Showing posts with label قتیل شفائی. Show all posts
Showing posts with label قتیل شفائی. Show all posts

Tuesday, 8 December 2015

ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ



ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ

ﭘﯿﺎﺭﺍ ﮔﺮ ﮨﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﮰﮐﺴﯽ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ

ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﮰ
ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮭﮑﺎﮰ

ﻭﮦ ﺻﻨﻢ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﺑﻦ ﮔﮱ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ


جاگ اٹھے تو آہیں بھریں گے
حسن والوں کو رسوا کریں گے

سو گئے ہیں جو فرقت کے مارے
ان کو بیدار کرنا منع ہے

ہم نے کی عرض اے بندہ پرور
کیوں ستم ڈھا رہے ہو ہم پر

بات سن کر ہماری وہ  بولے
ہم سے تکرار کرنا منع ہے

سامنے جو کھلا ہے جھروکا
کھا نہ جانا قتیل ان کا دھوکا

اب بھی اپنے لیے اس گلی میں
شوقِ دیدار کرنا منع ہے

ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ

ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ

Monday, 31 August 2015

آخر کیا مشکل میری پہچان میں ہے



مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے 
آخر کیا مشکل میری پہچان میں ہے 

اپنےہجر کے پسِ منظر میں جھانک مجھے 
میری سب روداد اِسی عنوان میں ہے 

کب سننے دیتی ہے شور سمندر کا 
پانی کی اِک بوند جو میرے کان میں ہے 

بن سوچے سمجھے توثیق نہیں کرتا 
کفر وہ شامل جو میرے ایمان میں ہے 

ٹانک دو اس میں اِک مصنوعی تتلی بھی 
کاغذ کا جو گلدستہ گلدان میں ہے 

حجرے میں گر کوئی بات ہوئی تو کیا 
تھوڑا سا شیطان تو ہرانسان میں ہے 

شوق تو یہ ہے آج کے فاتح کہلائیں 
جنگ ابھی تک ماضی کے میدان میں ہے 

پچھلی تحریروں کو بھول کے اے شاعر 
تیرا نیا قصیدہ کس کی شان میں ہے

Friday, 2 August 2013

مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے


مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے 
آخر کیا مشکل میری پہچان میں ہے 

اپنےہجر کے پسِ منظر میں جھانک مجھے 
میری سب روداد اِسی عنوان میں ہے 

کب سننے دیتی ہے شور سمندر کا 
پانی کی اِک بوند جو میرے کان میں ہے 

بن سوچے سمجھے تو ثیق نہیں کرتا 
کفر وہ شامل جو میرے ایمان میں ہے 

ٹانک دو اس میں اِک مصنوعی تتلی بھی 
کاغذ کا جو گلدستہ گلدان میں ہے 

حجرے میں گر کوئی بات ہوئی تو کیا 
تھوڑا ساشیطان تو ہرانسان میں ہے 

شوق تو یہ ہے آج کے فاتح کہلائیں 
جنگ ابھی تک ماضی کے میدان میں ہے 

پچھلی تحریروں کو بھول کے اے شاعر 
تیرا نیا قصیدہ کس کی شان میں ہے 

جس کے لیے میں غزلیں کہتا رہا قتیل 
اُس کا سارا حسن میرے دیوان میں ہے 

Thursday, 1 August 2013

چلو ترتیب دیتے ہیں محبت کی کہانی کو


وصل کی نغمہ سازی کو، ہجر کی نوحہ خوانی کو
چلو ترتیب دیتے ہیں محبت کی کہانی کو

تمہیں احساس ہو نہ ہو، مگر یہ اک حقیقت ہے
تمہی تخلیق کرتے ہو مییری شعلہ بیانی کو

سنو! لفظ محبت ایک ایسا اسم اعظم ہے
اسے پڑھ کر جو چاہوں میں، لگا دوں آگ پانی کو

بنا ڈالا تھا عادی تم نے سب ہی کو اپنی باتوں کا
قتیل! اب کون سمجھے گا تمھاری بے زبانی کو

Friday, 10 May 2013

دِل میں درد سُلگایا، آج رات پِھر میں نے



برف جیسے لمحوں کو دی ہے مات پِھر میں نے
دِل میں درد سُلگایا، آج رات پِھر میں نے

صُبح کے درِیچے میں جھانک اے شبِ ہِجراں
کر دِیا تجھے ثابت، بے ثبات پِھر میں نے

کیا کِسی نے دستک دی، پِھر کسی ستارے پر
رقص کرتے دیکھی ہے کائنات پِھر میں نے

اُٹھ کھڑا نہ ہو یارو! پھر نیا کوئی فِتنہ
چھیڑ دی ہے محفل میں اُس کی بات پِھر میں نے

