ہی پل میں سب ملال گیا

ہو لیے ہم بھی اس طرف جاناں
جس طرف بھی تیرا خیال گیا

آج پھر تیری یاد مانگی تھی
آج پھر وقت ہم کو ٹال گیا

تو دسمبر کی بات کرتا ہے
اور ہمارا تو سارا سال گیا

تیرا ہوتا تو پھٹ گیا ہوتا
میرا دل تھا جو غم کو پال گیا

کون تھا وہ کہاں سے آیا تھا
ہم کو کن چکروں میں ڈال گیا

نقش پختہ تھا تیرے غم کا وگرنہ موسم



مدتوں بعد میرا سوگ منانے آئے
لوگ بھولا ہوا کچھ یاد دلانے آئے

بڑھ گیا دل کے جنازے میں ستاروں کا ہجوم
کتنے غم ایک تیرے غم کے بہانے آئے

رات اک اُجڑی ہوئی سوچ میرے پاس آئی
اور پھر اُجڑے ہوئے کتنے زمانے آئے

ایک اک کر کے حوادث بڑی ترتیب کے ساتھ
مرحلہ وار میرا ساتھ نِبھانے آئے

نقش پختہ تھا تیرے غم کا وگرنہ موسم
بارہا دل سے میرے اس کو مٹانے آئے

Wednesday, 19 December 2012

سیاہ ہجر گیا, زرد انتظار گئے



سیاہ ہجر گیا, زرد انتظار گئے
کسی کا درد گیا درد کے حصارگئے

اداس رات‘خزاں ہم سفر‘سفر گم نام
ترےخیال کے موسم ہمیں تو مار گئے

نہ جاں بھڑکتی ہے اپنی نہ راکھ ہوتے ہیں
ہمیں یہ کیسی مصیبت میں تم اتار گئے

عجیب دشمنِ جاں تھا کہ بن لڑے جیتا
عجیب جنگ تھی ہم جس میں ہار ہار گئے

بہت ہی تھوڑی سی مہلت ملی محبت کی
ہم اپنا آپ مگر جاتے جاتے وار گئے

کسی کے بھیجے ہوئے آگئے تھے دنیا میں
کسی سے مانگی ہوئی زندگی گزار گئے

نہ چاند اٹکا کسی جا نہ بدلیاں الجھیں
ہم اس کی رات کے آنگن میں بار بار گئے

تمہارا ہجر شدّت سے مرے دل کو مسلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو



تمہارا پیار چھپ چھپ کر کئی چہرے بدلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو
تمہارا ہجر شدّت سے مرے دل کو مسلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو

سمندر آشنا آنکھوں میں صحرا آن بستے ہیں تمہیں جب بھول جاتا ھوں
پھر ان صحراؤں میں ایک خواب کا چشمہ نکلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو

میں اپنے ہاتھ سے تیری سنہری یاد کی پلکیں سجاتا ھوں خیالوں میں
خیالوں میں تیرا موسم کئی پہلو بدلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو

تری پرچھائیاں ہر سو مری تنہائیوں کا رقص کرتی ہیں اداسی پر
میرے سینے میں ایک بےچین سا بچہ مچلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو

کبھی کوئی ستارہ آنکھ سے ہوتا ہوا بجھتا ہےاکے گود میں گر کر
کبھی کوئی بہت ہی دور ابھرتا اور ڈھلتا ہے مجھے تم یاد آتے ہو

کسی فٹ پاتھ پر‘ بازار میں‘ باغات میں یا پھر کسی دریا کنارے پر
بہت خوش ھو کے جب کوئی کسی کے ساتھ چلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو

میں سارادن کوئی سنگی مجسمہ بن کے رہتا ھوں مگر جب شام ڈھلتی ھے
میرے دل کی جگہ پر کوئی پتھر سا پگھلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو

تصور میں تمہارے سنگ بیتی بارشیں اکثر تمہیں آواز دیتی ہیں
نگاہوں میں تمہاری دھوپ کا ایک دیپ جلتا ھے مجھے تم یاد آتے ھو

Wednesday, 28 November 2012

وہ میرے من میں‌آ بسا کسی ملال کی طرح


نہ رنگ روپ کی طرح نہ خدوخال کی طرح
وہ میرے من میں‌آ بسا کسی ملال کی طرح

وہ میری سب ریاضتوں میں میرے ساتھ ساتھ ھے
کبھی جواب کی طرح کبھی سوال کی طرح 

کبھی کبھی تو کتنا سخت ھے مگر کبھی کبھی
تو کس قدر لطیف ھے میرے خیال کی طرح

تمہارے پیار نے کبھی مجھے رہا نہیں کیا
پڑا ہوا ہے مجھ پہ زندگی کے جال کی طرح

میں راستہ ہوں اور تمہاری یاد قافلہ ھے جو
گزر رہی ھے مجھ سے میرے ماہ و سال کی طرح


Monday, 26 November 2012

ایک بھولی بسری ہوئی یاد


جاناں
میں نے اب کے سال بھی سبز رتوں کا پہلا پھول
اک تیری خاطر شاخِ شجر سے توڑ کے
اپنی زرد کتاب میں لا رکھا ہے
کوئی نہ جانے کبھی کوئی آوارہ بھولا بھٹکا بادل
عمر کے ترسے پیاسے دشت کی