شاید اِس طرح دنیا میری رہ پہ چل نکلے
قریہ قریہ بانٹی ہے اپنی ذات پِھر میں نے

بھر گیا قتیل اکثر جو ستارے آنکھوں میں
چاند رات کاٹی ہے اُس کے ساتھ پِھر میں نے

Monday, 29 April 2013

ہمیں تو ایک نظر سے نواز اے ساقی


ہم اپنی شام کو جب نذر_جام کرتے ہیں
ادب سے ہم کو ستارے سلام کرتے ہیں

گلے لگاتے ہیں دشمن کو بھی سرور میں ہم
بہت برے ہیں مگر نیک کام کرتے ہیں

سجائیں کیوں نہ اسے یہ سراۓ ہے دل کی
یہاں حسین مسافر قیام کرتے ہیں

حیات بیچ دیں تھوڑے سے پیار کے بدلے
یہ کاروبار بھی تیرے غلام کرتے ہیں

ہمیں تو ایک نظر سے نواز اے ساقی
ہم اپنے ہوش و خرد تیرے نام کرتے ہیں

"قتیل" کتنے سخن ساز ہیں یہ سناٹے
سکوت شب میں جو ہم سے کلام کرتے ہیں


Tuesday, 16 April 2013

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے


رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں

ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش
بوند تک بو نہ سکے جو کبھی صحراؤں میں

اے میرے ہمسفرو تم بھی تھکے ہارے ہو
دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں

جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
بٹ نہ جائے تیرا بیمار مسیحاؤں میں

حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

جس براہمن نے کہا ہےکہ یہ سال اچھا ہے
اس کو دفناؤ میرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

وہ خدا ہے تو کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہوگا
مسجدوں میں اسے ڈھونڈؤ نہ کلیساؤں میں

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

مجھ سے کرتے ہیں قتیل اس لئے کچھ لوگ حسد
کیوں میرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں


Sunday, 7 April 2013

اپنے ہاتھوں کی لکیروں‌میں بسا لے مجھ کو


اپنے ہاتھوں کی لکیروں‌میں بسا لے مجھ کو
میں تیرانصیب ہوں تو اپنا بنا لے مجھ کو

مجھ سے تو پوچھنے آیا وفا کے معنی
یہ تیری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

تو نے دیکھا نہیں آئینے کے آگے کچھ بھی
خودپرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو

کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
جتنا جی چاہے تیرا آج ستا لے مجھ کو

میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں جو ہوں پھول تو جوڑے میں سجالے مجھ کو

خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
کر دیا تو نے اگر میرے حوا لے مجھ کو

میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو


بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیل
شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو


Wednesday, 3 April 2013

وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح


کیا ہے جسے پیار ہم نے زندگی کی طرح
وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح

بڑھا کے پیاس میری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا
وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح

کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی
چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح

کبھی نہ سوچا تھا ہم نے قتیل اس کے لیے
کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہرکسی کی طرح

Sunday, 24 March 2013

کر رہے قریہ قریہ زندگی کی جستجو ، میں اور تُو



کر رہے قریہ قریہ زندگی کی جستجو ، میں اور تُو
ہو گئے آوارگی کے نام پر بے آبرو، میں اور تُو

تھے جہاں رسموں رواجوں کے اندھیروں پر فدا، اب اُس جگہ
معذرت بن کر کھڑے ہیں روشنی کے روبرو، میں اور تُو

کُچھ دنوں سے میں تری اور تُو مری مہمان ہے،کیا شان ہے
بن چکے ہیں عکسِ جاں اک دوسرے کا ہو بہو،میں اور تُو

آج کی ساری بہاریں آج کی ہر اک خزاں،نا مہرباں
رُت نئی کب آئے گی کب ہوں گے آخر سُرخرو ، میں اور تو

کل بھی اپنی ذات میں ہم سرمدو منصور تھے،مسرور تھے
کر رہے ہیں آج بھی ذوقِ انا کی آرزو، میں اور تُو

یہ ضروری تو نہیں حرف و صدا پُر زور ہو، اک شور ہو
بند ہونٹوں سے بھی کرتے آرہے ہیں گفتگو،میں اور تُو

اس گلستاں میں قتیل اب نغمگی کے رازداں،ہوں گے کہاں
دو ہی رہ جائیں گے باقی طائرانِ خوش گلو، میں اور تُو

رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں



رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
اُس کے چہرے کی تلاوت کر رہا ہُوں

لو خریدو اِک نظر کے مول مجھ کو
اپنی قیمت میں رعایت کر رہا ہُوں

لی ہے ضبط نے مجھ سے اجازت
اپنے مہمانوں کو رخصت کر رہا ہوں

چِھن گیا مُلکِ جوانی بھی تو کیا غم
اب بھی یادوں پر حکومت کر رہا ہوں

کوئی بھی غم اُس کو لوٹایا نہیں ہے
یوں امانت میں خیانت کر رہا ہوں

اُس نے تو بس اک ذرا سی بات چھیڑی
میں وضاحت پر وضاحت کر رہا ہوں

عشق کر کے آپ بھی بن جائیں انساں
شیخ صاحب کو نصیحت کر رہا ہوں

عاشقی طوفان گریہ چاہتی ہے
اور میں آہوں پر قناعت کر رہا ہوں

آسماں جو شخص ہے سب کی نظر میں
اُس کو چھو لینے کی جُرات کر رہا ہوں

میں نے دیکھا ہے قتیل اُ س کا سراپا
میں کہاں ذکرِ قیامت کر رہا ہوں

Sunday, 10 March 2013

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے


یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو
بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے

میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے

وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا
جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے

وہ میرا دوست ہے سارے جہاں‌کو ہے معلوم
دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے


میں اپنی ذات میں نیلام ہورہا ہوں قتیل
غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے

Sunday, 20 January 2013

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے


تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے

نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

چلو اچھا ہوا، کام آگئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

قتیل اپنا مقدّر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے


Monday, 17 September 2012

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو



اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو 
میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں ہوں گر پھول تو جُوڑے میں سجا لے مجھ کو

میں کُھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو

ترکِ الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے، مجھ کو

مجھ سے تُو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو

تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو

کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
جتنا جی چاہے ترا، آج ستا لے مجھ کو

باندھ کر سنگِ وفا کر دیا تو نے غرقاب
کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو

خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو

بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیل
شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو


Saturday, 15 September 2012

راہوں پہ نظر رکھنا ہونٹوں پہ دُعا رکھنا


راہوں پہ نظر رکھنا ہونٹوں پہ دُعا رکھنا
آ جائے کوئی شاید، دروازہ کُھلا رکھنا


احساس کی شمع کو، اِس طرح جلا رکھنا
اپنی بھی خبر رکھنا، اُس کا بھی پتہ رکھنا


راتوں کو بھٹکنے کی دیتا ہے سزا مُجھ کو
دُشوار ہے پہلُو میں، دل تیرے بِنا رکھنا


لوگوں کی نگاہوں کو پڑھ لینے کی عادت ہے
حالات کی تحریریں، چہرے سے بچا رکھنا


بُھولوں میں اگر اے دل! تُو یاد دِلا دینا
تنہائی کے لمحوں کا، ہر زخم ہرّا رکھنا


اِک بُوند بھی اشکوں کی دامن نہ بِھگو پائے
غم اُس کی امانت ہے، پلکوں پہ سجا رکھنا


اِس طرح قتیل اُس سے، برتاؤ رہے اپنا
وہ بھی نہ بُرا مانے، دل کا بھی کہا رکھنا


Thursday, 6 September 2012

آ جائے کوئی شاید، دروازہ کُھلا رکھنا



راہوں پہ نظر رکھنا ہونٹوں پہ دُعا رکھنا
آ جائے کوئی شاید، دروازہ کُھلا رکھنا

احساس کی شمع کو، اِس طرح جلا رکھنا
اپنی بھی خبر رکھنا، اُس کا بھی پتہ رکھنا

راتوں کو بھٹکنے کی دیتا ہے سزا مُجھ کو
دُشوار ہے پہلُو میں، دل تیرے بِنا رکھنا

لوگوں کی نگاہوں کو پڑھ لینے کی عادت ہے
حالات کی تحریریں، چہرے سے بچا رکھنا

بُھولوں میں اگر اے دل! تُو یاد دِلا دینا
تنہائی کے لمحوں کا، ہر زخم ہرّا رکھنا

اِک بُوند بھی اشکوں کی دامن نہ بِھگو پائے
غم اُس کی امانت ہے، پلکوں پہ سجا رکھنا

اِس طرح قتیل اُس سے، برتاؤ رہے اپنا
وہ بھی نہ بُرا مانے، دل کا بھی کہا رکھنا

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Blogger Wordpress Gadgets