پل میں پیاس بجھا جاتا ہے
کوئی نہ جانے
بعض اوقات ایک بھولی بسری ہوئی یاد بھی 
ایسے پوری ہو جاتی ہے 
جیسے غیر آباد جزیرے 
رستہ بھول کے آنے والے لوگوں سے بس جا تے ہیں


Friday, 19 October 2012

میں نے دیکھا دیوانوں کو شام کے بعد


میں نے دیکھا دیوانوں کو شام کے بعد
ڈھونڈھ رہے تھے ویرانوں کو شام کے بعد

تاریکی پھر سارے عیب چھپا لے گی
لے آنا گھر مہمانوں کو شام کے بعد

میں نے اس کا سوگ منایا کچھ ایسا 
خالی رکھا پیمانوں کو شام کے بعد

یاد کرے جب مجھ کو تیری تنہائی
دیکھا کرنا گلدانوں کو شام کے بعد

فرحت چاند کے خوف سے کر لیتا ہوں بند
کمرے کے روشندانوں کو شام کے بعد


Thursday, 20 September 2012

شام کے بعد



آنکھ بن جاتی ہے ساون کی گھٹا شام کے بعد 
لوٹ جاتا ہے اگر کوئی خفا شام کے بعد

وہ جو ٹل جاتی رہی سر سے بلا شام کے بعد
کوئی تو تھا کہ جو دیتا تھا دعا شام کے بعد

آہیں بھرتی ہے شب ہجر یتیموں کی طرح
سرد ہو جاتی ہے ہر روز ہوا شام کے بعد

شام تک قید رہا کرتے ہیں دل کے اندر
درد ہو جاتے ہیں سارے ہی رِہا شام کے بعد

لوگ تھک ہار کے سو جاتے ہیں لیکن جاناں
ہم نے خوش ہو کے ترا درد سہا شام کے بعد

شام سے پہلے تلک لاکھ سلائے رکھیں
جاگ اٹھتی ہے محبت کی انا شام کے بعد

خواب ٹکرا کے پلٹ جاتے ہیں بند آنکھوں سے
جانے کس جرم کی کس کو ہے سزا شام کے بعد

چاند جب رو کے ستاروں سے گلے ملتا ہے
اک عجب رنگ کی ہوتی ہے فضا شام کے بعد

ہم نے تنہائی سے پوچھا کہ ملو گی کب تک
اس نے بے چینی سے فوراً ہی کہا شام کے بعد

تم گئے ہو تو سیاہ رنگ کے کپڑے پہنے
پھرتی رہتی ہے مرے گھر میں قضا شام کے بعد

لوٹ آتی ہے مری شب کی عبادت خالی
جانے کس عرش پہ رہتا ہے خدا شام کے بعد

دن عجب مٹھی میں جکڑے ہوئے رکھتا ہے مجھے
مجھ کو اس بات کا احساس ہوا شام کے بعد

کوئی بھولا ہوا غم ہے جو مسلسل مجھ کو
دل کے پاتال سے دیتا ہے صدا شام کے بعد

مار دیتا ہے اجڑ جانے کا دہرا احساس
کاش ہو کوئی کسی سے نہ جدا شام کے بعد


Monday, 10 September 2012

ميرا شام سلونا شاہ پِيا



ميرا شام سلونا شاہ پِيا

کبھی جڑوں میں زہر اتار لِيا


کبھی لبوں کے پیچھے مار لِيا


اس ڈر سے کہ دُکھ کی شدت میں


کہیں نکل نہ جائے آہ پِيا

ميرا شام سلونا شاہ پِيا

ہمیں جنگل جنگل بھٹکا دو


ہمیں سُولی سُولی لٹکا دو


جو جی چاہے سو يار کرو


ہم پڑ جو گئے تيری راہ پِيا

ميرا شام سلونا شاہ پِيا

تيری شکل بصارت آنکھوں کی


تيرا لمس رياضت ہاتھوں کی


تيرا نام لبوں کی عادت ہے


ميری اک اک سانس گواہ پِيا

ميرا شام سالونا شاہ پِيا

کہیں روح میں پياس پُکارے گی


کہیں آنکھ میں آس پُکارے گی


کہیں خون کہیں دل بولے گا


کبھی آنا مقتل گاہ پِيا

ميرا شام سلونا شاہ پِيا


ہمیں مار گئی تيری چاہ پِيا


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets